قومی

India’s Space Odyssey Under PM Narendra Modi: وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان کا خلائی سفر ایک سنہری دور کا عکاس، کگن یان کی تیاری کیلئے اہم قدم

ہندوستان کا خلائی پروگرام وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے، جہاں سائنسی ترقی، قومی فخر اور بین الاقوامی شراکت داری کے سنگم سے نئی تاریخیں رقم ہو رہی ہیں۔ حالیہ برسوں میں خلائی میدان میں جو نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں، وہ نہ صرف ہندوستان کی ٹیکنالوجی پر مہارت کی عکاسی کرتی ہیں، بلکہ دنیا میں ایک طاقتور خلائی قوم کے طور پر ہمارے مقام کو بھی مستحکم کرتی ہیں۔

انسانی خلائی سفر میں نیا باب: شبھانشو شکلا کا کارنامہ

ایئر فورس کے گروپ کیپٹن شبھانشو شکلا نے Axiom Mission 4 (Ax-4) کے ذریعے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS) کا سفر کر کے ریکارڈ قائم کیا۔ وہ راکیش شرما کے بعد خلا میں جانے والے دوسرے اور ISS پر قدم رکھنے والے پہلے ہندوستانی بنے۔

اس 18 روزہ مشن میں انہوں نے 60 سے زائد سائنسی تجربات کیے، جن میں سات تجربات ISRO کی جانب سے نامزد تھے۔

کلیدی تجربہ  Myogenesis

یہ تحقیق مائیکرو گریوٹی میں انسانی عضلات کی کمزوری پر مرکوز تھی، جس کا مقصد خلا بازوں اور پٹھوں کی بیماریوں سے متاثرہ مریضوں کے لیے علاج تلاش کرنا ہے۔

گگن یان کی تیاری کا اہم قدم

Ax-4 مشن، گگن یان مشن کی راہ ہموار کرنے والا سنگِ میل ہے، جو 2027 میں ہندوستانی خلا بازوں کو ملکی ٹیکنالوجی کے ذریعے زمین کے نچلے مدار میں بھیجنے کا منصوبہ ہے۔ مشن پر تقریباً 548 کروڑ روپے کی لاگت آئی، جو عالمی خلائی مشنوں کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔

مودی حکومت کی خلائی میدان میں دیگر تاریخی کامیابیاں

چندریان-3 (2023)

23 اگست 2023 کو ہندوستان نے چندریان-3 کے ذریعے چاند کے جنوبی قطب پر کامیاب لینڈنگ کر کے تاریخ رقم کی۔

یہ کارنامہ انجام دینے والا پہلا ملک اور چاند پر اترنے والا چوتھا ملک بنا (امریکہ، روس، چین کے بعد)۔

لاگت: صرف 615 کروڑ روپے۔

آدتیہ-ایل1 مشن

سورج کے بیرونی پرتوں کا مطالعہ کرنے کے لیے ہندوستان کا پہلا سورج مشن۔

لاگت: محض 378 کروڑ روپے۔

پی ایس ایل وی-C37 (2017)

ایک ہی راکٹ سے 104 سیٹلائٹ لانچ کر کے عالمی ریکارڈ بنایا، جن میں سے 101 سیٹلائٹس غیر ملکی تھیں۔

خود انحصاری اور کم لاگت: ہندوستانی خلائی پروگرام کی شناخت

ایک وقت تھا جب ہندوستان کو کریوجینک ٹیکنالوجی دینے سے انکار کیا گیا تھا، مگر ISRO کے سائنس دانوں نے اس کا دیسی حل نکال کر دنیا کو حیران کر دیا۔ آج ہندوستان اپنے ہی کریوجینک انجن کی مدد سے کئی سیٹلائٹ ایک ساتھ خلا میں بھیج رہا ہے۔

چندریان-2 سے سبق، چندریان-3 کی کامیابی

2019 میں چندریان-2 مشن کے دوران لینڈر ’وکرم‘ ناکام ہو گیا تھا، لیکن اس ناکامی کو ہندوستان نے ہمت میں بدلا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے ISRO کے سائنس دانوں کے ساتھ کھڑے ہو کر ان کا حوصلہ بڑھایا۔ یہی حوصلہ چندریان-3 کی کامیابی کی بنیاد بنا۔

خلائی ٹیکنالوجی کا عوامی فائدہ: مودی حکومت کی ترجیح

مودی حکومت نے خلائی ٹیکنالوجی کو صرف سائنس تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اسے عام زندگی کی بہتری کے لیے استعمال کیا: زراعت میں جدید طریقوں کی رہنمائی، آفات کے وقت ریموٹ سینسنگ کے ذریعے فوری ردعمل، روبوٹک سرجری، ریلویز، پانی کی میپنگ، دفاعی نظام میں خلائی ٹیکنالوجی کا استعمال۔

مستقبل کی جھلک

گگن یان مشن (2027) میں ہندوستانی خلا باز ملکی راکٹ سے خلا کا سفر کریں گے۔

2035 تک ہندوستان کا اپنا خلائی اسٹیشن بنانے کا ہدف۔

2040 تک چاند پر انسان بھیجنے کا خواب۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان نے خلائی میدان میں جو پیش رفت کی ہے، وہ صرف سائنسی کامیابی نہیں بلکہ قومی وقار، خود انحصاری اور عالمی قیادت کی طرف بڑھتا ہوا قدم ہے۔ کم خرچ، زیادہ اثر والی حکمت عملی اور خلائی ٹیکنالوجی کو سماج کے فائدے کے لیے استعمال کرنا — یہی ہے مودی حکومت کی خلائی پالیسی کا جوہر۔ ہندوستان کے نوجوانوں، سائنسدانوں اور ہر شہری کے لیے خلائی دنیا کا دروازہ کھل گیا ہے اور یہ صرف آغاز ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Adani Power: اڈانی پاور اور ڈروک گرین پاور بھوٹان میں 770 میگاواٹ کا ہائیڈرو پاور منصوبہ قائم کریں گے

یہ ہائیڈرو پاور منصوبہ وسطی بھوٹان کے جھیمگانگ ضلع میں چامکھرچھو دریا پر قائم کیا…

38 minutes ago

JNU Students on Indefinite Hunger Strike: جے این یو میں طلبہ کی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال، یہ ہیں اہم مطالبات

طلبہ کا الزام ہے کہ بھوک ہڑتال کے دوران JNU کے وائس چانسلر نے چیف…

3 hours ago