قومی

Jamaat-E-Islami Hind welcomes referral of FCRA Bill to JPC: جماعت اسلامی نے ایف سی آر اے بل کو جے پی سی کے حوالے کئے جانے کا خیرمقدم کیا، بل پرنظرثانی کا مطالبہ

 نئی دہلی: جماعت اسلامی ہند نے حکومت کی جانب سے فارن کنٹری بیوشن (ریگولیشن) ترمیمی بل، 2026 کومزید غوروخوض کے لیے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی ) کے حوالے کئے جانے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ تاہم جماعت نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ اپوزیشن، سول سوسائٹی اورمذہبی اقلیتوں کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کی روشنی میں بل کا شفاف طریقے سے ازسرنوجائزہ لیا جائے۔ میڈیا کے لئے جاری ایک بیان میں جماعت اسلامی ہند کے نائب امیرایس امین الحسن نے کہا کہ ایف سی آراے ترمیمی بل کومشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے حوالے کیا جانا ایک خوش آئند قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ جے پی سی حکومت کواپنی سفارشات پیش کرنے سے پہلے سول سوسائٹی، اقلیتی اداروں، آئینی ماہرین اوردیگرمتعلقہ فریقوں سے مشاورت کرے گی اوربل کی متنازعہ شقوں کا شفافیت کے ساتھ جائزہ لے گی۔

بل کی کئی شقوں پرجماعت اسلامی ہند نے اٹھایا سوال

ایس امین الحسن نے کہا کہ ہمیں بل کی اس شق پرشدید تشویش ہے جس کے تحت حکومت کی جانب سے مقررکردہ اتھارٹی کوان تنظیموں کے اثاثوں کا کنٹرول سنبھالنے کا اختیاردیا گیا ہے، جن کی ایف سی آراے رجسٹریشن منسوخ، سرینڈریا تجدید نہ کی گئی ہو۔ ان اثاثوں میں ایسے اسکول، اسپتال اوررفاہی ادارے بھی شامل ہیں، جوغیرملکی عطیات کے ذریعہ قائم کئے گئے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ شفافیت کے بغیراختیارات کوایک ہی ریگولیٹری اتھارٹی کے حوالے دینے سے ایف سی آراے کے تحت کام کرنے والی تنظیموں کے لئے معمولی نوعیت کی غلطی بھی ضابطہ کی سنگین کارروائی کا سبب بن سکتی ہے۔

شہری آزادیوں اورآئینی تحفظات کے تناظرمیں دیکھنے کا مطالبہ

انہوں نے مزید کہا کہ ایف سی آراے ترمیم کوشہری آزادیوں اورآئینی تحفظات کے وسیع ترتناظرمیں بھی دیکھا جانا چاہئے۔ ان میں آئین کے آرٹیکل 300 اے کے تحت حقِ ملکیت، آرٹیکل 14 کے تحت مساوات کا قانون، آرٹیکل 25 کے تحت مذہب پرعمل کرنے اوراس کی تبلیغ کی آزادی اورآرٹیکل 26 کے تحت مذہبی فرقوں کواپنے مذہبی اموراوراملاک کے انتظامات کے حقوق شامل ہیں۔ ایس امین الحسن نے مزید کہا کہ مسلمانوں کوحالیہ کئی برسوں سے شہری حقوق، مذہبی آزادی، حقوقِ ملکیت وغیرہ سے متعلق بڑھتے ہوئے چیلنجزکا سامنا رہا ہے۔ اسی طرح عیسائی برادری کوبھی تبدیلی مذہب جیسے الزامات کا سامنا رہا ہے، لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ مسلمان، سکھ، پارسی اورعیسائی اداروں سمیت متعدد مذہبی اقلیتی تنظیموں نے طویل عرصے سے معاشرے کے کمزورطبقات کی بلاامتیازذات اورمذہب خدمت کرتے ہوئے تعلیم، صحت اورسماجی بہبود کے کاموں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔

غیرملکی فنڈنگ میں شفافیت اورجواب دہی کو یقینی بنانے پرزور

جماعت اسلامی ہند کے نائب امیرنے کہا کہ غیرملکی عطیات سے متعلق قوانین کوحکومت کی جانب سے مذہبی سرگرمیوں یا انسانی فلاح وبہبود کے کاموں پربندش لگانے کا سیاسی ہتھیارنہیں بنانا چاہئے۔ ہمیں امید ہے کہ جے پی سی کا عمل شفاف پارلیمانی جائزہ اوربامعنی مشاورت کا باعث بنے گا۔ ملک کوایسے ریگولیٹری نظام کی سخت ضرورت ہے، جوغیرملکی فنڈنگ میں شفافیت اورجواب دہی کویقینی بنائے، لیکن ساتھ ہی سول سوسائٹی، مذہبی آزادی، انسانی خدمت اورآئینی تحفظات کوکمزورنہ کرے۔

بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

Indians in Germany: جرمنی میں ہندوستانیوں کی تعداد 4 لاکھ کے قریب، 70 ہزار طلبہ کر رہے ہیں اعلیٰ تعلیم حاصل

جرمنی میں ہندوستانی برادری کی موجودگی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ سستی تعلیم،…

7 hours ago

Manoj Bajpayee Raises A Question: منوج باجپائی کا سوال: جو لوگ سماج کے مسائل پر بات نہیں کرتے، انہیں اسٹار کا درجہ کیوں دیا جائے؟

ممبئی کے ’مکتی آڈیٹوریم‘ میں منعقدہ تقریب کے دوران اداکار منوج باجپائی نے فلمی ستاروں…

8 hours ago