تحریر: اشتیاق ایوبی
خدشات کے عین مطابق جہاں ایک طرف عمان میں ایران امریکہ اسرائیل کے درمیان قطر کی مصالحت سے مصالحتی گفتگو جاری تھی حتی کہ یہ مصالحتی گفتگو اور مشن اپنے امن مقاصد اور گریز جنگ سے متعلق پیش کردہ شرائط پر آمادگی کی دہلیز تک پہنچ چکی تھی کہ اچانک امریکہ اور اسرائیل کے فریب و مکر نے اچانک ایران پر یکطرفہ طور پر فطری اور شیطانی دہشت گردی کو بروۓ کار لاکر ب گزشتہ 28 فروری کی نصف شبحاملہ کر دیا انجام کار تینوں ملکوں کے درمیان باضابطہ جنگ کا آغاز ہونا تھا اور وہ ہو گیا۔ ایران کے تہران سمیت متعدد شہروں میں امریکہ و اسرائیل کے مشترکہ حملے میں مسلسل راکٹ اور میزائل داغے گیے، ایران نے بھی جنگی مدافعت کے طور پر نہایت اولوالعزمی اور بدر و عہد جیسے ایمانی حوصلوں کے ساتھ اس دہشت گردانہ اور جارح جنگی حملے کا سامنا کرتے ہوۓ جوابی حملہ بھی شروع کر دیا۔
امریکہ اور اسراییل کے تین دن میں ایران کو شکست دینے کے خواب آور کھوکھلے دعوؤں کے بر عکس یہ جنگ مسلسل گزشتہ 19 دنوں آج تک جاری ہے۔ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے رد عمل میں ایران بھی زبردست جوابی حاملہ کر کے اسرا ئیل حدود کے اندر گھس کر تباہی مچانے کے ساتھ ساتھ پڑوسی ممالک قطر۔ متحدہ عرب امارات، بحرین۔ سعودی عرب، کویت و دیگر امریکہ و اسرائیل کی پٹھو عرب ریاستوں میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو شدید نشانہ بناکر دونوں شیطان ملکوں پر یہ واضح کر دیا ہے وہ انقلاب اسلامی سے آراستہ ایران ہے مار تو سکتا ہے لیکن دیگر کٹھپتلی عرب ریاستوں کے مانند نہ توگھٹنے سکتا اور نہ ہی غیرت و حمیت کھو چکے عرب حکمرانوں کی طرح طوق غلامی منظور ہے۔
ایران نے یہ بھی واضح کر دیا کہ 1948 میں قائم ناجائز اسرائیلی ریاست کے لاکھوں ظلم و کرم کے باوجود اگر نہتے مظلوم فلسطینی حوصلہ شکن نہیں تو ہم حوصلہ شکن نہیں۔ہم صبح قیامت تک جنگ لڑنے والے اسلامی جانباز ہیں۔ حالیہ جنگ اب صرف ایران اسرائیل اور امریکی جارحیت تک محدود رہنے والی جنگ نہیں رہی بلکہ اس جنگ کا دائرہ پڑوسی خطے کے علاوہ آبناۓ ہرمز کے بحری نقل و حمل پر تازہ ترین عائد پابندیوں کی صورت میں عالمی حدود تک بڑھ چکا ہے۔ آبناۓ ہرمز پر پابندی کے سبب عالمی تجارت پر اس کے مضرت رساں اثرات کا اثر پیدا ہونا بعید از قیاس نہیں بلکہ ایک لازمی حقیقت ہے جس سے مفر ممکن نہیں لیکن اس طرح کی پیدا ہوئ صورت حال کا مجرم اگر کوی ہے تو وہ صرف اور صرف امریکی اور اسرائیلی جنگی دہشت گردی ہے۔ امریکی اور اسرائیلی جنگی جارحیت نے بے سبب عالمی سطح پر نہایت خطرناک جنگی اور معاشی بحران پیدا کیا ہے۔
واقعہ کربلا کے بعد کربل جیسی سی دلیرانہ شہادت
