جمشیدپور میں معروف تاجر دیوانگ گاندھی کے 24 سالہ بیٹے کیرو گاندھی کے اغوا کو پانچ دن گزر چکے ہیں، لیکن اب تک جھارکھنڈ پولیس کے ہاتھ کوئی ٹھوس کامیابی نہیں لگ سکی ہے۔ اس واقعے نے نہ صرف شہر میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا کر دیا ہے بلکہ پولیس کی کارکردگی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
پولیس کی تفتیش، مگر سوال برقرار
کیرو گاندھی کے لاپتہ ہونے کے بعد پولیس مسلسل چھاپے مارنے اور تفتیش تیز کرنے کے دعوے کر رہی ہے۔ ہفتہ کی دیر رات شبہ کی بنیاد پر تین افراد کو حراست میں ضرور لیا گیا ہے، لیکن اغوا شدہ نوجوان کہاں ہے، اس کا جواب اب بھی معمہ بنا ہوا ہے۔ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کیس کی جانچ کے لیے سات خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جو جھارکھنڈ کے ساتھ ساتھ بہار، مغربی بنگال اور اڑیسہ میں بھی چھان بین کر رہی ہیں۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کھنگالی جا رہی ہیں اور کال ڈیٹا کی جانچ جاری ہے، مگر اغوا کار تاحال پولیس کی گرفت سے باہر ہیں۔
غیر ملکی نمبر سے کال، کیس مزید پیچیدہ
اطلاعات کے مطابق اغوا کے فوراً بعد اہل خانہ کو ایک غیر ملکی نمبر سے فون آیا تھا، جس میں پانچ کروڑ روپے کی مانگ کی گئی۔ اس ’’انٹرنیشنل کنکشن‘‘ نے کیس کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس میں کسی منظم بین ریاستی گروہ کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔
کیا یہی سرمایہ کاری کا ماحول ہے؟
اس واقعے نے جھارکھنڈ کی سیاست میں بھی ہلچل مچا دی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے ریاست کی قانون و انتظام کی صورتحال پر ہیمنت سورین حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ مرکزی وزیر مملکت برائے دفاع سنجے سیٹھ نے کہا کہ جب ریاست میں معزز اور بااثر خاندانوں کے بچے محفوظ نہیں ہیں تو عام شہریوں کی سلامتی کا کیا حال ہوگا؟ انہوں نے وزیراعلیٰ کے غیر ملکی دوروں پر بھی طنز کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف حکومت سرمایہ کاروں کو بلانے کی بات کر رہی ہے اور دوسری طرف زمینی حقیقت یہ ہے کہ لوگ خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔
’’جنگل راج‘‘ کی واپسی؟ بابولال مرانڈی کا حملہ
جھارکھنڈ کے سابق وزیراعلیٰ اور اپوزیشن لیڈر بابولال مرانڈی نے سوشل میڈیا پر اس صورتحال کو 90 کی دہائی کے ’’جنگل راج‘‘ سے تشبیہ دی۔ انہوں نے لکھا کہ ریاست میں غریبوں کا اغوا اسمگلنگ کے لیے اور امیروں کا اغوا پیسوں کے لیے کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے رانچی کے اور مانجھی سے لاپتہ 12 سالہ بچے کنہیا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دو ماہ گزرنے کے باوجود اس کا بھی کوئی سراغ نہیں ملا۔
امت شاہ سے مداخلت کی اپیل
معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے جمشیدپور مغربی سے رکن اسمبلی سریُو رائے نے براہ راست مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر امت شاہ کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا کہ یہ صرف پیسے کا معاملہ نہیں بلکہ ایک نوجوان کی زندگی کا سوال ہے۔ سریو رائے کا کہنا ہے کہ اس کیس میں کسی بڑے بین ریاستی گینگ کے ملوث ہونے کا خدشہ ہے، جس سے نمٹنا مقامی پولیس کے بس کی بات نہیں لگتی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مرکزی تفتیشی ایجنسیوں کو فوری طور پر اس معاملے میں متحرک کیا جائے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر کیپٹن…
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹس نے ٹریک اینڈ فیلڈ میں دو سلور اور…
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…
انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب میں ایرانی صدر نے امریکہ…
آئی بی سی کے ذریعے ممبئی کے ٹیک ٹین بی کے سی اور بھارت نگر…