مکیش امبانی کی جیو پلیٹ فارمز نے شیئر بازار میں قدم رکھتے ہی ایک بڑا ریکارڈ اپنے نام کرلیا ہے۔ آئی پی او سے پہلے جس کمپنی کے پاس صرف 104 شیئر ہولڈرز تھے، اس کے شیئر بازار میں لسٹ ہوتے ہی یہ تعداد بڑھ کر 79.6 لاکھ ہوگئی۔ اس طرح جیو ہندوستانی شیئر بازار میں سب سے زیادہ شیئر ہولڈرز والی کمپنی بن گئی ہے۔ سرمایہ کاروں کی اس زبردست دلچسپی نے بازار میں جیو کی بحث کو مزید بڑھا دیا ہے۔ کمپنی کے آئی پی او کو سرمایہ کاروں کی جانب سے شاندار ردعمل ملا۔ اس کے لیے 1.38 کروڑ سے زیادہ درخواستیں موصول ہوئیں، جبکہ اینکر اور عوامی سرمایہ کاروں کی جانب سے مجموعی طور پر 7.4 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی مانگ درج کی گئی۔ لسٹنگ کے دن جیو کے شیئر 1,119 روپے کی ایشو قیمت کے مقابلے 1,358 روپے پر کھلے۔ یعنی سرمایہ کاروں کو شروعات میں ہی 21.36 فیصد کا فائدہ ملا۔ کاروبار ختم ہونے تک شیئر کی قیمت بڑھ کر 1,417.35 روپے ہوگئی۔ اس کے ساتھ کمپنی کی مارکیٹ کیپ 12.53 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔
شیئر ہولڈرز کی تعداد میں ان کمپنیوں کو پیچھے چھوڑا
جیو کے شیئر ہولڈرز کی تعداد اب کئی بڑی کمپنیوں سے زیادہ ہوگئی ہے۔ اس معاملے میں ٹاٹا موٹرز پیسنجر وہیکلز تقریباً 66.3 لاکھ شیئر ہولڈرز کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ وہیں ووڈافون آئیڈیا کے پاس تقریباً 57.9 لاکھ اور یس بینک کے پاس 57.6 لاکھ شیئر ہولڈرز ہیں۔ سوزلون انرجی کے تقریباً 56 لاکھ شیئر ہولڈرز ہیں، جبکہ ٹاٹا اسٹیل کے پاس 51.4 لاکھ سرمایہ کار ہیں۔ جیو کی پیرنٹ کمپنی ریلائنس انڈسٹریز کے شیئر ہولڈرز کی تعداد بھی تقریباً 50.7 لاکھ ہے۔ اس کے علاوہ IRFC، جیو فنانشیل سروسز اور HDFC بینک کے نام بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔ لسٹنگ تقریب میں جیو پلیٹ فارمز کے ڈائریکٹر اننت امبانی نے نئے شیئر ہولڈرز کا استقبال کیا اور کمپنی کی ترقی پر اعتماد ظاہر کرنے والے سرمایہ کاروں اور صارفین کا شکریہ ادا کیا۔
دوسرے بڑے آئی پی او کے مقابلے جیو کتنی آگے؟
جیو کے شیئر ہولڈرز کی تعداد دوسرے بڑے آئی پی او والی کمپنیوں کے مقابلے میں بھی کافی زیادہ ہے۔ ستمبر 2026 تک بجاج ہاؤسنگ فنانس کے تقریباً 22.4 لاکھ، ایل آئی سی کے 21.7 لاکھ اور ٹاٹا کیپٹل کے تقریباً 11.5 لاکھ شیئر ہولڈرز تھے۔ وہیں ہنڈائی موٹر انڈیا کے پاس تقریباً 7.2 لاکھ سرمایہ کار تھے۔
آئی پی او سے حاصل رقم کا کیا کرے گی کمپنی؟
جیو کے آئی پی او میں 27 کروڑ نئے شیئر جاری کیے گئے۔ اس میں موجودہ سرمایہ کاروں کی جانب سے اپنی حصے داری فروخت کرنے کا کوئی اختیار شامل نہیں تھا۔ کمپنی کا منصوبہ ہے کہ آئی پی او سے حاصل ہونے والی رقم میں سے 27,500 کروڑ روپے تک ریلائنس جیو انفو کام کا قرض چکانے یا اس کی مدت پوری ہونے سے پہلے ادائیگی کرنے کے لیے استعمال کیے جائیں۔ جیو کی اس لسٹنگ سے ریلائنس گروپ کی رسائی اب مزید انفرادی سرمایہ کاروں تک ہوگئی ہے۔ تاہم، شیئر ہولڈرز کی تعداد میں ریکارڈ قائم ہونے کے باوجود سرمایہ کاروں کے لیے شیئر کی قیمت، کمپنی کی کارکردگی اور مستقبل کے امکانات پر نظر رکھنا ضروری ہوگا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
سماجوادی پارٹی کے سینئرلیڈراعظم خان اورعبداللہ اعظم کوالہ آباد ہائی کورٹ نے دوپین کارڈ کیس…
جیو پلیٹ فارمز کی شیئر بازار میں لسٹنگ کے موقع پر اننت امبانی کی تقریر…
کیپٹینسی ٹاسک کے دوران بگ باس 20 کے گھر میں اس وقت ماحول گرم ہوگیا،…
وزیر اعظم نریندر مودی 30 اکتوبر کو گجرات کے بناس کانٹھا سے پی ایم کسان…
ایم ایل سی انتخابات 2026 میں بی جے پی اور این ڈی اے نے مجموعی…
اوما بلے اور گیند دونوں سے ٹیم کے لیے اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت…