قومی

Prime Minister Narendra Modi: ’گنیشا ایک سنسکرتی‘ کو وزیر اعظم مودی کی آمد کا انتظار، گزشتہ دورے میں شیف نے پیش کیے تھے بھارتی پکوان

نئی دہلی : بھارت اور انڈونیشیا کے تعلقات تقریباً دو ہزار برس پر محیط تاریخی، ثقافتی اور تہذیبی رشتوں پر استوار ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی کا مجوزہ چوتھا دورۂ انڈونیشیا بھی دونوں ممالک کے درمیان اسی مضبوط تعلق کی عکاسی کرتا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان ثقافت، مذہب، فنون اور طرزِ زندگی کا گہرا اشتراک رہا ہے، جس کے باعث بھارتی تہذیب، موسیقی، روایات اور کھانوں نے انڈونیشیا میں بھی اپنی ایک منفرد شناخت قائم کر رکھی ہے۔اسی ثقافتی ہم آہنگی کی ایک نمایاں مثال ’’گنیشا ایک سنسکرتی‘‘ نامی فوڈ چین ہے، جو گزشتہ 33 برس سے انڈونیشیا میں بھارتی ذائقوں اور ثقافت کو فروغ دینے کا کام کر رہی ہے۔ یہ صرف ایک ریستوران نہیں بلکہ بھارت اور انڈونیشیا کے درمیان ثقافتی روابط کی علامت سمجھا جاتا ہے، جہاں کھانوں کے ساتھ بھارتی تہذیب اور مہمان نوازی کی جھلک بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔

فوڈ چین کی بانی شلپا دوے اور ان کی پوری ٹیم وزیر اعظم نریندر مودی کی آمد کے لیے بے حد پُرجوش ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مودی کا یہ دورہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا بہترین موقع ثابت ہوگا۔آئی اے این ایس سے گفتگو کرتے ہوئے شلپا دوے نے بتایا کہ وزیر اعظم مودی اس سے قبل بھی انڈونیشیا آ چکے ہیں اور جب وہ بالی کے دورے پر آئے تھے تو ان کے ریستوران کے شیف نے وزیر اعظم کے لیے خصوصی طور پر بھارتی کھانے تیار کیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس بار بھی پوری ٹیم وزیر اعظم مودی سے ملاقات کی منتظر ہے اور ان کی آمد پر بے حد خوش ہے۔شلپا دوے نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے عالمی سطح پر بھارت اور بھارتیوں کا وقار بلند کیا ہے، جس کی وجہ سے بیرونِ ملک مقیم بھارتی خود کو اپنے وطن سے مزید قریب محسوس کرتے ہیں۔

شلپا گزشتہ 33 برس سے انڈونیشیا میں مقیم ہیں اور مسلسل بھارتی کھانوں اور ثقافت کے فروغ کے لیے سرگرم ہیں۔ انہوں نے 12 جولائی 2003 کو ’’گنیشا ایک سنسکرتی‘‘ کی بنیاد رکھی تھی۔ ان کے مطابق اس ریستوران کا مقصد انڈونیشیا کے لوگوں کو مستند بھارتی پکوانوں سے روشناس کرانا تھا۔ آج انڈونیشیا کے علاوہ جنوبی ایشیا کے مختلف علاقوں میں بھی اس فوڈ چین کے متعدد آؤٹ لیٹس موجود ہیں، جہاں بھارتی کھانوں کے ساتھ بھارتی ثقافت کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔انڈونیشیا میں تقریباً ایک لاکھ بیس ہزار بھارتی نژاد افراد اور لگ بھگ دس ہزار بھارتی پیشہ ور افراد مقیم ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی، تجارتی اور تزویراتی تعلقات نہایت مضبوط سمجھے جاتے ہیں۔ ہندو مت، بدھ مت اور بعد ازاں اسلام بھی بھارت کے ذریعے ہی انڈونیشیا پہنچا، جبکہ رامائن اور مہابھارت جیسے عظیم رزمیے آج بھی وہاں کی لوک ثقافت، تھیٹر اور فنون کا اہم حصہ ہیں۔ بالی جزیرے میں ہندو تہذیب کے اثرات آج بھی نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔وزیر اعظم نریندر مودی اپنے سرکاری دورے کے دوران یوگیاکارتا میں واقع یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل پرمبانن مندر کمپلیکس کا بھی دورہ کریں گے، جسے بھارت اور انڈونیشیا کے مشترکہ ثقافتی رشتوں کی ایک اہم علامت تصور کیا جاتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Top Govt. Jobs with Foreign Posting: سرکاری ملازمت بھی، بیرون ملک سفر بھی! جانیں کن ملازمتوں میں ملتی ہے سب سے زیادہ غیر ملکی پوسٹنگ

زیادہ تر لوگ سرکاری ملازمت کو صرف ملازمت کا تحفظ، مستقل آمدنی اور دیگر سہولتوں…

46 minutes ago

Nobel Peace Prize: ’مجھے کیوں نہیں؟‘ ڈونلڈ ٹرمپ نے نوبیل امن انعام پر نوبیل کمیٹی کو سنائی کھری کھری

نوبیل امن انعام 2026 کے اعلان سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار…

2 hours ago