نئی دہلی: جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبا کے احتجاج کے بعد انتظامیہ نے 20 سال بعد طلبہ یونین بحال کرنے کی تحریری یقین دہانی کرائی اورطلبا کے سبھی مطالبات تسلیم کرلئے، جس کے بعد طلبا نے احتجاج اوربھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کیا۔ طلبا نے پوری رات جشن منایا اور جامعہ انتظامیہ کو گھٹنے ٹیکنے پرمجبورکردیا۔ طلبا کی جیت کے بعد انتظامیہ نے کریڈیٹ لینے اورپیٹھ تھپتھپانے کے لئے آج دوپہر بعد انصاری آڈیٹوریم کے احاطے میں ’اظہارتشکر‘ پروگرام منعقد کیا، جس میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے 2000 سے زائد تدریسی اورغیرتدریسی عملہ نے شرکت کی، یونیورسٹی کے اساتذہ اورعملہ نے طلبہ یونین انتخابات کے مسئلے کوخوش اسلوبی سے حل کرنے پرجامعہ انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا۔
وہیں دوسری طرف جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبا نے بھی آج شام وکٹری مارچ نکالا۔ طلبا نے پورے جامعہ کیمپس میں جشن منایا۔ اس جشن میں بڑی تعداد میں طلبا وطالبات نے شرکت کی۔ انھوں نے طلبہ کے مفادات کے تحفظ کویقینی بنانے اورتدریسی وامتحان کے عمل کو ہرقیمت پربلا تعطل جاری رکھنے میں انتظامیہ کی انتہائی دیانت داری اوردانشمندی کو سراہا۔ انھوں نے کل 29 اکتوبر2026 کوجاری کردہ اہم حکم نامے کی ستائش کرتے ہوئے اسے یونیورسٹی انتظامیہ کے ’انتہائی صبر، بصیرت اوردوراندیشی‘ کا مظہرقراردیا اورکہا کہ یہ جامعہ کے 106 ویں یومِ تاسیس کے موقع پرادارے کے وقارکوبلند رکھنے کی ایک مثالی کوشش ہے۔
#WATCH | Delhi: Students’ celebration continues at Jamia Millia Islamia (JMI) University after the JMI set May 15, 2027, as the deadline for completing the approval and implementation of its students’ union constitution, with elections to be held within six weeks of the commencement of the next academic session.
Following the announcement last night, the students called off their protest and hunger strike; they were demanding the restoration of the elected students’ union, which has remained defunct since 2006.
— ANI (@ANI) October 30, 2026
جامعہ انتظامیہ نے وزارت تعلیم اوروزارت داخلہ کا ادا کیا شکریہ
جامعہ کے ملازمین نے گزشتہ دوہفتوں کے دوران حکومتِ ہند، بالخصوص وزارتِ تعلیم اوروزارتِ داخلہ کی جانب سے فراہم کردہ غیرمتزلزل حمایت، مشوروں اوررہنمائی کا بھی دل سے شکریہ ادا کیا۔ یہ بات سامنے آئی ہے کہ یونین انتخابات کے دیرینہ مسئلے کو بات چیت اورغوروخوض کے ذریعے حل کرنے کے لیے جامعہ انتظامیہ کی جانب سے احتجاج کرنے والے طلبہ کے ساتھ یہ تقریباً آٹھواں اجلاس تھا۔ اس اجلاس کے نتیجے میں دو دہائیوں سے جاری تعطل کا ایک خوشگواراورجمہوری حل نکلا جو طلبہ تک پہنچنے اور ان سے رابطہ قائم کرنے کے لیے انتظامیہ کی مسلسل کوششوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اساتذہ نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کی موجودہ انتظامیہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے بیس سالہ تعطل کو ختم کیا ہے،ایک ایسا عرصہ جس میں سابقہ انتظامیہ یا تواس معاملے کوٹالتی رہیں یا اسے یوں ہی چھوڑدیا۔ اساتذہ کے مطابق، جامعہ انتظامیہ نے اس دیرینہ مسئلے کوحل کرنے کے لیے اپنی مخلصانہ آمادگی اورمستقل سنجیدگی کے ذریعہ جمہوریت، مکالمے اورطلبہ دوست نقطہ نظرکے تئیں ایک مثالی عزم کا مظاہرہ کیا ہے۔ اگرچہ اساتذہ نے 18 اکتوبرسے جامعہ انتظامیہ کے سب کوساتھ لے کرچلنے والے، مشاورتی اورمستقبل پرنظررکھنے والے طرزِعمل کی تعریف کی، تاہم انھوں نے متفقہ طورپرمطالبہ کیا کہ ان افراد یا گروہوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے جو یونیورسٹی کی دیواروں پرملک مخالف تحریریں اورنعرے لکھنے، نیزیونیورسٹی کے دروازوں اوردیگربنیادی ڈھانچوں کونقصان پہنچانے کے ذمہ دارہیں۔
