ہندوستان کا شمال مشرق ہمیشہ اپنی بے مثال قدرتی خوبصورتی، دھند سے ڈھکی وادیوں، گنگناتے چشموں، گھنے جنگلات اور شفاف آسمانوں کے لیے پہچانا جاتا رہا ہے۔ مگر آج یہ علاقہ صرف حسن کا مرکز نہیں رہا، بلکہ تیزی سے بدلتی ترقی، خوشحالی، خود اعتمادی اور علاقائی رابطے کا نیا چہرہ بن کر اُبھر رہا ہے۔ مرکزی وزیر جیوترآدتیہ ایم سندھیا نے اپنی حالیہ آسام اور میگھالیہ یاترا کے بعد ایک تحریر میں اس خطے کو ’’ہندوستان کا آگے بڑھتا ہوا چہرہ‘‘ قرار دیا ہے۔
سندھیا لکھتے ہیں کہ وزیراعظم نریندر مودی کی وژنری قیادت نے شمال مشرق کی تقدیر بدلنے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ جو علاقہ کبھی خود کو جغرافیائی طور پر محدود محسوس کرتا تھا، اب وہ خطے کے اندر اور بیرونی دنیا سے جڑتے راستوں کے مرکز میں تبدیل ہو رہا ہے۔ ’’Act East‘‘ پالیسی کی بدولت شمال مشرق اب بھارت کا جنوب مشرقی ایشیا کی طرف قدرتی گیٹ وے بنتا جا رہا ہے۔
فطرت اور انسان کا زندہ رشتہ
میگھالیہ کی وادی میں سندھیا کا سفر اُن کے لیے نہ صرف جسمانی بلکہ روحانی تجربہ بھی تھا۔ وہ لکھتے ہیں کہ جب انہوں نے اپنے کمرے کی بالکونی کھولی، تو بادل اُن کا خیرمقدم کرتے ہوئے اندر آ گئے۔ یہی وہ لمحہ تھا جو اس علاقے کی روح سے پہلی ملاقات کا سبب بنا۔ سب سے یادگار تجربہ رنگ تھلیانگ کے مشہور زندہ جڑوں کے پل (Living Root Bridges) پر تین گھنٹے کی پیدل یاترا تھی۔ مقامی لوگوں نے ربڑ کے قدیم درختوں کی جڑوں کو وقت اور صبر کے ساتھ اس طرح بڑھایا کہ وہ پلوں کی شکل اختیار کر گئے۔ یہ پل محض ایک کاریگری نہیں بلکہ انسان اور فطرت کے درمیان صدیوں پرانا اعتماد اور ہم آہنگی ہیں۔ سندھیا کے مطابق یہ پل ہمیں سکھاتے ہیں کہ پائیداری، وقت اور احترام کے ساتھ ہی حقیقی ترقی جنم لیتی ہے۔
سیاحت اور مقامی روزگار کا نیا دور
سندھیا نے سہرا میں 233 کروڑ روپے کے Integrated Sohra Tourism Circuit کے سنگ بنیاد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ صرف ڈھانچہ جاتی تعمیر نہیں، بلکہ ثقافت، ماحول اور معاشی فائدے کی ہم آہنگ پیش کش ہے۔ اس منصوبے کا مقصد ہے کہ سیاح جب میگھالیہ آئیں، تو اُن کی پہلی مسکراہٹ مقامی خاندانوں کے لیے معاش کا ذریعہ بن جائے۔ سہرا ایک کثیر روزہ تجرباتی سیاحتی مقام کے طور پر ابھرے گا جہاں مقامی فن، ثقافت، موسیقی اور فطری حسن ایک دوسرے میں مدغم ہو کر ایک مکمل تجربہ تشکیل دیں گے۔
زمین کے بطن میں اترنے کا سفر
ماؤملوہ غار کی مہم سندھیا کے لیے خود شناسی کا لمحہ بنی۔ یہ غار چار ہزار سال پرانی ارضیاتی یادداشتوں کا خاموش محافظ ہے۔ اندر بہتے پانیوں کی سرگوشیاں، نمی سے چمکتی دیواریں اور تاریکی میں ٹمٹماتی روشنی انسان کو بتاتی ہے کہ فطرت وقت سے بھی زیادہ صابر ہے۔
کنیکٹیوٹی سے خوشحالی تک
گوہاٹی میں سندھیا نے North Eastern Science and Technology Cluster کا افتتاح کیا اور 635 کروڑ کے ترقیاتی منصوبوں کی بنیاد رکھی۔ فضائی، زمینی اور ڈیجیٹل رابطوں کی توسیع نے شمال مشرق کو ملک کی مرکزی ترقیاتی دھارے سے مضبوطی سے جوڑ دیا ہے۔ سندھیا کے مطابق شمال مشرق صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں، بلکہ نئے بھارت کا احساس اور خود اعتمادی کی علامت ہے۔ یہاں فطرت سانس لیتی ہے، انسان مسکراتا ہے اور ترقی قدم سے قدم ملاتی ہے۔ یہ خطہ واقعی ہندوستان کے تاج میں چمکتا ہوا قیمتی رتن ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
کم عمری کی شادی جیسے سماجی مسئلے پر بننے والے مقبول ٹی وی سیریل نے…
بی جے پی کی 4 یاترائیں 117 اسمبلی حلقوں سے گزرتے ہوئے جالندھر میں ہوں…
بہار قانون ساز کونسل انتخابات کے لیے جن سوراج نے 3 امیدواروں کے ناموں کا…
نئی دہلی کے تین مورتی حائفہ چوک پر حائفہ فتح کی 108ویں سالانہ یادگاری تقریب…
کانگریس لیڈر نے انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی اور انتخابی کمیشن کے اندر اختلافِ رائے…
ٹی ایم سی کی رکن پارلیمنٹ نے انتخابی کمیشن کے فیصلوں میں طریقۂ کار کی…