بھارت ایک تاریخی سنگِ میل کے دہانے پر کھڑا ہے: 2026 تک نکسلی ازم سے مکمل نجات۔ دہائیوں پر مشتمل تشدد، خوف اور رکے ہوئے ترقیاتی منصوبوں کے بعد اب منظم سکیورٹی کارروائیوں، مربوط حکمتِ عملی، ترقیاتی اقدامات اور بحالی پروگراموں نے حالات کا رخ موڑ دیا ہے۔
مغربی بنگال کے نکسل باڑی، میں 1970 کی دہائی میں چارو مزودار اور کانو سانیال کی قیادت میں شروع ہونے والی ایک مقامی بغاوت آہستہ آہستہ پورے ملک کے جمہوری نظام کیلئے خطرہ بنتی گئی۔ کمزور سیاسی عزم، نظریاتی ہمدردیاں اور غیر مستقل پالیسیوں نے تحریک کو بڑھنے میں مدد دی۔ 2010 میں دانتے واڑہ میں 76 سی آر پی ایف اہلکاروں اور بعد میں 31 شہریوں کی ہلاکت نے اس تشدد کی سنگینی کو اجاگر کیا۔ مگر اُس وقت کی حکومت مؤثر کارروائی میں ناکام رہی، جس سے نکسلیت مزید پھیلی۔
2000 کی دہائی میں نکسلی علاقوں کیلئے بھاری فنڈ دیے گئے، مگر زمینی نتائج انتہائی کمزور رہے۔2009 تک نکسلی اثر 20 ریاستوں اور 223 اضلاع تک پھیل چکا تھا۔ اسکولوں، اسپتالوں، پنچایت دفاتر اور سکیورٹی فورسز پر حملے بڑھتے گئے۔2013 کا دردربھ قتلِ عام بھی اسی ناکامی کی ایک مثال تھا۔ “آپریشن گرین ہنٹ” سیاسی دباؤ کے باعث چند ماہ میں غیر مؤثر ہوگیا۔یہ واضح ہوا کہ بغیر سیاسی عزم کے صرف پیسہ انتہا پسندی کو ختم نہیں کرسکتا۔
گزشتہ دس سالوں میں جامع حکمتِ عملی کے تحت نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئیں:
تشدد کے واقعات: 16,463 → 7,744،سکیورٹی اہلکاروں کی شہادتیں: 1,851 → 509،شہری ہلاکتیں: 4,766 → 1,495
2025 میں:
270 نکسلی ہلاک،680 گرفتار،1,225 نے ہتھیار ڈالے
‘بلیک فورسٹ’ جیسے آپریشنز میں اعلیٰ کمانڈرز ہلاک ہوئے، جب کہ 6 کروڑ کے انعام یافتہ بھوپتی جیسے بڑے قائدین نے سرنڈر کیا، جس سے بحالی پروگرام کی ساکھ مضبوط ہوئی۔
576 نئے تھانے، 336 سکیورٹی کیمپس،68 نائٹ لینڈنگ ہیلی پیڈ،ڈرون، اے آئی مانیٹرنگ، موبائل ڈیٹا ٹریسنگ،403 اثاثے منجمد، جن میں 206 جھیلکھنڈ سے، مالیاتی نیٹ ورک تباہ
حکومت نے ترقیاتی منصوبوں کو مرکز میں رکھا:12,000+ کلومیٹر سڑکیں،2G/4G ٹاورز کی تنصیب،1007 بینک برانچز، 937 اے ٹی ایم،37,850 بینکنگ کورسپونڈنٹس، 5,899 ڈاک خانے، 48 آئی ٹی آئیز اور 61 اسکل سینٹرز،سرنڈر کرنے والوں کیلئے مالی امداد، تین سال تک 10,000 روپے ماہانہ تربیتی وظیفہ، اور باعزت سماجی قبولیت نے بحالی کے عمل کو مؤثر بنایا۔
آج صرف 6 اضلاع شدید متاثر ہیں، مگر غفلت خطرناک ہوسکتی ہے۔بھارتیہ حکومت کی لگی بندھی حکمت عملی نے نکسلیت کو کمزور کیا لیکن نظریاتی اثرات ابھی بھی باقی ہیں۔مدوی ہِدما جیسے خطرناک کمانڈر کی ہلاکت ایک بڑی کامیابی ضرور ہے، مگر زیرِ زمین نیٹ ورکس اب بھی سرگرم ہیں۔
گزشتہ ایک دہائی نے ثابت کیا کہ منظم سکیورٹی ایکشن، ترقی، رابطہ کاری اور بحالی ، یہ چاروں ستون نکسلیت کے خاتمے کا واحد راستہ ہیں۔اب بھارت نکسلی ازم سے مکمل آزادی کے انتہائی قریب ہے، لیکن اس نظریے کے مکمل خاتمے تک مسلسل چوکسی ضروری رہے گی۔
بھارت ایکسریس اردو
وزیر اعظم نے مزید کہا، ’’میرا ماننا ہے کہ جب تک انسانیت کے ساتھ گاندھی…
صدر دروپدی مرمو نے نئی دہلی کے وجے گھاٹ پہنچ کر سابق وزیر اعظم لال…
سی جے پی کے احتجاج کے پیش نظر ڈی ایم آر سی نے جن پتھ،…
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین جنگ ختم کرنے کی وزیر اعظم نریندر مودی کی…
یوپی اسمبلی انتخابات 2027 سے پہلے کانگریس میں ریاستی صدر کی تبدیلی کی بحث تیز،…
EaseMyTrip بھارت میں ایپل پے کا لانچ پارٹنر بنا، سفر کی بکنگ کے دوران ادائیگی…