قومی

Global Mediation Conference: کاروباری تنازعات کے حل میں ’میڈی ایشن‘ ناگزیر اور ایک مؤثر سائنس: جسٹس جے۔کے۔ مہیشوری

 برطانیہ کی معروف میڈی ایشن فرم Resolveify کی جانب سے منعقدہ کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ آف انڈیا کے معزز جج جسٹس جے۔کے۔ مہیشوری نے کہا کہ کمرشیل اور کاروباری تنازعات کے مؤثر، تیز اور پائیدار حل کے لیے میڈی ایشن اب محض ایک متبادل طریقہ نہیں بلکہ ایک منظم اور سائنسی عدالتی عمل بن چکا ہے، جسے موجودہ قانونی نظام میں لازمی حیثیت حاصل ہو رہی ہے۔ وہ دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں منعقدہ گلوبل میڈی ایشن کانفرنس سے بحیثیت مہمانِ خصوصی خطاب کر رہے تھے۔ جسٹس مہیشوری نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ میڈی ایشن صرف ایک رسمی کارروائی نہیں بلکہ ایک ایسا سائنس بیسڈ جسٹس میکانزم ہے جو فریقین کے درمیان اعتماد، مکالمے اور باہمی مفاہمت کو فروغ دیتا ہے، خصوصاً تجارتی اور کاروباری معاملات میں جہاں طویل عدالتی کارروائیاں تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہیں۔

میڈی ایشن کی ہندوستانی تہذیب اور قدیم تاریخ کی مثالیں

جسٹس مہیشوری نے میڈی ایشن کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے ہندوستانی تہذیب اور قدیم تاریخ کی مثالیں پیش کیں۔ انہوں نے قدیم تا ریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تریتا یُگ میں جامباؤن پہلے شخص تھے جس نے بھگوان رام چندر کو امن کے لیے میڈی ایشن کا مشورہ دیا، جس کے تحت انگد کو راون کے دربار میں سفیر بنا کر بھیجا گیا۔ اسی طرح ددواپر یُگ میں شری کرشن نے کورَووں اور پانڈوؤں کے درمیان جنگ روکنے کے لیے ایک ماہر میڈی ایٹر کا کردار ادا کیا۔ تاہم، دونوں ہی مواقع پر میڈی ایٹر کا ایک فریق سے قریبی تعلق ہونے کے باعث غیر جانبداری پر سوال اٹھا اور ثالثی کامیاب نہ ہو سکی۔ جسٹس مہیشوری نے اس نکتے پر زور دیا کہ مؤثر میڈی ایشن کے لیے غیر جانب داری اور اعتماد بنیادی شرط ہے۔

کانفرنس میں قانونی، عدالتی اور سماجی شعبوں کی متعدد ممتاز شخصیات کی شرکت

کانفرنس میں قانونی، عدالتی اور سماجی شعبوں کی متعدد ممتاز شخصیات نے شرکت کی، جن میں اسٹورٹ ہینسن، پردیپ رائے، ترون رانا، اتل سنگھل سمیت دیگر نامور ماہرین شامل تھے۔ سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس (ریٹائرڈ) وینیت شرن نے اپنے خطاب میں جدید قانونی ڈھانچے میں میڈی ایشن کی بڑھتی ہوئی افادیت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ یہ نظام نہ صرف انصاف کی فراہمی کو تیز کرتا ہے بلکہ تنازعات کے انسانی پہلو کو بھی ملحوظ رکھتا ہے۔ وہیں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر آدیش اگروال نے وکلا اور قانونی پیشہ وروں پر زور دیا کہ وہ میڈی ایشن کی عملی مہارتیں سیکھیں اور عدالتی نظام کے ساتھ ساتھ متبادل تنازعہ حل (ADR) کو بھی فروغ دیں۔ کانفرنس کے منتظم اور برطانیہ میں بطور پیشہ ور میڈی ایٹر خدمات انجام دینے والے ایڈوکیٹ چِراغ مِتّل نے بتایا کہ ان کی تنظیم کا بنیادی مقصد عالمی سطح پر تنازعات کے تیز، کم خرچ اور خوشگوار حل کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔ کانفرنس کے اختتام پر تمام مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ عدالتوں کے باہر تنازعات کے حل سے نہ صرف عدلیہ پر بوجھ کم ہوگا بلکہ کاروباری دنیا میں اعتماد، تعاون اور دیرپا تعلقات کو بھی فروغ ملے گا، جو ایک مضبوط اور متوازن معاشی نظام کے لیے ناگزیر ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

National Ayurveda Day 2026: ’دنیا کے لیے پائیدار صحت کا ماڈل ہے بھارت کا آیوروید‘، قومی آیوروید دن پر امت شاہ نے کیا کہا؟

قومی آیوروید دن کے موقع پر مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے ملک…

37 minutes ago

Ayushman Bharat 8 Years: ’دنیا کی سب سے بڑی ہیلتھ اسکیم‘، آیوشمان بھارت کے 8 سال مکمل ہونے پر پی ایم مودی نے کیا کہا؟

مرکزی حکومت کی اہم اور دنیا کی سب سے بڑی صحت بیمہ اسکیم ’آیوشمان بھارت‘…

50 minutes ago

Gold Flake Cigarettes Get Costlier: گولڈ فلیک سگریٹ ہوئی مہنگی، جانئے 10 اور 20 سگریٹ والے پیکٹ کی نئی قیمت

سگریٹ کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ رواں سال نافذ کیا گیا نیا…

2 hours ago