نئی دہلی:جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسرسلیم انجینئرنے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ یونین انتخابات کے لیے واضح ٹائم لائن مقررکرنے اورطلبہ کے خلاف تمام تادیبی کارروائیوں کوغیرمشروط طورپرواپس لیے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ میڈیا کے لیے جاری اپنے ایک بیان میں پروفیسرسلیم انجینئرنے کہا کہ طلبہ یونین کے آئین کی منظوری کے 15 دن کے اندرانتخابات کرانے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا جانا چاہئے۔ تاہم اس یقین دہانی کے ساتھ ہی انتخابات کا باضابطہ نوٹیفکیشن، آئین کی تیاری کے لیے متعین مدت اورانتخابات کی مقررہ تاریخ کا اعلان بھی ضروری ہے۔ آئین کی تیاری کے لئے آخری تاریخ کے بغیرغیرمعینہ مدت تک جاری رہنے والاعمل جامعہ ملیہ اسلامیہ اسٹوڈنٹس یونین کی بحالی کے بنیادی مطالبے کو پورا نہیں کرپائے گا۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ نے اپنا احتجاج ختم نہیں کیا ہے، اس لئے ان کے باقی ماندہ مطالبات کوبامعنی مذاکرات اورواضح یقین دہانیوں کے ذریعے حل کرنا نہایت ضروری ہے۔
تمام تادیبی کارروائیاں غیرمشروط واپس لینے کا مطالبہ
پروفیسرسلیم انجینئرنے اس بات کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کی معطلی کے احکامات اوروجہ بتاؤنوٹس واپس لیے جانے کی اطلاعات خوش آئند ضرورہیں، لیکن انتظامیہ کواس بات کو یقینی بنانا چاہئے کہ احتجاج کے نتیجے میں طلبہ کے خلاف کی گئی تمام تادیبی کارروائیاں غیرمشروط طورپرواپس لی جائیں۔ احتجاج میں شرکت کرنے والے طلبہ کے خلاف آئندہ کوئی تادیبی کارروائی نہ کئے جانے کی تحریری یقین دہانی اعتماد کی بحالی میں مددگارثابت ہوگی اورجامعہ کے ماحول کومعمول پرلانے کی راہ ہموارکرے گی۔ ہم جامعہ انتظامیہ سے یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ آئینی کارروائیوں کوایک طے شدہ مدت کے اندرمکمل کیا جائے اورمزید تاخیرکے بغیرانتخابات کے شیڈول کا اعلان کیا جائے۔
سیکورٹی اہلکاروں کے طرزِعمل کی غیرجانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ
پروفیسرسلیم انجینئرنے کہا کہ ہم احتجاج کے دوران سیکورٹی اہلکاروں کے طرزِعمل کی غیرجانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔ 17 اکتوبرکو صبح سویرے بھوک ہڑتال کرنے والے طلبہ کواحتجاج سے زبردستی ہٹانے سے متعلق الزامات کی سنجیدگی سے جانچ ہونی چاہئے۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ اس واقعے میں شامل افراد کے خلاف ضابطے کی کارروائی کی جائے خواہ وہ کسی بھی عہدے پرفائزہو۔ تادیبی احکامات کی واپسی اورمعاملے کی تحقیقات کا آغازخوش آئند اقدامات ہیں، لیکن عوام کا اعتماد اس بات پرمنحصرہوگا ان پرعمل درآمد کس حد تک کیا جاتا ہے۔ جب معاملہ اجتماعی احتجاج کا ہوتواس میں شرکت کرنے والے طلبہ کوانفرادی طورپرریلیف حاصل کرنے کے لیے مجبورنہیں کیا جانا چاہئے۔
پروفیسرسلیم انجینئرنے یونیورسٹی کو یاد دلائی ان کی ذمہ داری
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ کے احتجاج سے متعلق اپنے خدشات کا اعادہ کرتے ہوئے پروفیسرسلیم انجینئرنے کہا کہ یونیورسٹی کی ذمہ داری ہے کہ وہ جمہوری شرکت، تنقیدی فکراورقیادت کوفروغ دے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ اپنے ممتازعلمی ورثے کے ساتھ ایک اہم تعلیمی ادارہ ہے، اسے چاہئے کہ لنگدوہ کمیٹی کی سفارشات کے مطابق طلبہ کوجمہوری نمائندگی حاصل کرنے کا موقع فراہم کرے۔ ہم جامعہ انتظامیہ پرزوردیتے ہیں کہ وہ اپنی یقین دہانیوں کو واضح، ٹھوس اورمقررہ مدت کے اندرعمل میں لائے اورسیکورٹی اہلکاروں کے طرزِعمل کے حوالے سے جواب دہی کویقینی بنائے۔ انہوں نے امید ظاہرکی کہ ان خدشات کومنصفانہ طریقے سے حل کرنے سے اعتماد کی بحالی، تعلیمی ماحول کا تحفظ اورجامعہ میں جمہوری اقدارکومضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو-
FRRO کی جانب سے عمران خان کو بھارت چھوڑنے کا نوٹس ملنے کے بعد معاملہ…
الیکشن کمیشن نے کہا کہ ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (SIR) سے متعلق تینوں…
پریاگ راج میں منعقدہ عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے آزاد سماج پارٹی (کانشی رام)…
لیفٹیننٹ گورنر ڈاکٹر دنیش شرما نے آئی لینڈ کے ٹورزم فیسٹیول کی تیاریوں کا جائزہ…
امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے والے بھارتی طلبہ یونیورسٹی کے اندر مختلف پارٹ ٹائم نوکریاں…
کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے پنجاب کی موجودہ صورت حال سے متعلق عام…