جکارتہ: وزیراعظم نریندر مودی پیر کے روز انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ پہنچے، جہاں ان کا پرتپاک اور شاندار استقبال کیا گیا۔ انڈونیشیا کی فضائی حدود میں داخل ہوتے ہی انڈونیشیائی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے وزیر اعظم کے خصوصی طیارے کو اعزازی حصار میں لے کر روایتی خیرمقدمی سلامی پیش کی۔ یہ وزیر اعظم مودی کے تین ملکی دورے کا پہلا مرحلہ ہے، جس کے بعد وہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کا بھی دورہ کریں گے۔ جکارتہ پہنچنے پر انڈونیشیا کے صدر پربوو سوبیانتو نے وزیر اعظم نریندر مودی کا خیرمقدم کیا۔ اس موقع پر روایتی ثقافتی رقص بھی پیش کیا گیا، جس کے ذریعے معزز مہمان کا استقبال کیا گیا۔
ایکٹ ایسٹ پالیسی اور مہاساگر وژن کو ملے گی تقویت
روانگی سے قبل جاری اپنے بیان میں وزیر اعظم مودی نے کہا تھا کہ انڈونیشیا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کا یہ دورہ بھارت کے ان اہم شراکت دار ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کا دورہ بھارت کی ’ایکٹ ایسٹ پالیسی‘، ’مہاساگر وژن‘ اور آزاد و کھلے ہند-بحرالکاہل خطے کے تصور کو مزید تقویت دے گا۔ وزیراعظم نے بتایا کہ ’مہاساگر‘ (MAHASAGAR) یعنی Mutual and Holistic Advancement for Security Across the Regions کا مقصد سمندری خطے میں سلامتی، استحکام اور ہمہ گیر ترقی کو فروغ دینا ہے۔
جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید فروغ
وزیر اعظم مودی 6 سے 8 جولائی تک صدر پربوو سوبیانتو کی دعوت پر انڈونیشیا کے دورے پر ہیں۔ مئی 2018 میں دونوں ممالک کے تعلقات کو جامع اسٹریٹجک شراکت داری کی سطح تک بلند کیے جانے کے بعد یہ وزیر اعظم مودی کا پہلا دوطرفہ دورہ اور مجموعی طور پر ان کا چوتھا دورۂ انڈونیشیا ہے۔ اس دوران وہ بھارتی برادری سے ملاقات کریں گے اور صدر پربوو سوبیانتو کے ہمراہ یوگیاکارتا میں واقع پرمبانن مندر کا بھی دورہ کریں گے، جو یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ہے اور دونوں ممالک کے قدیم تہذیبی تعلقات کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
دفاع، تجارت اور اہم معدنیات پر خصوصی توجہ
اس دورے میں دفاعی اور سمندری تعاون کو مزید وسعت دینا دوطرفہ ایجنڈے کا اہم حصہ ہوگا۔ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی دوروں، مشترکہ فوجی مشقوں، دفاعی صنعت میں تعاون اور برہموس میزائل کی فروخت جیسے اقدامات سے دفاعی تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔ انڈونیشیا اس وقت آسیان خطے میں بھارت کا دوسرا بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ مالی سال 2025-26 کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم 24.78 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گیا، جبکہ 130 سے زائد بھارتی کمپنیاں انڈونیشیا میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان اہم معدنیات کے شعبے میں تعاون بھی مذاکرات کا اہم موضوع ہوگا۔ انڈونیشیا دنیا کے تقریباً 21 فیصد نکل کے ذخائر کا مالک ہے اور تانبے، باکسائٹ اور ٹِن کی پیداوار میں بھی عالمی سطح پر نمایاں مقام رکھتا ہے۔ وزیر اعظم مودی کی آمد سے قبل انڈونیشیا میں مقیم بھارتی برادری کے افراد نے اس دورے کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس سے کان کنی، توانائی، بنیادی ڈھانچے اور جدید ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو نئی رفتار ملے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ووشو میں روشیبینا دیوی نے سلور جبکہ روئنگ کے مینز ڈبل اسکلز مقابلے میں ستنم…
’اڈانی آروگیہ مندر‘ میں جدید میڈیکل کالج، جدید تحقیق اور طبی نگہداشت کی سہولیات ہوں…
پی ایچ ڈی سی سی آئی کے سیمینار میں لیبر کوڈز کے عملی نفاذ، اجرت،…
اپوزیشن کی جانب سے گرفتاری کا مطالبہ، 2023 کے قانون کی دفعہ 16 میں انتخابی…
’ڈِس بیٹل‘ کے دوران ریتی تیواری اور قاضی توقیر کے درمیان شدید جھڑپ، ریتی کی…
کنّوا کے قریب تین بلڈوزر کھڑے کرکے اکھلیش یادو کے رتھ پر کی گئی پھولوں…