بھوج: مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے گجرات کے شہر بھوج میں بھارت-پاکستان سرحد (آئی پی بی) سے متصل گجرات کے سرحدی اور ساحلی اضلاع سے متعلق سکیورٹی امور پر ایک اعلیٰ سطحی جائزہ میٹنگ کی صدارت کی۔ اس موقع پر گجرات کے وزیر اعلیٰ، نائب وزیر اعلیٰ، چیف سیکریٹری، گجرات کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) سمیت ریاستی حکومت کے دیگر سینئر افسران اور کچھ، واؤ تھراد اور پاٹن کے ضلع مجسٹریٹ (ڈی ایم) اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) بھی موجود تھے۔
سرحدی انتظام کو مزید مضبوط بنانے پر زور
میٹنگ میں بھارت-پاکستان سرحد کے ساتھ واقع علاقوں کو درپیش چیلنجز پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مؤثر اور جامع سرحدی انتظام کے لیے ریاستی حکومت، بالخصوص ڈی ایم اور ایس پی کی فعال اور مؤثر شمولیت پر زور دیا گیا۔ امت شاہ نے کہا کہ سرحدی باڑ بندی، سمندری سرحد کی مضبوط نگرانی اور ریاستی حکومت کے مضبوط سیاسی عزم کے نتیجے میں گجرات کی سکیورٹی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے اور ریاست میں دراندازی اور سرحدی اسمگلنگ مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔
انہوں نے ہدایت دی کہ بین الاقوامی سرحد سے صفر تا 15 کلومیٹر کے علاقے میں کسی بھی غیر مجاز قبضے یا تجاوزات کے خلاف ’’زیرو ٹالرنس‘‘ پالیسی اختیار کرتے ہوئے ان کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جائے۔ ساتھ ہی سرحدی علاقوں میں انتہاپسندی اور شدت پسندی کے مراکز پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
آبادیاتی تبدیلیوں کی نگرانی ضروری
مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ سرحدی اضلاع کے ضلع مجسٹریٹ کو آبادیاتی تبدیلیوں کی سخت نگرانی کرنی چاہیے اور اس حوالے سے باقاعدہ رپورٹنگ کو یقینی بنانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سرحدی علاقوں میں صنعتی یونٹس کے قیام کے باعث ہونے والی ’’ریورس مائیگریشن‘‘ ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ پہلے سے مقیم غیر قانونی دراندازوں کی شناخت اور واپسی کے عمل میں پولیس اسٹیشن سے لے کر پٹواری سطح تک تمام متعلقہ اداروں کو متحد ہو کر کام کرنا چاہیے۔ امت شاہ نے ہدایت دی کہ ہر سرحدی ضلع اپنی ضروریات اور مقامی چیلنجز کے مطابق معیاری عملی طریقہ کار (ایس او پی) تیار کرے، جس میں پہلے سے موجود غیر قانونی دراندازوں، ڈرون سرگرمیوں اور منشیات کی اسمگلنگ کی شناخت کو یقینی بنایا جائے۔
اقتصادی جرائم اور حوالہ لین دین پر کڑی نظر
انہوں نے کہا کہ ہر ضلع میں ایک سکیورٹی کوآرڈینیشن گروپ تشکیل دیا جائے، جس میں بی ایس ایف، کوسٹ گارڈ، محکمہ انکم ٹیکس، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) اور لیڈ بینک کے منیجرز کو شامل کیا جائے۔ امت شاہ نے کہا کہ انکم ٹیکس، منی لانڈرنگ اور کسٹمز قوانین کے مؤثر نفاذ کی ذمہ داری ضلع مجسٹریٹ، ایس پی اور بارڈر رینج کے آئی جی پر ہونی چاہیے۔ انہوں نے سرحدی اضلاع میں حوالہ لین دین، منی ٹرانزیکشنز، میول اکاؤنٹس، شیل کمپنیوں، مشتبہ گاڑیوں اور جی ایس ٹی وصولی پر سخت نگرانی کی ضرورت پر زور دیا۔
ساحلی سکیورٹی اور ترقیاتی منصوبوں پر توجہ
مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ اقتصادی جرائم سے نمٹنے والی ایجنسیوں کو سرحدی علاقوں کے حوالے سے خصوصی طور پر متحرک کیا جانا چاہیے اور محکمہ انکم ٹیکس و ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے اشتراک سے بڑے پیمانے پر سروے مہم چلائی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سمندری سرحد کے قریب واقع علاقوں میں ساحلی سکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے اور بھارتی کوسٹ گارڈ کے ساتھ مؤثر تال میل قائم کرنے کی ضرورت ہے۔
امت شاہ نے زور دے کر کہا کہ وائبرنٹ ولیجز پروگرام سمیت مرکزی اور ریاستی حکومت کی تمام فلاحی اور ترقیاتی اسکیموں کا سرحدی دیہات میں سو فیصد نفاذ اور استفادہ یقینی بنایا جانا چاہیے، تاکہ ان علاقوں کی ترقی اور سلامتی کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔
بھارت ایکسپریس۔
پرتگال 24 ستمبر کو گھریلو میدان پر ویلز کے خلاف نیشنز لیگ مہم کا آغاز…
ہرارے اسپورٹس کلب میں کھیلے گئے مقابلے میں آسٹریلیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 50…
جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے زمین سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں کارروائی روکنے کی درخواست…
ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی کی جانب سے نندی گرام میں کانگریس امیدوار کی…
جلیل اختر کو 19 جون کو پولیس نے حراست میں لیا تھا، عدالت نے سرکاری…
ٹرانسپورٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ قوانین پر عمل یقینی بنانا ضروری ہے، لیکن ضابطے…