اچانک 28 فروری کی نصف شب امریکہ اور اسرائیل کے شدید دہشت گردانہ یزیدی حملے کے سبب جانی،مالی اور شہری نقصان تو ہونا ہی تھا اور ہوا بھی، یہ سلسلہ اب بھی دونوں طرف جاری ہے لیکن اس حملے کی اول کڑی میں جو ناقابل تلافی نقصان ہوا وہ ایران کے سپریم کمانڈر اور لیڈر سید علی خامنہ ای کی اپنے خاندانی افراد اور دیگر 48 اعلیٰ فوجی اور پالیسی ساز کمانڈرز کی کربل جیسی فاتحانہ شہادت ہے۔ ایران کے اعلیٰ سطحی مشیر کاروں نے ممکنہ جنگی خطرات کو محسوس کرتے ہوۓ سید علی خامنہ ای کسی محفوظ مقام پر منتقل ہو جانے کا مشورہ دیا تھا لیکن انہوں نے اسے یکسر مسترد کرتے ہوۓ کربل کے مانند امریکی اور اسرائیلی یزیدی لشکروں کا سینہ سپر ہو کر حسینی شہادت کی طرح فتح مند موت کو لگانا قبول کرنے کے برعکس چھپنا یا میدان چھوڑنا ہرگز قبول نہیں کیا۔ سید علی خامنہ ای اور ان کے ساتھ شہید ہونے والے اہل خاندان و دیگر کمانڈرز پر مشتمل اکیسویں صدی کی اس نرالی اور کربل کی یاد دلانے والی اولوالعزم شہادت کو کروڑوں نذرانۂ سلام و تعزیت پیش کرتا ہوں بلکہ یہ سلام و تعزیت صرف میں ہی نہیں بلکہ حق اور جہاد پر مر مٹنے والی ایسی شہادت کو عزیز رکھنے والی تمام دنیا پیش کر رہی ہے۔
اس شہادت کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ سپریم کمانڈر سید علی خامنہ ای کے اس مقام کی جہاں وہ اعلیٰ فوجی افسران کے ساتھ میٹنگ کر رہے تھے اس جگہ کی بالکل سٹیک بھنک دشمن کو کیسے لگی۔ یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے ؟ اس اہم سوالیہ نشان سے واضح ہے کہ ایران کے اعلیٰ سطحی فوجی نیز دیگر حکمراں حلقوں تک موساد کے پالتو غداروں کا جال یا خود موساد کی رسائ موجود ہے لہذا اس طرح کی رسائ یا غداروں کاجال ایران کی سلامتی کے لیے بیرونی اور کھلے دشمن سے زیادہ خطرناک ہے۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کہ سید علی خامنہ ای مومنانہ موت کو گلے لگانے کے لئے تیار تھے لیکن یہ کوئ ضروری نہیں کہ وہ 48 جنگی کمانڈرز اور دیگر اہل خانہ بھی سید علی خامنہ ای کی طرح مرنے کے لئے آمادہ ہوں؟ اس حقیقت سے قطعاً انکار نہیں کہ خامنہ کے علاوہ کمانڈروں اور خامنہ ای کے گھروالوں کی شہادت تو غداروں کی مخبری اور سازش کے سبب واقع ہوئ ہے۔ امریکہ اور اسرائیل سید علی خامنہ ای کی حسینی شہادت پر خواہ کتنا ہی دہشتگردانہ جشن و مسرت کا ڈھول بجا لیں لیکن سچ یہی ہےکہ سید علی خامنہ ای کی حسینی شہادت نے فتح و نصرت کا علامتی پرچم نصب کر دیا ہے اور یہ جنگ ایران کے حق میں آج نہیں تو کل فاتح اور فیصلہ کن ثابت ہوگی
اس جنگ میں کون کس پر بھاری؟
تقابلی اعتبار سے دیکھا جائے تو ایران اپنے حریف امریکہ اور اسرا ئیل کے مقابلے میں حرب و ہتھیار کے اعتبار سے قطعی برابر یا بر مقابلہ نہیں ہے لیکن یہ وہ ایران اور ایرانی قوم ہے جس نے قیصر و کسریٰ کی رخصت اور اسلامی ظہور سے لیکر سابقہ پہلوی بادشاہت کے خاتمے کے بعد ایرانی قوم نے سابق بزرگ انقلابی لیڈر آیت اللّٰہ روح اللہ خمینی کے اسلامی انقلاب کی رکھی گئ بنیادوں کو زیور حیات بناکر آج تک کوئ جنگ ہاری نہیں ہے۔ 1979 میں یہی ایرانی قوم امریکی اشاروں پر عراق کے ذریعہ تھوپنی گئ دس سال تک جاری رہنے والی جنگی جارحیت کو دھول چٹا چکی ہے جبکہ اس وقت تو انقلاب اسلامی ایران کے خمینی حکمرانوں کے پاس نہ تو باضابطہ فوج تھی۔ نہ اسلحے تھے نہ ٹیکنالوجی تھی اگر کچھ تو صرف اور صرف اسلامی حمیت اور حسینی حوصلہ تھا جس نے امریکی اور عراقی جارحیت کو دھول چٹانےکی تاریخ رقم کیا۔
