ہندوستان کی سب سے طویل ریلوے سرنگ، دیوپرایاگ-جناسو سرنگ (T-8)، جو کہ رشی کیش-کرنپریاگ ریل منصوبے کا حصہ ہے، ایک ایسی انجینئرنگ کا شاہکار ہے جس نے ہمالین پہاڑوں کی پیچیدہ جغرافیائی ساخت کو عبور کیا ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق، یہ 14.6 کلومیٹر طویل سرنگ ہندوستان کی سب سے طویل ریلوے سرنگ ہے، جو اتراکھنڈ کے دشوار گزار علاقوں میں رشی کیش سے کرنپریاگ تک سفر کا وقت سات گھنٹوں سے کم کر کے تین گھنٹوں تک لے آئے گی۔ یہ سرنگ چار دھام ریل رابطہ منصوبے کا ایک اہم حصہ ہے، جس کا مقصد اتراکھنڈ کے مقدس مقامات اور دور دراز علاقوں کو بہتر رابطے فراہم کرنا ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل 2026 کے آخر تک متوقع ہے، جو خطے کی معاشی اور سیاحتی ترقی کو فروغ دے گی۔
اس سرنگ کی تعمیر کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور ہمالین ٹنلنگ میتھڈ (HTM) کا استعمال کیا گیا، جو کہ ہندوستان کے انجینئرز نے ہمالین خطے کی منفرد جیولوجیکل چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تیار کیا۔ ریل ویکس نگم لمیٹڈ (RVNL) کے مطابق، سرنگ کی کھدائی کے لیے 9.11 میٹر قطر کے سنگل شیلڈ ہارڈ راک ٹنل بورنگ مشین (TBM) کا استعمال کیا گیا، جسے ’شکتی‘ کا نام دیا گیا۔ اس TBM نے ایک ماہ میں 1,080 میٹر سے زیادہ کھدائی کا قومی ریکارڈ قائم کیا۔ سرنگ کی 14.57 کلومیٹر لمبائی میں سے 10.49 کلومیٹر TBM کے ذریعے اور باقی روایتی ڈرل اینڈ بلاسٹ طریقے سے مکمل کی گئی۔ اس منصوبے نے ہمالین خطے کی نرم چٹانوں اور پانی کے اخراج جیسے مسائل کا مقابلہ کرنے کے لیے جدید سائنسی تحقیقات اور تیاریوں کا سہارا لیا۔
سرنگ کی تعمیر کے دوران متعدد چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، جن میں پانی کا شدید اخراج اور نرم چٹانوں کا دباؤ شامل تھا۔ لارسن اینڈ ٹوبرو (L&T) کے پروجیکٹ ڈائریکٹر راکیش اروڑا کے مطابق، ایک موقع پر TBM پانچ کلومیٹر اندر جا کر پانی کے زبردست بہاؤ (1,500 لیٹر فی منٹ) کا شکار ہوئی، جس سے سرنگ کے ڈوبنے یا گرنے کا خطرہ پیدا ہو گیا۔ اس صورتحال کو کیمیکل اور سیمنٹ گراؤٹنگ کے امتزاج سے مستحکم کیا گیا، جس نے پانی کے بہاؤ کو کم کیا اور سرنگ کو محفوظ بنایا۔ اس کے علاوہ، نرم چٹانوں کے دباؤ سے نمٹنے کے لیے TBM کو بینٹونائٹ سے چکنا کیا گیا، جس سے کھدائی کا عمل تیز ہوا۔ یہ اقدامات ہندوستان کی مشکل حالات میں ٹنلنگ کی مہارت کو ظاہر کرتے ہیں۔
یہ سرنگ رشی کیش-کرنپریاگ ریل منصوبے کے 125 کلومیٹر طویل براڈ گیج لائن کا حصہ ہے، جس میں 17 سرنگیں اور 35 پل شامل ہیں، اور تقریباً 85 فیصد راستہ سرنگوں سے گزرتا ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل سے نہ صرف سفر کا وقت کم ہوگا بلکہ اتراکھنڈ کے دور دراز علاقوں میں ہر موسم میں رابطہ یقینی ہوگا، جو کہ لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب جیسے قدرتی آفات کے دوران خاص طور پر اہم ہے۔ یہ ریل لائن سیاحت، خاص طور پر روحانی اور ایکو ٹورزم کو فروغ دے گی، جو اتراکھنڈ کی معیشت کا اہم ستون ہے۔ اس کے علاوہ، مقامی روزگار کے مواقع بھی بڑھیں گے، کیونکہ تعمیراتی مرحلے اور آپریشنل مرحلے دونوں میں ملازمتیں پیدا ہوں گی۔
دیوپرایاگ-جناسو سرنگ کی تکمیل ہندوستان کی بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں ایک تاریخی سنگ میل ہے۔ ریلوے وزیر اشونی ویشنو اور اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے 16 اپریل 2025 کو اس سرنگ کے بریک تھرو تقریب میں شرکت کی، جس نے اس منصوبے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ یہ سرنگ نہ صرف اتراکھنڈ کے لوگوں کے لیے نقل و حمل کو آسان بنائے گی بلکہ خطے کی معاشی سرگرمیوں اور سیاحت کو بھی نئی بلندیوں تک لے جائے گی۔ یہ منصوبہ ہندوستان کی جدید انجینئرنگ اور فطرت کے چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت کا ثبوت ہے، جو کہ ایک مضبوط اور جڑے ہوئے ہندوستان کی طرف ایک اہم قدم ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
نئی دہلی میں منعقدہ 11ویں سنت ایشور سمان میں خدمات انجام دینے والی شخصیات اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی ہندوستان کی بیٹیوں کو گولڈ میڈل جیتنے پر…
راجہ وڈنگ کے استعفے کے چند گھنٹے بعد کانگریس نے پرگٹ سنگھ کو پنجاب پردیش…
ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…
نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…
گاندھی جینتی پر دہلی سمیت کئی شہروں میں SIR اور مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف…