قومی

JIH Urges Government to Adopt Dialogue Instead of Confrontation on Public Issues: جماعت اسلامی ہند کی حکومت سے عوامی مسائل پر ٹکراؤ کے بجائے بات چیت کا راستہ اختیار کرنے کی اپیل

نئی دہلی: جماعت اسلامی ہند نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ عوامی مسائل پر ٹکراؤ کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیارکرے۔ جماعت نے عبادت گاہوں کوباربارنشانہ بنائے جانے، ووٹرفہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) اورپُرامن عوامی احتجاج پرعائد پابندیوں کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہارکیا ہے۔ جماعت اسلامی ہند کے مرکزمیں منعقدہ پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے نائب امیرپروفیسرسلیم انجینئرنے ووٹرفہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے طریقۂ کارپرتشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ رپورٹ کے مطابق تقریباً 13 کروڑناموں کوووٹرفہرستوں سے باہرکردیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے اس عمل سے سماج میں سخت تشویش پیدا ہوئی ہے۔ ووٹرفہرست جمہوری نظام کی بنیاد ہے اوربڑے پیمانے پر کی جانے والی نظرثانی میں غیر معمولی شفافیت اوراحتیاط ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ انتخابی نتائج، الیکشن کمیشن آف انڈیا کی خودمختاری اورآئینی طرزعمل اورحق رائے دہی سے متعلق معاملات میں عدلیہ کے رویے سے پیدا ہونے والے سوالات نے عوام کے اعتماد کو مزید کمزور کیا ہے۔ جمہوری اداروں پرعوام کے اعتماد میں کمی سے ملک کے امن وامان اوراستحکام کو بھی خدشات پیدا ہوسکتے ہیں۔ جماعت اسلامی ہند چیف الیکشن کمشنرسے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ ووٹر فہرستوں کےعمل سے متعلق خدشات کی اخلاقی ذمہ داری قبول کریں اوراگرالیکشن کمیشن عوام کا اعتماد برقراررکھنے میں ناکام ہے تورضاکارانہ طورپراپنےعہدے سے مستعفی ہوجائیں۔ انہوں نے کہا کہ ایس آئی آرکے عمل کوفوری طورپرروکا جائے، نظرثانی سے متاثرہونے والے ووٹروں کی نشاندہی کی جائے اوران کے نام دوبارہ ووٹرفہرستوں میں شامل کئے جائیں۔ بے ضابطگیوں کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائے اورجہاں کسی غلط کام کا ثبوت ملے وہاں کے اہل کاروں کی ذمہ داری طے کی جائے۔ الیکشن کمیشن کی غیر جانب داری اورغیرمتعصبانہ کردارکویقینی بنانے کے لیے اس کی تشکیل اورتقرری کے طریقۂ کارمیں اصلاحات کی جائیں، جن میں حکومت، اپوزیشن اورعدلیہ کی شرکت لازمی ہو۔

احتجاج کو روکنے کے لئے پولیس کی کارروائیوں پر انجینئرسلیم نے اٹھایا سوال

پروفیسرسلیم انجینئر نے پُرامن جمہوری احتجاج کو دبانے کے لیے پولیس کی کارروائیوں پربھی سوال اٹھایا ۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اورمانیٹرنگ کمیٹی آف انڈین مسلمزکی جانب سے منعقدہ حالیہ احتجاج اور2 اکتوبرکوایس آئی آراورچیف الیکشن کمشنر کے خلاف کئے گئے عوامی احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوامی احتجاج کی اجازت سے انکاراورپُرامن مظاہرین کوحراست میں لیے جانے کے واقعات نے اظہاررائے کی آزادی کی گنجائش کے حوالے سے سنگین سوالات پیدا کر دئے ہیں۔ حکومت کے فیصلوں پر سوال اٹھانے کے لیے پُرامن احتجاج ملک کے شہریوں کا جمہوری حق ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم حکومت اورپولیس انتظامیہ سے اپیل کرتے ہیں کہ پُرامن مظاہروں کے لیے پیشگی اجازت کو ضروری نہ بنایا جائے عوامی مظاہروں کے لیے صرف پیشگی اطلاع کافی ہونی چاہئے۔ ہم غیرضروری حراست اورایف آئی آرکوختم کرنے، پولیس کی جانب سے بدسلوکی کے الزامات کی آزادانہ تحقیقات اورذمہ دارپائے جانے والے اہلکاروں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ پروفیسر سلیم انجینئرنے کہا کہ حکومت کو ٹکراؤ کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیارکرنا چاہئے، شہریوں اورتنظیموں سے براہِ راست بات چیت کرنی چاہئے، عوامی رابطوں اورمذاکرات کے ذریعے شکایات کا ازالہ کرنا چاہیے۔