طلبا نے گھٹنے ٹیکنے پرانتظامیہ کو کردیا مجبور
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبا نے تمام مشکل حالات کا سامنا کرتے ہوئے 18 دنوں تک احتجاج جاری رکھا۔ کئی طلبا بھوک ہڑتال پربیٹھے رہے اورجامعہ انتظامیہ کے رویے کے سامنے جھکنے کے لئے تیارنہیں ہوئے۔ انتظامیہ نے کلاسیز کوآن لائن کرنے، لائبریری بند کرنے اورامتحانات کوآن لائن کرنے کا اعلان کردیا۔ ساتھ ہی طلبا سے ہاسٹل خالی کرنے کا بھی دباو بنایا گیا، لیکن طلبا کسی بھی طرح سے پیچھے ہٹنے کے لئے تیارنہیں ہوئے۔ آخرکار جامعہ انتظامیہ کو طلبا کے سامنے جھکنا پڑا اور20 سالوں کے بعد یونین بحال کرنے کی تحریری یقین دہانی کرائی گئی، جس کے بعد طلبا نے احتجاج ختم کیا اورپوری رات جشن منایا۔
یہ کسی فریق کی دوسرے پرفتح نہیں: جامعہ
جامعہ کے تدریسی اورغیرتدریسی عملہ نے اس بات پرزوردیا کہ گزشتہ رات جاری حکم نامے نے ان بیانیوں کا حتمی طورپرخاتمہ کردیا ہے اوران کے اصل مقاصد اورمنصوبوں کوبے نقاب کردیا ہے۔ اس منفی رویے کے برعکس، کل کے واقعات نے انتظامیہ کے اس عزم کوظاہرکیا کہ وہ طلبہ کے ساتھ بات چیت کرنے، ان کی بات سننے اوران کے بہترین مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے مسئلے کا ایک جمہوری حل تلاش کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ طلبہ کے تعلیمی شیڈول پرکوئی منفی اثرنہ پڑے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اسٹاف نے نشاندہی کی کہ گزشتہ رات کا نتیجہ کسی ایک فریق کی دوسرے پرفتح نہیں تھا، بلکہ یہ جامعہ کی ان اقداراورروایات کی شاندارفتح تھی، جن کی بنیاد مکالمے، وقاراوربرادری کے ہرفرد کے لیے باہمی احترام پررکھی گئی ہے۔ بات چیت کا راستہ کھلا رکھنے اوراپنے طلبہ کے ساتھ مسلسل رابطہ قائم رکھ کرجامعہ انتظامیہ نے ان بہترین روایات کی پاسداری کی ہے، جنھیں یونیورسٹی کے وطن دوست اورحق پسند بانیوں اورسرپرستوں نے پروان چڑھایا تھا۔ اپنے 106ویں یومِ تاسیس پر، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ امن، عدم تشدد اوراخوت اس کے ادارہ جاتی کرداراورتعلیمی کلچرکی ایسی بنیادی اقدارہیں، جن پرکوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ اساتذہ اورعملہ نے ’اظہارتشکر‘ کی تقریب کے دوران کہا کہ ”یہ جامعہ ملیہ اسلامیہ، اس کی جمہوری روایات اورادارے کی ان صدی قدیم اقدار کی فتح ہے، جنھیں آج تک انتہائی احتیاط کے ساتھ پروان چڑھایا اورمحفوظ رکھا گیا ہے۔“
بھارت ایکسپریس اردو-
وزیراعظم گجرات میں 4,030 نئے بچوں کے لیے سازگار آنگن واڑی مراکز کا سنگِ بنیاد…
ڈاکٹر شمس اقبال نے کونسل کے تمام اراکین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ…
تین روزہ بین الاقوامی پریاگ راج فلم فیسٹیول 2026 کا شاندار آغاز جمعہ کو ہوٹل…
ای وی ایم کے ساتھ وی وی پی اے ٹی کی پرچیوں کا ملاپ، سیاسی…
دھوکہ دہی معاملے کی تفتیش کے دوران سکیش کا نام بالی ووڈ کی کئی اداکاراؤں…
مرکزی وزیر ماحولیات بھوپیندر یادو نے آلودگی پر قابو پانے کے لیے دہلی سمیت پورے…