آج بھی جب کہ ایک طرف امریکہ و اسرا ئیل دونوں ہی ایٹمی طاقت رکھنے کے علاوہ دونوں جارح ملکوں کے پاس نہایت اعلی درجے کے جنگی ہتھیار موجود ہیں۔اس لحاظ سے دیکھا جائے تو اسلام اور مسلمانوں کے بنیادی اور پیدائشی دونوں دشمنوں کے حربی اسلحوں کے لاتعداد ناقابل تسخیر ذخائر کے مقابل ایران کسی طور پر ہم پلہ نہیں ہے لیکن دلیرانہ حکمت عملی سے آراستہ ایرانی میزائل کے حملوں نے دونوں دشمنوں کو حواس باختہ کر رکھا ہے۔ اگر اس جنگ میں تنہا اسرائیل ہوتا تو ایران نے اپنی جدید میزائلوں کے دم پر اسرا ئیل کو ماضی کی طرح نقصان پہنچا کر کب کا تہہ تیغ کر دیا ہوتا لیکن اسلام دشمن تمام تر عناصر کی پیدا کردہ ناجائز اولاد اسرائیل کی پشت پر امریکہ کی راست شمولیت سے ایران کے لیے چیلنج کافی بڑا ہوگیا ہے لیکن ایران نے اب تک کی جنگی کار کردگی سے یہ ثابت کر رہا ہے کہ یہ ناممکن بھی نہیں ہے ۔
اب تک کی جنگی صورت حال اور اس کے برآمد بھیانک مناظر نے اگر ایک طرف تہران اور دیگر ایرانی علاقوں پر بارودی بارش کا منظر آنکھوں کے سامنے ہے تو دوسری طرف ایران کے جوابی آہنی حوصلوں نے اپنے پڑوسی عرب ممالک میں قائم امریکی اڈوں سے لیکر اسرائیلی حدود کے اندر تل ابیب ، حیفہ، آئ ڈی ایف کے فوجی دفاتر و عمارت کے علاوہ پورے اسرائیل کو ایرانی میزائل کے شعلوں کی نذر کر رکھا ہے۔ حالت یہ ہے کہ گزشتہ اٹھارہ دنوں کی جنگ میں غزہ کا درندہ صفت قاتل درندہ بنجامن نیتن یاہو یا تو مارا جا چکا ہے یا روپوش رہنے کو مجبور ہے۔ امریکہ بہادر جنونی صدر ڈونالڈ ٹرمپ بھی راہ فرار اور جنگ سے نجات کی تلاش میں ہیں۔ اس جنگی مورچے پر ایران کے لئے تین پہلو ایسے ہیں جہاں ایران کا مضبوط حملہ امریکہ و اسرائیل دونوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر رہا ہے۔ وہ تین پہلو یہ ہیں:
1۔ پڑوسی ممالک میں موجود امریکی اڈوں پر بھر پور جنگی نشانہ
2۔ ملک میں موجود اسرائیلی ایجنٹوں پر کنٹرول
3- آبناۓ ہرمز سے گزرنے والے عالمی جہازوں کی گزرگاہ پر پابندی
جنگی حکمت عملی پر مشتمل یہی تین ایسے پہلو ہیں جہاں ایران مضبوطی سے کام کرتے ہوۓ اپنے حملہ اور دونوں دشمنوں پر مسلسل بھاری ثابت ہو رہا ہے۔ مڈل ایسٹ میں امریکہ کی اصل طاقت قطر ،کویت، بحرین اور متحدہ عرب امارات میں موجود اس کے فوجی اڈے ہیں۔انہیں اڈوں سے وہ آس پاس کے عرب ممالک کو کنٹرول میں رکھتا ہے۔ایران نے جنگ کی ابتداء میں ہی ان اڈوں کو مسلسل میزائلی حملوں سے شدید نشانہ بناکر اپنی غالب سبقت کا سلسلہ جاری کر رکھا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے ان بے شرم حلیف عرب ممالک کو نشانہ بناکر ایران نہ صرف ان کی فوجی یا حفاظتی دیوار کو منہدم کر رہا ہے بلکہ امریکہ اور اسرائیل کے تجارتی اور مالی مفاد کو بھی چکنا چور کر رہا ہے۔