مساجد، گرجا گھروں اورعبادت گاہوں کو نشانہ بنائے جانے پرتشویش کا اظہار

پریس کا نفرنس کوخطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے نائب امیرملک معتصم خان نے مساجد، گرجا گھروں اوردیگرعبادت گاہوں کوباربارنشانہ بنائے جانے کے واقعات پرتشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ انہدامی کارروائیوں سے مذہبی اقلیتوں اورعوام میں بڑے پیمانے پر ناراضگی، تشویش اوربے چینی پیدا ہورہی ہے۔ عبادت گاہیں مختلف طبقات کے لیے مذہبی اور جذباتی اہمیت رکھتی ہیں، اس لیے ان کے خلاف کسی بھی کارروائی میں انصاف، حساسیت اورقانون کی مکمل پابندی ضروری ہے۔ ملک معتصم خان نے کہا کہ مسلمانوں اورعیسائیوں کی عبادت گاہوں کے خلاف قانون کے امتیازی اطلاق نے انتظامیہ کی ساکھ کونقصان پہنچایا ہے۔ مذہبی مقامات سے متعلق بار بار پیدا ہونے والے تنازعات کشیدگی کو بڑھا رہے ہیں اورعوام کی توجہ اہم معاشی اورسماجی مسائل سے ہٹا رہے ہیں۔ اگرمذہبی مقامات کواسی طرح سے نشانہ بنایا جاتا رہا تواحتجاج پھیل سکتا ہے اورایک بڑی عوامی تحریک کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ عبادت گاہوں سے متعلق معاملات میں قوانین کے غلط استعمال کوفوری طورپرروکا جائے اورکسی بھی کارروائی سے پہلے تمام فریقوں کے دعووں کی باریکی سے جانچ کیا جائے۔ جہاں تک ممکن ہو تنازعات قانونی تصفیے یا دیگر قانونی طریقۂ کار کے ذریعے حل کیا جائے اورانہدامی کارروائی سے گریز کیا جائے۔ ملک معتصم خان نے کہا کہ جہاں کسی عدالتی فیصلے یا قانون کے تحت مسماری ناگزیرہو، وہاں اس پورے عمل کی عدالت کے ذریعے نگرانی ہونی چاہیے۔ ہم ماضی میں کی گئی ان انہدامی کارروائیوں کی بھی سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں، جن کی قانونی حیثیت پرسوالات اٹھائے گئے ہیں۔ جہاں انہدامی کارروائی غیرقانونی ثابت ہووہاں مناسب اقدامات کرتے ہوئے عبادت گاہوں کی تعمیرنواوربحالی کو یقینی بنایا جائے۔

بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

Amit Shah Gopalak Conference: صرف دودھ بیچنا کافی نہیں! امت شاہ نے بتایا، مکھن، پنیر اور بایو گیس سے کیسے چمکے گی دیہی معیشت

بھوپال کے گوپالک کانفرنس میں مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے مویشی پالنے…

2 minutes ago

India vs West Indies: روہت شرما کا ایک اور بڑا کارنامہ، سچن کے بعد یہ مقام حاصل کرنے والے دوسرے بھارتی بنے

دوسرے ون ڈے مقابلے میں روہت کی کارکردگی شاندار رہی تھی۔ انہوں نے گوہاٹی میں…

46 minutes ago

India-Brazil Football Friendly In Kolkata: کولکاتا میں بھارت-برازیل فٹبال دوستانہ میچ، سی ایم ڈی اپیندر رائے بھی ہوں گے شریک

بھارت اور برازیل کی یہ ٹکر صرف میدان پر 90 منٹ کا مقابلہ نہیں ہے۔…

2 hours ago

Akhilesh Yadav: بی جے پی سے بغاوت کرنے والے سنجین تریاٹھی سماج وادی پارٹی میں شامل، اکھلیش نے بنایا امیدوار

سنجین تریاٹھی کے سماج وادی پارٹی میں شامل ہونے اور انہیں امیدوار بنائے جانے پر…

2 hours ago