جگدیپ دھنکھڑ نے راجستھان اسمبلی میں پنشن کے لئے درخواست دی ہے۔ (فائل فوٹو)
پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کے پہلے دن پیرکے روز(21 جولائی، 2025) کی دیرشام کونائب صدرجگدیپ دھنکھڑنے اچانک اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے صدرجمہوریہ دروپدی مرموکوخط لکھ کرکہا کہ وہ اپنی صحت کا دھیان رکھنے اورڈاکٹروں کے مشورے کو مانتے ہوئے فوری اثرسے استعفیٰ دے رہے ہیں۔ ان کی مدت اگست 2027 تک تھی، لیکن دوسال پہلے ہی عہدہ چھوڑدینا کئی سیاسی سوالوں کوجنم دے رہا ہے۔
دھنکھڑ نے 11 دن پہلے کہا تھا- ‘2027 میں ریٹائر ہوجاؤں گا’
جگدیپ دھنکھڑکے استعفیٰ نے سب کوحیران کردیا کیونکہ 10 جولائی کوایک پروگرام میں انہوں نے خود کہا تھا کہ وہ اپنی مدت پوری کریں گے اور2027 میں ریٹائر ہوں گے، لیکن صرف 11 دن میں ان کا رخ بدل گیا اورانہوں نے استعفیٰ دے دیا۔ اس سے پہلے مارچ میں انہیں ایک بار سینے میں درد کی شکایت پرایمس میں داخل کرایا گیا تھا اورجون میں اتراکھنڈ کے ایک پروگرام کے دوران ان کی طبیعت دوبارہ بگڑی تھی۔
وزیراعظم مودی نے بنایا تھا نائب صدرکا امیدوار
جگدیپ دھنکھڑکوسال 2022 میں این ڈی اے حکومت نے نائب صدر عہدے کا امیدوار بنایا تھا۔ 6 اگست 2022 کو ہوئے الیکشن میں انہوں نے اپوزیشن کی امیدوار مارگریٹ الوا کو بڑے فرق سے ہرایا تھا۔ انہیں 528 ووٹ ملے تھے جبکہ مارگریٹ الوا کو 182 ووٹ ملے تھے۔ 10 اگست 2022 کو انہوں نے ملک کے 14ویں نائب صدر کے طور پرحلف لیا تھا۔
دو سال کی مدت باقی، سیاسی گلیاروں میں ہلچل
جگدیپ دھنکھڑ کی مدت 2027 تک تھی، یعنی ابھی بھی دو سال سے زیادہ کا وقت باقی بچا تھا۔ ایسے میں اچانک استعفیٰ نے قیاس آرائیوں کو ہوا دے دی ہے۔ انہوں نے اپنے خط میں صحت کی خرابی کا حوالہ دیتے ہوئے صدر، وزیراعظم اورکابینہ کا شکریہ ادا کیا۔ ان کے استعفیٰ کے بعد سیاسی گلیاروں میں ہلچل تیز ہوگئی ہے۔ کانگریس لیڈر اور راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر سید ناصرحسین نے کہا کہ یہ حیران کرنے والا ہے کیونکہ وہ کل شام تک پارلیمنٹ میں سرگرم تھے۔ وہیں، کانگریس ترجمان پون کھیڑا نے بھی سوال اٹھایا کہ پی ایم او یا بی جے پی لیڈران نے انہیں نہ تومبارکباد دی، نہ ہی شکریہ ادا کیا۔ یہ خاموشی کسی بڑے سیاسی حادثے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
نائب صدر عہدے سے استعفیٰ دینے والے تیسرے شخص
جگدیپ دھنکھڑ ہندوستان کے تیسرے نائب صدر ہیں، جنہوں نے اپنی مدت مکمل نہیں کی۔ اس سے پہلے 1969 میں وی وی گری نے صدرعہدے کا الیکشن لڑنے کے لئے استعفیٰ دیا تھا۔ وہیں، 2022 میں کرشن کانت کا مدت کے دوران انتقال ہوگیا تھا۔ جگدیپ دھنکھڑنے استعفیٰ سے کچھ ہی گھنٹے پہلے راجیہ سبھا کی کارروائی چلائی تھی اورایوان میں سیاسی ٹکراؤکوکم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔ ان کے استعفیٰ کے بعد یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا ان کی صحت ہی اصلی وجہ ہے یا پردے کے پیچھے کچھ اورچل رہا ہے؟
تقریباً 16 سال بعد اس مقابلے میں ہندوستان کو ملا تمغہ، سیما کماری نے 32:50.05…
معروف اداکار مشتاق خان 24 ستمبر کو ممبئی میں انتقال کر گئے۔ ممبئی کے ناناوتی…
کم عمری کی شادی جیسے سماجی مسئلے پر بننے والے مقبول ٹی وی سیریل نے…
بی جے پی کی 4 یاترائیں 117 اسمبلی حلقوں سے گزرتے ہوئے جالندھر میں ہوں…
بہار قانون ساز کونسل انتخابات کے لیے جن سوراج نے 3 امیدواروں کے ناموں کا…
نئی دہلی کے تین مورتی حائفہ چوک پر حائفہ فتح کی 108ویں سالانہ یادگاری تقریب…