اکثر و بیش تر ایران کے علاوہ دیگر وہ ممالک یا مملکتی حکمراں جیسے لیبیا، عراق، یمن، شام، تیونس وغیرہ جنھوں نے امریکہ و اسرائیل سے نظر ملانے کی ماضی میں کوشش کی تو ان پڑوسی عرب ممالک کی راست یا پس پردہ منافقت اور پیروکاری کے علاوہ یہ عرب ملک نے امریکہ و اسرائیل کا آلہ کار بن کر ماضی میں تباہ ہو چکے ملکوں کو تیرہ و تار کرنے کے مجرم ثابت ہوتے رہے ہیں ۔ اگر ایک بار ان ممالک کی عقل ٹھکانے آگئی تو ایران کے لئے آگے کا سارا دفاعی اور جنگی کام قدرے آسان ہوجائے گا۔
گذشتہ کچھ برسوں سے ایران میں موجود موساد کے غداروں کی وجہ سے سید علی خامنہ ای کے علاوہ ماضی میں قاسم سلیمانی، اسماعیل ہانیہ و دیگر اہم فوجی رہنما اور حکمراں نشانہ بنے ہیں۔اس لیے ایران کو چاہیے کہ بیرونی محاذ کے ساتھ ساتھ داخلی محاذ کو بھی مضبوط رکھے تاکہ اس کے اہم لیڈران کسی غدار کی غداری سے محفوظ رہیں اور بیرونی دشمن کا جواب دے سکیں۔ مختلف مصدقہ ذرائع کے مطابق ایران نے اسرائیل کے ساتھ ساتھ سات پڑوسی ممالک میں واقع امریکی اڈوں پر میزائل داغ کر شدید نقصان پہنچا یا ہے۔ ایران نےایسے تمام تر محاذوں اور اسرائیل پر بھر پور جوابی حملہ نیز مضبوط پیش قدمی کر کے امریکہ و اسراییل کے علاوہ سبھی عالمی حکمرانوں کو یہ واضح کر دیا ہے کہ یہ جنگ طویل بھی ہوگی، فیصلہ کن بھی ہوگی اور فاتحانہ کامرانی کا پرچم بھی حسینی عزم و حوصلے سے سرشار پاسداران اسلامی انقلاب ایران کے آہنی حکمران کرینگے۔
یہ سچ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے ذریعہ بے سبب چھیڑی گئی اس دہشت گردانہ جنگ کا شدید نقصان امریکہ و اسرائیل کے علاوہ ایسے ممالک کے حکمرانوں کو بھی ہورہا ہے جو کبھی ایران کے دوست اور سفارتی پاسدار ہوا کرتے تھے لیکن آج اسرائیلی اور امریکی فریب و مکر یا پس پردہ خوف و مجبوری کے سبب خاموش تماش بین بنے ہوئے ہیں ان کے اور ان کے ملک کے لئے بھی در پیش خطرات و نقصانات کی بھر پائی آسان نہیں ہوگی۔ تمام ملک و ملک کا مالک اللہ ہے اور اللہ ہی کل و آخر ہے، اللہ کی ذات ہی بدر و عہد اور کربل کی طرح ظالم و جارح کو شکست اور مظلو و کمزور حسینی فتح عطا کرنے والی ذات ہے
علی خامنہ ای کی شہادت کی نذر مصرع تعزیت
ہر چہار سو ماتم ماتم ہے
جدھر دیکھو دیدۂ نم ہے
کوئ اس کو بھلانہیں سکتا
کوی اس کو مٹا نہیں سکتا
فتح کربل کی چادر میں لپٹی
مظلوم خامنہ ای کی شہادت ہے
بھارت ایکسپریس اردو۔
نئی دہلی میں منعقدہ 11ویں سنت ایشور سمان میں خدمات انجام دینے والی شخصیات اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی ہندوستان کی بیٹیوں کو گولڈ میڈل جیتنے پر…
راجہ وڈنگ کے استعفے کے چند گھنٹے بعد کانگریس نے پرگٹ سنگھ کو پنجاب پردیش…
ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…
نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…
گاندھی جینتی پر دہلی سمیت کئی شہروں میں SIR اور مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف…