قومی

Maulana Barkatullah University Name Change Controversy: غیر ملکی سرزمین سے آزادی کی شمع روشن کرنے والے عظیم لیڈر، کیا مولانا برکت اللہ کی شناخت مٹائی جا رہی ہے؟

بھوپال میں واقع مولانا برکت اللہ یونیورسٹی ایک بار پھر خبروں میں ہے۔ یونیورسٹی کا نام تبدیل کرنے کی تجویز نے نہ صرف تعلیمی حلقوں بلکہ سیاسی اور سماجی میدان میں بھی ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ معاملہ اب صرف ایک تعلیمی ادارے کے نام تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس کے ساتھ آزادی کی جدوجہد کی وراثت اور تاریخی شناخت کے تحفظ کا سوال بھی جڑ گیا ہے۔ کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ ادارے کو ایک نئی شناخت دینے اور مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ بنانے کے لیے نام کی تبدیلی ضروری ہے، جبکہ بڑی تعداد میں لوگ اسے مجاہدین آزادی کی خدمات کو نظر انداز کرنے اور تاریخی ورثے کے ساتھ ناانصافی قرار دے رہے ہیں۔

کون تھے مولانا برکت اللہ؟

مولانا برکت اللہ بھوپالی کی پیدائش 7 جولائی 1854 کو بھوپال میں ہوئی تھی۔ وہ ہندوستان کے ان ممتاز انقلابی لیڈرؤں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے آزادی کی تحریک کو صرف ملک کی سرحدوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے عالمی سطح پر متعارف کرایا۔ انہوں نے برطانیہ، امریکہ، جاپان، جرمنی اور افغانستان سمیت کئی ممالک میں جا کر ہندوستان کی آزادی کے حق میں حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی۔ پہلی جنگِ عظیم کے دوران 1915 میں کابل میں قائم ہونے والی ہندوستان کی جلاوطن عبوری حکومت میں انہیں وزیرِ اعظم کی ذمہ داری سونپی گئی تھی، جبکہ راجہ مہندر پرتاپ اس حکومت کے سربراہ تھے۔ یہ واقعہ ہندوستانی تحریکِ آزادی کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔

انقلابی فکر اور جدوجہد سے بھرپور زندگی

مولانا برکت اللہ نہ صرف غدر پارٹی سے وابستہ رہے بلکہ جاپان کی ٹوکیو یونیورسٹی میں تدریسی خدمات بھی انجام دیں۔ وہ ’’ریشمی رومال تحریک‘‘ جیسی خفیہ انقلابی سرگرمیوں کا بھی حصہ رہے۔ ان کی سوچ کی سب سے نمایاں خصوصیت ہندو مسلم اتحاد پر زور دینا تھی۔ ان کا ماننا تھا کہ ملک کے مختلف طبقات جب تک متحد نہیں ہوں گے، آزادی کا خواب مکمل نہیں ہو سکتا۔ان کی زندگی مسلسل جدوجہد، قربانی اور مشکلات سے عبارت رہی۔ برطانوی حکومت کی نگرانی اور مالی مشکلات کے باوجود انہوں نے برسوں بیرونِ ملک رہ کر آزادی کی تحریک کو مضبوط بنانے کی کوشش کی۔ 1927 میں امریکہ کے شہر سان فرانسسکو میں ان کا انتقال ہوا اور وہ اپنی زندگی میں دوبارہ وطن واپس نہ آ سکے۔

مجاہدین آزادی  کی یاد اور شناخت کو برقرار رکھنا ہماری اجتماعی ذمہ داری نہیں ؟

تاریخ دانوں اور مولانا برکت اللہ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ وہ ان چند عظیم شخصیات میں شامل تھے جنہوں نے بیرونِ ملک رہتے ہوئے بھی ہندوستان کی آزادی کے لیے مسلسل جدوجہد کی۔ ان کے مطابق ایسے قومی لیڈر کے نام کو ہٹانا نہ صرف تاریخی ورثے کو کمزور کرے گا بلکہ آنے والی نسلوں تک غلط پیغام بھی پہنچائے گا۔اسی وجہ سے یہ بحث محض ایک یونیورسٹی کے نام کی تبدیلی تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ کیا آزادی کی تحریک سے وابستہ شخصیات کی یاد اور شناخت کو برقرار رکھنا ہماری اجتماعی ذمہ داری نہیں ہے؟

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

PM Modi Chennai Visit: وزیر اعظم نریندر مودی کے دورۂ چنئی کی تیاریوں کے پیش نظر 15 ہزار پولیس اہلکار تعینات

وزیر اعظم کے دورے کے پیش نظر شہر کی اہم سڑکوں پر گاڑیوں کی جانچ…

7 hours ago

China Open: چائنا اوپن، بارٹونکووا کو شکست دے کر فائنل میں پہنچیں اینڈریوا، عالمی نمبر 3 رینکنگ یقینی

کامیابی کے بعد اینڈریوا نے میڈیا سے کہا، ’’میں فائنل میں پہنچ کر بہت خوش…

7 hours ago

Umrao Jaan: ریکھا نے ’امراؤ جان‘ کے لیے کیوں نہیں لی تھی فیس؟ ہدایت کار مظفر علی نے سنایا دلچسپ قصہ

1981 میں ریلیز ہونے والی فلم میں ریکھا نے امراؤ جان کے کردار کو اپنی…

8 hours ago