نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کو کہا کہ بھارت کا ٹیکسٹائل سیکٹر اب محض ایک روایتی صنعت نہیں رہا بلکہ یہ روزگار پیدا کرنے والی ایک مضبوط اور تیزی سے ترقی کرتی طاقت بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ شعبہ عوام کو مرکز میں رکھ کر ترقی کر رہا ہے اور خود کفیل بھارت کے تصور کی حقیقی عکاسی کرتا ہے۔ وزیر اعظم نے مرکزی وزیر برائے ٹیکسٹائل گری راج سنگھ کے ایک مضمون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی پیداوار سے منسلک ترغیبی اسکیمیں (پی ایل آئی) اور نئے فری ٹریڈ ایگریمنٹس (ایف ٹی اے) ٹیکسٹائل سیکٹر میں روزگار کے بے شمار نئے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔ ان اقدامات سے نہ صرف ملکی صنعت کو تقویت ملی ہے بلکہ بھارت عالمی سطح پر بھی ایک مضبوط ٹیکسٹائل حب کے طور پر ابھرا ہے۔
گری راج سنگھ کے مطابق، بھارت کے ٹیکسٹائل سیکٹر کی مضبوطی کی سب سے بڑی وجہ مضبوط گھریلو مانگ اور تیزی سے بڑھتی ہوئی کھپت ہے۔ 140 کروڑ سے زائد آبادی کے ساتھ بھارت دنیا کی سب سے بڑی اور طاقتور ٹیکسٹائل منڈیوں میں شامل ہو چکا ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں میں بھارت کی گھریلو ٹیکسٹائل منڈی 8.4 لاکھ کروڑ روپے سے بڑھ کر تقریباً 13 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی میں عوام کے لباس پر خرچ کرنے کے انداز میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ سال 2014-15 میں جہاں فی کس ٹیکسٹائل اخراجات تقریباً 3,000 روپے تھے، وہیں 2024-25 میں یہ بڑھ کر 6,000 روپے سے تجاوز کر چکے ہیں۔ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ 2030 تک یہ خرچ 12,000 روپے فی کس تک پہنچ جائے گا، جو اس شعبے کی مستقبل کی طاقت کو ظاہر کرتا ہے۔
ٹیکسٹائل سیکٹر میں برآمدات نے بھی غیر معمولی رفتار پکڑی ہے۔ کورونا وبا کے دوران سال 2019-20 میں ٹیکسٹائل اور ریڈی میڈ گارمنٹس کی برآمدات 2.49 لاکھ کروڑ روپے تھیں، جو 2024-25 میں بڑھ کر تقریباً 3.5 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہیں۔ وبا کے بعد کے دور میں اس میں تقریباً 28 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ یہ اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت عالمی طلب میں اضافے کے ساتھ اپنی پیداوار کو تیزی سے بڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس سے ٹیکسٹائل سیکٹر میں براہ راست اور بالواسطہ دونوں طرح کے روزگار کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
انہوں نے پی ایم میگا انٹیگریٹڈ ٹیکسٹائل ریجن اینڈ اپیرل (پی ایم مِتر) پارک اسکیم کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔ اس اسکیم کے تحت تقریباً 18,500 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ حکومت نے ملک میں سات پی ایم مِتر پارکس قائم کرنے کی منظوری دی ہے، جن پر 2021-22 سے 2027-28 کے درمیان 4,445 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے۔ یہ پارکس تمل ناڈو، تلنگانہ، گجرات، کرناٹک، مدھیہ پردیش، اتر پردیش اور مہاراشٹر میں قائم کیے جائیں گے۔ حکومت کے مطابق ہر پارک سے تقریباً 10,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری آئے گی اور تقریباً تین لاکھ افراد کو روزگار کے مواقع حاصل ہوں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پیوپلس اویرنس فورم کے صدر اور سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے…
ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…
خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…
گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…