نئی دہلی : مغربی بنگال کی آئی پی ایس افسر بشریٰ بانو کے معاملے کو لے کر سیاسی تنازع تیز ہو گیا ہے۔ ممتا بنرجی کی قریبی اور ٹی ایم سی کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے براہِ راست مودی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک طرف حکومت خود کو سیکولر قرار دیتی ہے، جب کہ دوسری جانب ایک مسلم خاتون افسر کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔مہوا موئترا نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف بی جے پی حکومت برکس سربراہی اجلاس میں نماز کے لیے کمرہ بنا کر اپنی سیکولر شبیہ پیش کر رہی ہے، تو دوسری طرف ایک مسلم خاتون آئی پی ایس افسر ڈاکٹر بشریٰ بانو کو صرف ’السلام علیکم‘انشاء اللہاور ’جزاک اللہ‘ کہنے پر کنارے کر دیا گیا۔ میڈیا کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ گودی میڈیا کی جانب سے پھیلائی جا رہی نفرت کو ہی آگے بڑھا رہا ہے۔ مہوا نے کہا، ’’بشریٰ، ہم آپ کے ساتھ ہیں۔‘‘
کیا ہے پورا معاملہ؟
حال ہی میں بشریٰ بانو نے اپنے سفر کے بارے میں ایک ویڈیو شیئر کیا تھا۔ ویڈیو کی شروعات انہوں نے ’السلام علیکم‘ سے کی، درمیان میں ’ان شاء اللہ‘ کہا اور آخر میں ’جزاک اللہ‘ کہہ کر ویڈیو ختم کیا۔ان کے انہی الفاظ کو لے کر مغربی بنگال کے محکمہ داخلہ کے سکریٹری کے پاس شکایت درج کرائی گئی ہے۔ شکایت کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ایک سرکاری افسر کو عوامی پیغام میں مذہبی نوعیت کے خیرمقدم یا اظہار سے گریز کرنا چاہیے اور غیر جانب دار رہتے ہوئے قومی نوعیت کے الفاظ کا استعمال کرنا چاہیے۔ بتایا گیا ہے کہ ’ہندو لیگل فنڈ‘ نامی ایک تنظیم نے مغربی بنگال کے محکمہ داخلہ کے سکریٹری سے اس معاملے میں شکایت کی ہے۔
کس نے کی شکایت؟
ہندو لیگل فنڈ تنظیم کا الزام ہے کہ آئی پی ایس افسر بشریٰ بانو نے اپنے ویڈیو میں اردو اور اسلامی انداز کے خیرمقدمی الفاظ کا استعمال کیا، لیکن ’جے ہند‘ یا ’وندے ماترم‘ جیسے قومی نعروں یا سلام کا استعمال نہیں کیا۔تنظیم نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی ریاست کی نمائندگی کرنے والے کسی بھی حاضر سروس افسر کو عوامی گفتگو میں مذہبی غیر جانب داری برقرار رکھنی چاہیے۔ تنظیم نے محکمہ داخلہ کے سکریٹری سے اس معاملے کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔دوسری جانب مہوا موئترا نے اس کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے ایک مسلم خاتون آئی پی ایس افسر کو نشانہ بنانے کی کوشش قرار دیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
سی این این کے مطابق بعض امریکی حکام کا خیال ہے کہ ٹرمپ رواں سال…
سیمینار کی خاص کشش ’اٹھنی‘ نکڑ ناٹک کی پیش کش رہی، جسے پرتدھونی تھیٹر سوسائٹی…
کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے نے کہا کہ یہ صرف ووٹ بچانے کی لڑائی نہیں، بلکہ…
خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق، کیرالا ہائی کورٹ نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ…
راہل گاندھی نے انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات اور الیکشن کمیشن کے خلاف جاری احتجاج…
آن لائن کلاسوں سے متعلق جاری ہدایت میں یونیورسٹی انتظامیہ نے طلبا سے کیمپس نہ…