بہوجن سماج پارٹی میں حالیہ تنظیمی تبدیلیوں کے بعد مایاوتی کے بعد پارٹی کی قیادت سے متعلق قیاس آرائیاں بڑھ گئی ہیں۔ آکاش آنند پہلے پارٹی میں اہم ذمہ داری سنبھال چکے ہیں اور انہیں مایاوتی کے ممکنہ سیاسی جانشین کے طور پر بھی دیکھا جاتا رہا ہے۔ تاہم حالیہ فیصلوں کے بعد ان کی پارٹی میں پوزیشن تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ دوسری جانب مایاوتی کے چھوٹے بھتیجے ایشان آنند کو تنظیم میں اہم ذمہ داری ملنے کے بعد ان کے سیاسی مستقبل سے متعلق بھی بحث شروع ہو گئی ہے۔
ایشان آنند کو اہم ذمہ داری ملنے سے قیاس آرائیاں تیز
تازہ تنظیمی تبدیلیوں میں ایشان آنند کو شمالی بھارت کے اہم تنظیمی علاقوں کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ انہیں پارٹی کا چیف سیکٹر انچارج بنایا گیا ہے، جس کے تحت 15 ریاستوں کے تنظیمی امور پر نظر رکھنے کی ذمہ داری شامل ہے۔ اس تقرری کو پارٹی میں نوجوان قیادت کو آگے بڑھانے کی کوشش کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
اس سے پہلے بھی پارٹی کی قومی سطح کی میٹنگ میں ایشان کی موجودگی اور آکاش آنند کی غیر موجودگی نے قیادت کے مستقبل سے متعلق سوالات پیدا کیے تھے۔ تاہم صرف تنظیمی ذمہ داری ملنے کی بنیاد پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ مایاوتی نے ایشان کو اپنا جانشین مقرر کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ دستیاب اطلاعات میں اس حوالے سے مایاوتی کی جانب سے کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا ہے۔
آکاش آنند کی پوزیشن کیوں بدلی؟
آکاش آنند کو ایک وقت میں مایاوتی کے سیاسی جانشین کے طور پر آگے بڑھایا گیا تھا۔ وہ پارٹی میں قومی کوآرڈینیٹر سمیت اہم ذمہ داریاں سنبھال چکے ہیں، لیکن گزشتہ کچھ عرصے میں ان کی پارٹی میں حیثیت کئی مرتبہ تبدیل ہوئی ہے۔ حالیہ دنوں میں مایاوتی نے آکاش آنند کو پارٹی سے باہر کرنے کا اعلان کیا۔ مایاوتی نے ان پر پارٹی اور بہوجن تحریک کے مفاد کے مقابلے میں ذاتی اور خاندانی مفادات کو ترجیح دینے کا الزام لگایا اور کہا کہ وہ پارٹی کے لیے مؤثر طریقے سے کام نہیں کر پا رہے تھے۔ یہ فیصلہ آکاش کے سسر اور بی ایس پی کے سابق سینئر لیڈر اشوک سدھارتھ کے سیاست سے ریٹائرمنٹ کے اعلان کے بعد سامنے آیا۔ مایاوتی نے پہلے کہا تھا کہ اگر آکاش کو پارٹی میں آگے بڑھنا ہے تو اشوک سدھارتھ کو سیاست سے مکمل طور پر الگ ہونا چاہیے۔
کیا ایشان مایاوتی کے جانشین ہوں گے؟
ایشان آنند کو ملنے والی نئی ذمہ داری نے اس سوال کو ضرور تقویت دی ہے کہ کیا مایاوتی اب پارٹی میں قیادت کی اگلی نسل کو تیار کر رہی ہیں۔ لیکن فی الحال اسے حتمی جانشینی کے فیصلے کے طور پر دیکھنا درست نہیں ہوگا۔ بی ایس پی کی سیاست میں مایاوتی اب بھی مرکزی فیصلہ ساز اور پارٹی کا سب سے بڑا چہرہ ہیں۔ ایسے میں ایشان کو ملنے والی ذمہ داری کو فی الحال تنظیمی تجربے اور پارٹی کو مضبوط کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
2027 کے انتخابات سے پہلے اہم امتحان
اتر پردیش اسمبلی انتخابات 2027 سے پہلے بی ایس پی کے لیے تنظیمی مضبوطی ایک اہم چیلنج ہے۔ ایسے میں مایاوتی کے لیے نوجوان قیادت کو آگے لانا، پارٹی کے اندر نظم و ضبط برقرار رکھنا اور مختلف دھڑوں کے درمیان توازن قائم کرنا اہم ہوگا۔ ایشان آنند کی بڑھتی ہوئی سرگرمی اور آکاش آنند کی موجودہ صورتحال نے بی ایس پی کی اندرونی سیاست کو ضرور نئی سمت دی ہے، لیکن مایاوتی کی سیاسی وراثت کس کے حوالے ہوگی، اس کا حتمی فیصلہ فی الحال سامنے نہیں آیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
اسمت مچھار کی بہادری کے اعتراف میں گجرات کے وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل نے اعلان…
نودیپ سنگھ نے اپنے ہاسپیٹیلٹی کیریئر کا آغاز ہندوستان سے کیا۔ امرتسر سے لندن تک…
کاک پٹ میں پیش آنے والی جھڑپ کے دوران شریک پائلٹ نے پائلٹ پر چاقو…
پروفیسر سلیم انجینئر نے مزید کہا کہ آئین ہند کا آرٹیکل 21 زندگی اور شخصی…
چھتیس گڑھ اور مہاراشٹر میں ہتھیار چھوڑ کر مرکزی دھارے میں واپس آنے والے 210…
سپریم کورٹ نے 2008 کے احمد آباد سلسلہ وار بم دھماکوں کے معاملے میں سزائے…