قومی

India’s Renewable Energy: ونڈ انرجی کی تنصیب کے معاملے میں دنیا میں چوتھے نمبر پر بھارت، نصب شدہ صلاحیت 57 ہزار 443 میگاواٹ تک پہنچی

نئی دہلی: بھارت میں ونڈ انرجی کا دائرہ مسلسل وسیع ہو رہا ہے۔ مرکزی حکومت نے لوک سبھا کو بتایا کہ ملک میں ونڈ انرجی منصوبوں کی مجموعی نصب شدہ صلاحیت بڑھ کر 57,443 میگاواٹ ہو گئی ہے، جبکہ مالی سال 2025-26 کے دوران ان منصوبوں سے 106 ارب یونٹ بجلی پیدا کی گئی۔ نئی اور قابل تجدید توانائی کی وزارت کے وزیر مملکت شریپد یسو نائک نے لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں بتایا کہ گزشتہ تین مالی سال کے دوران ونڈ انرجی سے بجلی کی پیداوار میں مسلسل اضافہ درج کیا گیا ہے۔

ونڈ انرجی تنصیب میں بھارت دنیا میں چوتھے نمبر پر

مرکزی وزیر نے بتایا کہ گلوبل ونڈ انرجی کونسل (GWEC) کی 2026 کی رپورٹ کے مطابق 31 دسمبر 2025 تک ونڈ انرجی کی تنصیب کے معاملے میں بھارت دنیا بھر میں چوتھے مقام پر تھا۔ حکومت کے مطابق ملک میں قابلِ تجدید توانائی، خاص طور پر ونڈ انرجی کو فروغ دینے کے لیے متعدد اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔ حکومت گرین انرجی کوریڈور اسکیم کے تحت نئی ٹرانسمیشن لائنیں اور سب اسٹیشن تیار کر رہی ہے، تاکہ قابلِ تجدید توانائی کی بجلی کی ہموار ترسیل کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ 30 جون 2025 تک شروع ہونے والے شمسی اور ونڈ انرجی منصوبوں کے لیے بین ریاستی بجلی کی فروخت پر انٹر اسٹیٹ ٹرانسمیشن سسٹم (ISTS) چارجز میں چھوٹ دی گئی ہے۔ اس کے بعد شروع ہونے والے منصوبوں کے لیے مرحلہ وار چارجز کا نظام نافذ کیا گیا ہے۔

2030 کے اہداف کے لیے وسیع ٹرانسمیشن منصوبہ تیار

مرکزی وزیر نے بتایا کہ 2030 تک قابلِ تجدید توانائی کے بڑھتے ہوئے اہداف کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹرانسمیشن انفرااسٹرکچر کا ایک جامع منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں 100 فیصد براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) کی بھی آٹومیٹک روٹ کے تحت اجازت دی گئی ہے۔ قابلِ تجدید توانائی کی کھپت بڑھانے کے لیے حکومت نے 2029-30 تک رینیوایبل پرچیز آبلیگیشن (RPO) اور رینیوایبل کنزمپشن آبلیگیشن (RCO) کے اہداف بھی مقرر کیے ہیں۔ ان قوانین کی پابندی توانائی تحفظ ایکٹ، 2001 کے تحت آنے والے تمام مقررہ صارفین کے لیے لازمی ہوگی۔ خلاف ورزی کی صورت میں جرمانے کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔

شمسی اور ونڈ منصوبوں سے بجلی خریدنے کے لیے نظرثانی شدہ رہنما خطوط

حکومت نے گرڈ سے منسلک شمسی، ونڈ، ونڈ-سولر ہائبرڈ اور فرم اینڈ ڈسپیچیبل رینیوایبل انرجی (FDRE) منصوبوں سے بجلی کی خریداری کے لیے نظرثانی شدہ معیاری بولی کے رہنما خطوط بھی جاری کیے ہیں۔ اس کے علاوہ آف شور ونڈ انرجی منصوبوں کے لیے وائیبلٹی گیپ فنڈنگ (VGF) اسکیم بھی شروع کی گئی ہے۔ بجلی (صارفین کے حقوق) قوانین، 2020 کے تحت 500 کلوواٹ یا منظور شدہ برقی لوڈ تک نیٹ میٹرنگ کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ حکومت نے پرانے ونڈ انرجی منصوبوں کی جدید کاری اور ان کی آپریشنل مدت میں توسیع کے لیے نیشنل ونڈ پاور پروجیکٹس ری پاورنگ اینڈ لائف ایکسٹینشن پالیسی 2023 بھی نافذ کی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Mirabai Chanu Silver: اب28 سال کا انتظار ختم! میرابائی چانو نے ایشین گیمز میں جیتا تاریخی سلور

ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…

9 hours ago

Pezeshkian Hits Back At Trump: ’ہم دہشت گرد نہیں، خود دہشت گردی کا شکار ہیں‘، یو این جی اے میں ایرانی صدر کا ٹرمپ پر جوابی حملہ

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…

9 hours ago

Gyanesh Kumar SIR Controversy: ’گیانیش کمار کو گرفتار کرو‘، ایس آئی آر تنازع کے درمیان سنجے راؤت کا بڑا مطالبہ

خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…

10 hours ago

CJP Noida School Visit: گریٹر نوئیڈا میں سی جے پی ترجمان سورَو داس کی مخالفت، اسکول کے معائنے پر گاؤں والوں نے روکا

گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…

10 hours ago

PM Modi Cabinet: ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کام آئے گا افسران کا تجربہ، پی ایم مودی کے نئے انتظامی فارمولوں نے کھینچی توجہ

وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…

11 hours ago