قومی

India’s time has come: لگژری گھڑیوں کے بڑھتے بازار میں ہندوستان کا وقت آچکا ہے،سوئس گھڑیوں کی مانگ میں اضافہ ریکارڈ

بھارت سوئس گھڑیوں کے لیے تیزی سے ابھرتا ہوا ایک اہم بازار بن رہا ہے، جہاں 2024 میں سوئس گھڑیوں کی درآمدات میں 25 فیصد اضافہ ہوا، جو کہ عالمی سطح پر سب سے تیز رفتار ترقی ہے۔ فیڈریشن آف دی سوئس واچ انڈسٹری کے مطابق، 2025 کے پہلے سہ ماہی میں بھارت میں سوئس گھڑیوں کی برآمدات 10.5 فیصد بڑھیں، جو کہ CHF 274 ملین تک پہنچ گئیں۔ اس ترقی کی بنیادی وجہ بھارت کی بڑھتی ہوئی دولت مند اور خواہشمند متوسط طبقے کی عالمی فیشن رجحانات سے ہم آہنگی اور ڈسپوزایبل آمدنی میں اضافہ ہے۔ لگژری برانڈز جیسے کہ ہبلوٹ، ٹیگ ہیور، اور رولکس بھارت میں اپنی موجودگی بڑھا رہے ہیں، جبکہ نئی بوتیکس کھولنے اور ای-کامرس کے ذریعے فروخت کو فروغ دے رہے ہیں۔

لگژری گھڑیوں کی مقبولیت کے پیچھے محرکات

بھارت میں لگژری گھڑیوں کی مانگ میں اضافے کی کئی وجوہات ہیں۔ ایک طرف، نوجوان نسل میں برانڈڈ اور خصوصی ٹائم پیسز کی طرف رجحان بڑھ رہا ہے، جو سماجی حیثیت اور انفرادیت کی علامت کے طور پر دیکھے جاتے ہیں۔ دوسری طرف، بھارت کی معاشی ترقی نے امیروں کی تعداد بڑھائی ہے، جو کسٹم میڈ گھڑیوں پر بھاری سرمایہ کاری کر رہے ہیں، جیسے کہ دہلی کے ایک شوقین نے 1.6 کروڑ روپے کی لگژری گھڑی خریدی۔ اس کے علاوہ، بھارت-ای ایف ٹی اے تجارت معاہدے کے تحت ستمبر 2025 سے سوئس گھڑیوں پر درآمدی ڈیوٹی میں کمی متوقع ہے، جو اگلے آٹھ سالوں میں مرحلہ وار ختم ہو جائے گی۔ یہ پالیسی لگژری گھڑیوں کی قیمتوں کو مزید پرکشش بنائے گی، جس سے مانگ میں اضافہ ہوگا۔

اگرچہ بھارت سوئس گھڑیوں کے لیے ایک امید افزا بازار ہے، لیکن کچھ چیلنجز بھی موجود ہیں۔ بھارتی صارفین اکثر مشرق وسطیٰ جیسے بازاروں سے گھڑیاں خریدتے ہیں، جہاں ٹیکس ڈھانچہ زیادہ سازگار ہے۔ اس کے علاوہ، سمارٹ واچز کی بڑھتی ہوئی مقبولیت روایتی لگژری گھڑیوں کے لیے مقابلہ پیدا کر رہی ہے۔ تاہم، سوئس واچ میکرز اپنی برانڈ ویلیو، دستکاری، اور محدود ایڈیشنز کے ذریعے اپنی منفرد پوزیشن برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ بھارت کی واچ مارکیٹ، جو 2024 میں 3.2 بلین ڈالر کی تھی، 2033 تک 5.13 بلین ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، جس میں لگژری اور سمارٹ واچز دونوں شامل ہیں۔

عالمی تناظر میں بھارت کی پوزیشن

چین میں لگژری گھڑیوں کی مانگ میں کمی اور امریکہ میں نئے درآمدی محصولات کے اثرات کی وجہ سے سوئس واچ انڈسٹری کے لیے بھارت ایک اہم متبادل بازار بن گیا ہے۔ 2025 کے پہلے سہ ماہی میں چین کو سوئس گھڑیوں کی برآمدات 17 فیصد کم ہوئیں، جبکہ امریکہ کو برآمدات 25 فیصد گر گئیں۔ اس کے برعکس، بھارت کی مسلسل ترقی نے اسے سوئس واچ میکرز کے لیے ایک ترجیحی مقام بنایا ہے۔ ہبلوٹ کے سی ای او جولین ٹورنارے نے کہا کہ بھارت لگژری کے لیے صحیح سمت میں جا رہا ہے، اور برانڈز اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے نئے اسٹورز کھول رہے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ بھارت کی یہ ترقی صرف لگژری کی مانگ نہیں، بلکہ متنوع صارفین کے رجحانات کی عکاسی کرتی ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

Rahmatullah

Recent Posts

Dewas Spurious Liquor Tragedy: مدھیہ پردیش کے دیواس میں مشتبہ زہریلی شراب سے 13 اموات، چار دوستوں کی ایک ساتھ موت سے مچی سنسنی

صرف 20 دن کے اندر چاندانا اور بنجانا گاؤں میں 13 افراد کی مشتبہ حالات…

56 minutes ago

INDIA Alliance Mega Rally: ایس آئی آر کے معاملے پر سنجے دت نے کھولا محاذ، یکم نومبر کو دہلی میں ’ووٹ بچاؤ، ملک بچاؤ‘ ریلی

کانگریس کے ہریانہ انچارج نے الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور بیلٹ پیپر کے…

2 hours ago

India vs New Zealand: تلک ورما بنے ٹیم انڈیا کے ہیرو، بھارت نے پھر کیا کمال، نیوزی لینڈ کو ہرا کر سیریز میں 2-0 کی برتری حاصل

کرائسٹ چرچ میں کھیلے گئے دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں بھارت نے نیوزی لینڈ کو…

2 hours ago

Delhi School Incident: دہلی کے اسکول میں دردناک واقعہ، بارہویں جماعت کی طالبہ نے اسکول کیمپس میں لگائی آگ، موقع پر ہی موت

دہلی کے کرشنا نگر میں واقع سروودیہ بال ایوم بالیکا ودیالیہ میں بارہویں جماعت کی…

3 hours ago