قومی

Kashmiri Pandits: ’’کشمیری پنڈتوں کے بغیر جموں و کشمیر ادھورا‘‘ فاروق عبداللہ نے ہجرت کو سب سے بڑا نقصان قرار دیا، واپسی کی جذباتی اپیل

سری نگر/نئی دہلی: فاروق عبداللہ، صدر جموں اینڈ کشمیر نیشنل کانفرنس اور سابق وزیراعلیٰ جموں و کشمیر نے وادی کے قدیم سماجی توازن کی بحالی پر زور دیتے ہوئے کشمیری پنڈتوں کی واپسی کی پرزور اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر تمام مذاہب اور برادریوں کا مشترکہ گھر ہے اور پنڈتوں کے بغیر اس کی شناخت نامکمل ہے۔

کشمیری پنڈتوں کی واپسی پر زور

ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے، جہاں معروف کشمیری پنڈت ڈاکٹر سشیل راجدان کی کتاب کی رونمائی کی گئی، فاروق عبداللہ نے کہا کہ 1990 کی دہائی میں کشمیری پنڈتوں کی بڑے پیمانے پر ہجرت اس خطے کے لیے سب سے بڑا نقصان ثابت ہوئی۔ انہوں نے کہا: ’’میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ جو لوگ یہاں سے چلے گئے، وہ اپنے گھروں کو واپس لوٹیں اور ایک بار پھر خوشحال زندگی گزاریں۔ ہم نے بہت کچھ کھو دیا ہے۔ کشمیر ہندو، مسلم اور سکھ سب کا ہے، یہی اس کی اصل پہچان ہے۔‘‘ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایک دن کشمیر دوبارہ اپنے پرانے بھائی چارے، ہم آہنگی اور ثقافتی حسن کے ساتھ بحال ہوگا۔

1990 کی ہجرت: ایک تاریخی پس منظر

واضح رہے کہ 1990 میں دہشت گردی کے آغاز کے بعد تقریباً 57 ہزار خاندانوں کو وادی چھوڑنی پڑی تھی، جن میں بڑی تعداد کشمیری پنڈتوں کی تھی۔ یہ خاندان جموں، دہلی اور ملک کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ یہ ہجرت نہ صرف انسانی المیہ تھی بلکہ اس نے کشمیر کی صدیوں پرانی گنگا-جمنی تہذیب کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔ دوسری جانب جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے خطے میں بڑھتے ہوئے منشیات کے کاروبار پر سخت موقف اختیار کیا ہے۔ انہوں نے منشیات کی اسمگلنگ کو دہشت گردی سے جوڑتے ہوئے اسے نوجوانوں کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ منشیات کا نیٹ ورک دراصل ایک منظم سازش کا حصہ ہے، جس کا مقصد نوجوانوں کو تباہ کرنا اور دہشت گردی کو مالی مدد فراہم کرنا ہے۔

’نشہ مکت بھارت‘ مہم اور 3-P حکمت عملی

لیفٹیننٹ گورنر نے وزیراعظم نریندر مودی کے ’’نشہ مکت بھارت ابھیان‘‘ کو آگے بڑھاتے ہوئے 11 اپریل سے ایک خصوصی ’’3-P‘‘ حکمت عملی شروع کی ہے جس میں منشیات کی سپلائی چین اور نارکو ٹیرر نیٹ ورک کا خاتمہ، عوامی سطح پر بیداری اور تعلیم کے ذریعے آگاہی، نشے کے شکار افراد کا علاج اور بازآبادکاری شامل ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس مہم کو عوامی تحریک میں تبدیل کیا جا رہا ہے، تاکہ نہ صرف منشیات کے عادی افراد کو مرکزی دھارے میں واپس لایا جا سکے بلکہ سرحدی علاقوں میں دہشت گردی کی مالی سپلائی کو بھی ختم کیا جا سکے۔

ابتدائی کامیابیاں اور مستقبل کا لائحہ عمل

حکام کے مطابق پولیس، انتظامیہ اور عوام کے درمیان بہتر تال میل کے باعث اس مہم میں ابتدائی کامیابیاں بھی حاصل ہوئی ہیں۔ حکومت کا ہدف ہے کہ جموں و کشمیر کو منشیات سے پاک بنانے کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے مالی ذرائع کو بھی جڑ سے ختم کیا جائے۔ اس تناظر میں فاروق عبداللہ کی جانب سے سماجی ہم آہنگی کی بحالی کی اپیل اور حکومت کی جانب سے منشیات کے خلاف سخت اقدامات، دونوں کو خطے کے بہتر مستقبل کی سمت اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Netanyahu Invites PM Modi & Captain Smit: اسرائیل کے یوم آزادی پر پی ایم مودی اور کیپٹن اسمت مچھار کو خصوصی دعوت، نیتن یاہو نے فون پر کی بات

اسرائیلی وزیر اعظم نے 174 مسافروں کی جان بچانے والے بھارتی پائلٹ کی بہادری کو…

8 hours ago

PM Modi Public Service Exhibition: گجرات میں وزیر اعظم مودی کے 25 سالہ عوامی خدمت کے سفر کی نمائش، وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل نے کیا معائنہ

پنڈت دین دیال آڈیٹوریم میں منعقد ’وکست گجرات سے وکست بھارت‘ کے عنوان سے اس…

8 hours ago