قومی

Delhi High Court Judge initiates Criminal contempt action: اروند کیجریوال کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس جاری، جسٹس سورن کانتا شرما کا فیصلہ

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ کی جسٹس سورن کانتا شرما نے اروند کیجریوال کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا ہے۔ عدالت نے خبردارکیا کہ اگرکارروائی نہ کی گئی توانتشارپھیل جائے گا۔ دہلی کے سابق نائب وزیراعلیٰ منیش سسودیا اورعام آدمی پارٹی کے سینئرلیڈردرگیش پاٹھک کے خلاف بھی توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے گی۔ اس کے علاوہ سنجے سنگھ کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس بھی جاری کیا گیا۔

عدالت نے کہا کہ جب عدلیہ جیسے ادارے کوکٹہرے میں کھڑا کیا جاتا ہے تویہ جج کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اس بات کویقینی بنائے کہ بدنام کئے جانے کی کوششیں اس کے فیصلے پراثراندازنہ ہوں۔ جب اس عدالت نے جج کے معاملے سے الگ ہونے کا مطالبہ کرنے والی عرضی کی سماعت کی تھی، تب عدالت کی سمجھ یہ تھی کہ اس کے سامنے واحد مسئلہ عدالتی حکم کی درستگی اورتعصب کا اندیشہ تھا۔ تاہم، حکم جاری ہونے کے بعد، عدالت کوشدید صدمہ پہنچا۔ جباسے معلوم ہوا کہ خطوط، ویڈیوز، ریکارڈنگ اوردیگرمواد کوسوشل میڈیا پرشیئر کئے جا رہے تھے۔ عدالت نے کہا کہ کچھ مدعا علیہان درخواست کے زیرالتواء ہونے کے باوجود مواد اورمبینہ بیانیہ گردش کررہے تھے۔ عدالت کے اندر معاملہ زیرغورتھا، لیکن باہرڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے جج اورعدالت کے خلاف مسلسل نیریٹیو چلایا جارہا تھا۔

عدلیہ اورادارے کے وقارکوبرقراررکھنا چاہئے: ہائی کورٹ

عدالت نے واضح کیا کہ یہ کارروائی کسی ایک واقعہ یا ذاتی رنجش سے شروع نہیں کی گئی۔ عدالت نے کہا کہ جج کا عہدہ صبر، تحمل اورسکون کا تقاضا کرتا ہے۔ عدلیہ کے وقاراورادارے کے وقارکوبرقراررکھنا عدالت کا فرض ہے۔ عدالت نے کہا کہ مجوزہ حریفوں کے بیانات، خطوط اورمواد سے یہ ظاہرہوتا ہے کہ یہ صرف ایک جج کونہیں بلکہ عدلیہ کے پورے ادارے کو بدنام کرنے کے لیے ایک منظم مہم تھی۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ بعض افراد کوسیاسی اثرورسوخ اورعوامی حمایت حاصل تھی، جس کی وجہ سے وہ رائے عامہ پراثراندازہوسکتے ہیں۔ عدالت کے مطابق، عدلیہ کے خلاف مسلسل ایک نیریٹیو سیٹ کیا جا رہا تھا اوراسے ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعہ پھیلایا جا رہا تھا۔ جج کے خاندان کے افراد کو بھی جان بوجھ کرگھسیٹا گیا، تاکہ ان کی تذلیل کی جائے اورانہیں بدنام کیا جاسکے۔

عدالت نے واضح کیا کہ یہ محض ایک فرد پرذاتی حملہ نہیں بلکہ عدلیہ کی آزادی اوراستحکام کونقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔ عدالت نے کہا کہ عدلیہ کا ادارہ عوام کے اعتماد پرقائم ہے۔ ایک منصوبہ بند مہم کے ذریعہ اس اعتماد کومجروح کرنے کی کوئی بھی کوشش نظام انصاف کے لئے نقصان دہ ہے۔ عدالت نے کہا کہ توہین کی مہم چلائی گئی ہے۔ ایسی کوششیں صرف ایک جج کے خلاف نہیں بلکہ پورے عدالتی ادارے کی ساکھ اورآزادی پرحملہ ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

Modi’s Focus on Water Education: پانی کے تحفظ پر مودی حکومت کا بڑا زور، اسکولوں کے نصاب میں شامل ہوں گے آبی انتظام سے متعلق موضوعات

نئی دہلی میں ایمپاورڈ ٹاسک فورس (ETF) کے 20ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سی…

5 hours ago

UDMA Day 2026: جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اُڈما ڈے 2026 کا انعقاد 10 اکتوبر سے، یونانی طب، ادویہ سازی، تحقیق، تعلیم اور صحت سے وابستہ نمائندگان کی شرکت

میلے میں ڈسٹری بیوٹرز اور ایجنسیوں کو کمپنی مالکان اور سینئر نمائندگان سے براہِ راست…

5 hours ago

INDIA Alliance Protest: ایس آئی آر کے خلاف اپوزیشن کا ملک گیر احتجاج، پٹنہ میں تیجسوی کا مارچ، لکھنؤ اور بنگلورو میں بھی مظاہرے

بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں اپوزیشن کے ’انڈیا‘ اتحاد کے لیڈروں نے سڑکوں پر اتر…

5 hours ago