قومی

جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے نیپال میں امن اور فوری اصلاحات کی اپیل کی

جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے نیپال کی صورت حال پر اظہار خیال کرتے ہوئے حکام و مظاہرین سے اپیل کی ہے کہ وہ مسائل کو پُرامن طریقوں اور بات چیت کے ذریعے حل کریں۔ اپنے بیان میں انھوں نے کہا کہ ’’نیپال کی صورت حال ہم سب کے لیے فکر مندی کا باعث ہے۔ دوران احتجاج فریقین کی جانب سے ہونے والا تشدد ناقابلِ قبول اور انتہائی افسوس ناک ہے۔ بہت سے نوجوان احتجاج کے دوران اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ ہم ان قیمتی جانوں کے نقصان پر اپنے رنج و غم کا اظہار کرتے ہیں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں۔ ہم ان سیاسی رہنماؤں اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ بھی تعزیت کرتے ہیں جنھوں نے اس انتشار میں اپنی جانیں کھوئیں ہیں۔ ریاستی جبر ہو یا پرتشدد احتجاج، دونوں ہی سماج کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیلتے ہیں۔‘‘

سعادت اللہ حسینی نے زور دیا کہ یہ بحران ایک گہرے مرض کی نشاندہی کرتا ہے ۔ کرپشن، اقربا پروری، میڈیا پر بے جا کنٹرول، معاشی بدحالی، ذات پات کی بنیاد پر امتیاز، بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور نوجوانوں کی بے چینی نے نیپال میں صورت حال کو سنگین بنا دیا ۔ انھوں نے کہا کہ ’’اس طرح کی صورت حال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ارباب اقتدار عوام کی آواز کو ہمدردی اور ذمہ داری کے ساتھ سننے کے بجائے، ان کو آمرانہ طریقوں اور میڈیا کنٹرول کے ذریعے دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔ نیپال کا موجودہ بحران تمام حکومتوں کے لیے ایک سبق ہے کہ جب بھی کرپشن، ناانصافی، میڈیا پر سینسرشپ اور عوام کی آواز کو دبایا جاتا ہے اور نوجوانوں کے مطالبات پر کان نہیں دھرا جاتا تو سماج میں مختلف مسائل کے سبب پائی جانے والی مایوسی خطرناک شکل اختیار کرلیتی ہے، جس سے اکثر اوقات امن و استحکام کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔ اصل کامیاب قیادت وہ ہے جو مخالفین و ناقدین کو خاموش کرانے کے بجائے انصاف اور ہمدردی کے ساتھ مسائل کو سننے اور ان کے ازالہ کی سنجیدہ کوششیں کرے۔ ارباب اقتدار کو اپنے اندر خدا اور تاریخ کے سامنے جواب دہی کے احساس کو ہمیشہ زندہ رکھنا چاہیے۔‘‘

سعادت اللہ حسینی نے مزید کہا کہ نیپال کے جمہوریت پسند عوام نے بادشاہت کے خلاف ایک طویل اور سخت جدوجہد کی تھی۔ اس بات کا خاص خیال رکھا جانا چاہیے کہ موجودہ احتجاجی مظاہرے جمہوریت کی تجدید کا سبب بنیں، نہ کہ جاگیردارانہ آمریت یا اکثریتی جبر کی طرف واپسی ہو۔ اگر ماضی کے تلخ تجربات کو نظرانداز کیا گیا تو نیپال میں مشکل سے حاصل کی گئی جمہوریت پھر خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ اپنے بیان کے اختتام پر سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ حقیقی استحکام طاقت کے ذریعے حاصل نہیں کیا جا سکتا بلکہ صرف انصاف، جواب دہی اور عوام کے حقوق کے احترام کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ سیاسی اصلاحات کے ساتھ ساتھ اخلاقی ذمہ داری اور خوف خدا کی بھی تجدید ضروری ہے تاکہ رہنما اور عوام دونوں درست سمت میں گامزن ہو سکیں۔ جماعت اسلامی ہند نیپال کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتی ہے اور جانوں کے تحفظ، جمہوری حقوق کے قیام اور امن و خوش حالی پر مبنی مستقبل کی تعمیر کے لیے فوری اقدامات کی اپیل کرتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Bharat Express

Recent Posts

Prime Minister Narendra Modi: پی ایم مودی نے فلائی دبئی کے زخمی کیپٹن اسمت مچھارسے کی بات، بہادری کو سراہا

تبوک میں طیارے کی ہنگامی لینڈنگ کے بعد کیپٹن اسمت  مچھار کو فوری طبی امداد…

2 minutes ago

Yuzvendra Chahal Announcement: یوزویندر چہل کے اچانک ریٹائرمنٹ سے کرکٹ کی دنیا حیران، جانیے کیوں لیا ریڈ بال چھوڑنے کا فیصلہ؟

نارتھمپٹن شائر اور ہندوستانی ٹیم کے اسٹار لیگ اسپنر یوزویندر چہل نے ریڈ بال کرکٹ…

49 minutes ago

Nushrratt Bharuccha Health Update: نُسرت بھروچا کے بالی حادثے پر باضابطہ بیان جاری، ٹیم نے بتایا- ریڑھ کی ہڈی میں فریکچر

نُسرت بھروچا کے فلمی کیریئر پر نظر ڈالیں تو انہوں نے ’پیار کا پنچ نامہ‘…

50 minutes ago