قومی

JMI students reject administration’s notice: جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ نے انتظامیہ کا نوٹس کیا مسترد، کہا-’’مطالبہ پورا ہونے تک جاری رہے گا احتجاج‘‘

’’طلبہ کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کے نوٹس میں طلبہ یونین کی بحالی کے حوالے سے کوئی واضح یقین دہانی نہیں کرائی گئی، جب کہ یہ ان کی تحریک کا بنیادی مطالبہ ہے۔ ان کے مطابق نوٹس میں مبہم یقین دہانی کرائی گئی ہیں اور طلبہ یونین کے آئین کی منظوری کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں کیا گیا۔ اس کے علاوہ یونین کے انتخابات کرانے کے لیے بھی کوئی واضح لائحہ عمل پیش نہیں کیا گیا۔ احتجاجی طلبہ نے یہ بھی کہا کہ نوٹس میں پروکٹر اور سکیورٹی ایڈوائزر کے استعفے سے متعلق ان کے مطالبات کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔‘‘

نئی دہلی: جامعہ ملیہ اسلامیہ کے احتجاج کررہے طلبہ نے یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹس کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ان کی 14 روزہ تحریک اس وقت تک جاری رہے گی، جب تک تمام مطالبات پورے نہیں کیے جاتے۔ طلبہ کے اہم مطالبات میں طلبہ یونین کی بحالی اور انتخابات کے لیے ایک متعین تاریخ یا واضح وقت مقرر کرنا شامل ہے۔ طلبہ نے یہ بھی واضح کیا کہ بھوک ہڑتال پر بیٹھے طلبہ اپنی ہڑتال جاری رکھیں گے۔ احتجاجی طلبہ نے ان میڈیا رپورٹس کو بھی مسترد کردیا، جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ طلبہ نے انتظامیہ کی یقین دہانی قبول کرتے ہوئے احتجاج ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسی خبریں انتظامیہ کے موقف پر مبنی ہیں اور احتجاج کرنے والے طلبہ کی اصل پوزیشن کی عکاسی نہیں کرتیں۔

طلبہ یونین کی بحالی کے لیے واضح یقین دہانی کا مطالبہ

طلبہ کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کے نوٹس میں طلبہ یونین کی بحالی کے حوالے سے کوئی واضح یقین دہانی نہیں کرائی گئی، جب کہ یہ ان کی تحریک کا بنیادی مطالبہ ہے۔ ان کے مطابق نوٹس میں مبہم یقین دہانیاں دی گئی ہیں اور طلبہ یونین کے آئین کی منظوری کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں کیا گیا۔ اس کے علاوہ یونین کے انتخابات کرانے کے لیے بھی کوئی واضح لائحہ عمل پیش نہیں کیا گیا۔ احتجاجی طلبہ نے یہ بھی کہا کہ نوٹس میں پروکٹر اور سکیورٹی ایڈوائزر کے استعفے سے متعلق ان کے مطالبات کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔ طلبہ کے مطابق محض عمومی یقین دہانیوں اور غیر واضح بیانات کو مطالبات کی تکمیل نہیں سمجھا جاسکتا۔ طلبہ نے اپنے بیان میں کہا، ’’ہمیں پختہ یقین ہے کہ عمومی یقین دہانیوں اور مبہم بیانات کو ہمارے مطالبات کی تکمیل نہیں مانا جاسکتا۔ انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ تمام زیر التوا مسائل، خصوصاً طلبہ یونین کی بحالی اور انتخابی عمل کے لیے ایک واضح مدت کے تعین کے سلسلے میں مناسب وقت مقرر کرتے ہوئے تحریری یقین دہانی جاری کرے۔‘‘

تحریری یقین دہانی ملنے تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان

احتجاجی طلبہ نے مطالبہ کیا کہ انتظامیہ تمام زیر التوا مسائل پر ٹھوس فیصلے کرے اور ان پر عمل درآمد کے لیے واضح مدت مقرر کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ محض نوٹس جاری کردینا احتجاج ختم کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ طلبہ نے ایک بار پھر واضح کیا کہ جب تک انتظامیہ طلبہ یونین کی بحالی کے بارے میں تحریری یقین دہانی نہیں کراتی، انتخابات کے لیے واضح وقت مقرر نہیں کرتی اور دیگر مطالبات پر کارروائی نہیں کرتی، اس وقت تک احتجاج جاری رہے گا۔ طلبہ نے کہا، ’’ہم ایسی مبہم یقین دہانیوں یا غیر واضح نوٹس کو قبول نہیں کریں گے، جن میں بنیادی مسئلے کو حل کیے بغیر چھوڑ دیا جائے۔‘‘ طلبہ اور ان کے نمائندوں نے احتجاج ختم ہونے سے متعلق دعووں کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تمام مطالبات پر ٹھوس فیصلے اور ان پر عمل درآمد کے لیے واضح مدت طے ہونے تک تحریک جاری رہے گی۔

آئین کی منظوری کے 15 دن بعد انتخابات کرانے کا ہوا تھا اعلان

اس سے قبل پیر کو جامعہ ملیہ اسلامیہ انتظامیہ نے اعلان کیا کہ تقریباً دو دہائیوں کے بعد طلبہ یونین کے انتخابات کرائے جائیں گے۔ یہ اعلان کیمپس میں کئی روز سے جاری احتجاج اور طلبہ کی بھوک ہڑتال کے بعد سامنے آیا۔ طلبہ منتخب طلبہ یونین کی بحالی اور انتخابی عمل کے لیے واضح وقت مقرر کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے 26 اکتوبر کو جاری کردہ حکم نامے میں کہا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ طلبہ یونین کے آئین کی منظوری کی تاریخ سے 15 دن بعد انتخابات کرائے جائیں گے۔ تاہم، احتجاجی طلبہ کا کہنا ہے کہ اس حکم نامے میں آئین کی منظوری یا انتخابات کے انعقاد کے لیے کوئی حتمی تاریخ مقرر نہیں کی گئی، جس کی وجہ سے ان کے خدشات برقرار ہیں۔ یہ حکم نامہ رجسٹرار پروفیسر مہتاب عالم رضوی نے مجاز اتھارٹی کی جانب سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے طلبہ اور ان کے نمائندوں کے 26 اکتوبر کو پیش کردہ مطالباتی خط پر غور کے بعد جاری کیا۔ حکم نامے میں کہا گیا، ’’جامعہ ملیہ اسلامیہ طلبہ یونین کے انتخابات، طلبہ یونین کے آئین کی منظوری کی تاریخ سے 15 دن بعد منعقد ہوں گے۔‘‘

2006 میں تحلیل کی گئی تھی طلبہ یونین

جامعہ ملیہ اسلامیہ کی طلبہ یونین کو یونیورسٹی انتظامیہ نے 2006 میں تحلیل کردیا تھا۔ اس کی بحالی کا مطالبہ طویل عرصے سے کیا جارہا ہے۔ تقریباً دو دہائیوں بعد انتخابات کرانے کا اعلان کیمپس میں منتخب طلبہ نمائندگی کی بحالی کی جدوجہد کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے۔ تازہ حکم نامے کے بعد انتظامیہ اور احتجاجی طلبہ کے درمیان بعض مطالبات پر پیش رفت ضرور ہوئی ہے، لیکن طلبہ یونین کے آئین کی منظوری کے عمل سے متعلق غیر یقینی صورت حال اب بھی برقرار ہے۔ احتجاجی طلبہ کا اصرار ہے کہ جب تک اس معاملے میں واضح فیصلہ اور انتخابی عمل کے لیے متعین مدت کا اعلان نہیں کیا جاتا، احتجاج ختم نہیں کیا جائے گا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

BRICS Parliamentary Forum: برکس پارلیمانی فورم کے افتتاحی اجلاس میں پہنچے وزیراعظم مودی، غیر ملکی وفود کا کیا استقبال

دو روزہ 12ویں برکس پارلیمانی فورم کی میزبانی ہندوستانی پارلیمنٹ کررہی ہے۔ اس میں برکس…

6 minutes ago

Rahul Gandhi Wins 2018 Defamation Case: راہل گاندھی 6 سال بعد ہتکِ عزت کے مقدمے میں کیسے ہوئے بری؟ یہ 2 نکات بنے اہم

سلطان پور کی خصوصی ایم پی-ایم ایل اے عدالت میں راہل گاندھی کارروائی شروع ہونے…

41 minutes ago

Setback for Team India: ٹیم انڈیا کو جھٹکا، نیوزی لینڈ کے خلاف تیسرے ٹی 20 میچ سے بھی باہر ہوئے ایشان کشن

ایشان کشن کی جگہ دوسرے ٹی 20 میچ میں ویبھَو سوریہ ونشی کو پلیئنگ الیون…

3 hours ago

Cyclonic Storm ‘Arnab’ in the Bay of Bengal: خلیج بنگال میں سمندری طوفان ’ارنَب‘، بھارت میں ہائی الرٹ، ان ریاستوں میں دکھائی دے گا اثر

سمندری طوفان کے خطرے کو دیکھتے ہوئے اڈیشہ، مغربی بنگال اور آندھرا پردیش میں قومی…

4 hours ago