ارتضیٰ نشاط اردوکے نامور شاعرتھے۔ ساتھ ہی وہ ایک کہنہ مشق صحافی بھی تھے۔ ان کا تعلق بھارت سے تھا۔ وہ 1938 میں پیدا ہوئے وہیں 22 اگست، 2023 میں وفات پاگئے۔ ارتضیٰ نشاط کو وارث علوی نے اردوادب کا شاہ حاتم کہا۔ سکندراحمد نے امرا القیس کے لقب سے یادکیا۔ مولانا انجم فوقی بدایونی نے شاعرآتش ندا کہا۔ آوارہ سلطانپوری نے سیاسی اورسماجی طنزکا صورت گرسمجھا۔ فضیل جعفری نے ارتضیٰ نشاط کی شاعری کو زندہ انسان کی شاعری بتایا۔ عبدالاحد سازنے چلتی پھرتی رصد گاہِ خیال کہا۔ پرویزیداللہ مہدی نے دیٹ مین فرام استنبول کہا۔ اس کے علاوہ سرکردہ اورنامورادیبوں، شعراء اورصحافیوں نے بھی ان کی عظمت کا اعتراف کیا ہے۔ آئیے ملاحظہ فرمائیے ان کا اہم شعر۔
کرسی ہے تمہارا یہ جنازہ تو نہیں ہے
کچھ کرنہیں سکتے تواُترکیوں نہیں جاتے
ارتضیٰ نشاطؔ
بھارت ایکسپریس اردو۔
نئی دہلی میں منعقدہ 11ویں سنت ایشور سمان میں خدمات انجام دینے والی شخصیات اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی ہندوستان کی بیٹیوں کو گولڈ میڈل جیتنے پر…
راجہ وڈنگ کے استعفے کے چند گھنٹے بعد کانگریس نے پرگٹ سنگھ کو پنجاب پردیش…
ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…
نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…
گاندھی جینتی پر دہلی سمیت کئی شہروں میں SIR اور مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف…