قومی

West Asia conflict: برکس اجلاس میں ایران کی امریکہ اور اسرائیل پر سخت تنقید، عالمی برادری سے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کی مذمت کا مطالبہ

نئی دہلی: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے برکس وزرائے خارجہ اجلاس میں امریکہ اور اسرائیل پر سخت تنقید کرتے ہوئے رکن ممالک اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کی غیر مبہم انداز میں مذمت کریں۔ ان کا یہ بیان مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حالیہ تنازع کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ نئی دہلی میں منعقدہ برکس وزرائے خارجہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ ایران برکس کو ایک ایسے نئے عالمی نظام کی علامت سمجھتا ہے، جس میں گلوبل ساؤتھ دنیا کے مستقبل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو خواب کبھی ایک تصور سمجھا جاتا تھا، وہ اب حقیقت بنتا جا رہا ہے، تاہم یہ حقیقت ابھی نازک مرحلے میں ہے۔ ان کے مطابق زوال پذیر سامراجی طاقتیں اس بدلتی ہوئی عالمی صورتحال کو روکنے کے لیے جارحانہ رویہ اختیار کر رہی ہیں۔

’’ایران کی لڑائی مغربی بالادستی کے خلاف ہے‘‘

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کا مغربی طاقتوں کے ساتھ تصادم دراصل ’’مغربی بالادستی‘‘ کے خلاف جدوجہد ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی یہ لڑائی صرف اپنے دفاع کے لیے نہیں بلکہ برکس ممالک اور گلوبل ساؤتھ کے مفادات کے تحفظ کے لیے بھی ہے۔ عباس عراقچی نے کہا کہ ایرانی فوجیوں نے ’’مغربی بالادستی‘‘ اور امریکہ کی مبینہ بالادستی کے تصور کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی جانوں کی قربانی دی ہے۔

امریکہ پر ’’برتری کے احساس‘‘ کا الزام

انہوں نے برکس ممالک کی جانب سے ایران کے لیے اظہارِ یکجہتی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ امریکہ کے ’’برتری اور استثنیٰ‘‘ کے احساس کو ختم کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ برکس میں شامل کئی ممالک امریکی دباؤ اور ’’غنڈہ گردی‘‘ کا تجربہ کر چکے ہیں، اس لیے عالمی سطح پر طاقت کے غلط استعمال کے خلاف متحدہ موقف اپنانا ضروری ہے۔

اسرائیل اور امریکہ کے خلاف مشترکہ کارروائی کا مطالبہ

عباس عراقچی نے مغربی ممالک پر الزام عائد کیا کہ وہ ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ میں خودمختاری کی خلاف ورزیوں اور تشدد کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب ایسے اقدامات، جنہیں کبھی ناقابلِ تصور اور شرمناک سمجھا جاتا تھا، مغربی دارالحکومتوں میں یا تو نظر انداز کیے جا رہے ہیں یا کھلے عام قبول کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے برکس ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی ’’غیر قانونی جارحیت‘‘ کی مذمت کریں، اقوام متحدہ کے منشور کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کریں اور عالمی اداروں کے سیاسی استعمال کو روکیں۔

عالمی نظام میں برکس کے کردار پر زور

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ برکس ایک زیادہ متوازن اور منصفانہ عالمی نظام کی تشکیل میں مرکزی ستون بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں برکس ممالک کے درمیان تعاون اور ہم آہنگی پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گئی ہے۔ واضح رہے کہ برکس وزرائے خارجہ اجلاس 14 اور 15 مئی کو نئی دہلی میں منعقد ہو رہا ہے، جس میں عالمی معیشت، جغرافیائی سیاست اور ترقیاتی امور پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Water crisis in Delhi or the tanker business? دہلی میں پانی کا بحران یا ٹینکروں کا کاروبار؟ بھارت ایکسپریس کی تحقیقاتی رپورٹ میں چونکا دینے والے انکشافات

کیشوپور، جنک پوری، روہنی، سونیا وہار اور منگول پوری سمیت کئی علاقوں میں خفیہ کیمرے…

3 hours ago

PM Modi speaks with Canada PM Mark Carney: ’’ہندوستان اور کینیڈا کے تعلقات میں مثبت پیش رفت کو آگے بڑھانے پر اتفاق‘‘ وزیراعظم مودی کی مارک کارنی سے گفتگو

تجارت، توانائی، ٹیکنالوجی، سلامتی اور عوامی روابط سمیت اہم شعبوں میں ٹھوس نتائج حاصل کرنے…

4 hours ago

Rahul Gandhi Defamation Case: ’چوکیدار چور ہے‘ ہتک عزت معاملے میں راہل گاندھی کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت، نچلی عدالت کی کارروائی پر روک

وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ ’چوکیدار چور ہے‘ تبصرے سے متعلق فوجداری ہتک…

4 hours ago