بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسی فچ ریٹنگز نے مالی سال 2025-26 کے لیے بھارت کی متوقع جی ڈی پی شرح نمو کو 6.5 فیصد سے بڑھا کر 6.9 فیصد کر دیا ہے۔ یہ نظر ثانی ملک کے اندرونی مانگ میں اضافے اور سازگار مالی حالات کے باعث کی گئی ہے۔ یہ اپ گریڈنگ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارت نے مالی سال 2025-26 کی پہلی سہ ماہی میں 7.8 فیصد کی غیر متوقع شرح نمو درج کی ہے، جو پچھلی سہ ماہی کی 7.4 فیصد شرح نمو سے بھی زیادہ ہے۔ وزارت کے مطابق مالی سال 2024-25 کی پہلی سہ ماہی میں یہ شرح 6.5 فیصد تھی۔
وزارت کے بیان کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں حقیقی جی ڈی پی (یعنی افراطِ زر سے پاک اعداد و شمار) ₹47.89 لاکھ کروڑ روپے رہی، جو کہ گزشتہ سال اسی مدت میں ₹44.42 لاکھ کروڑ روپے تھی۔ اس طرح حقیقی جی ڈی پی میں سال بہ سال 7.8 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اسی مدت میں نامیاتی جی ڈی پی (Nominal GDP) — جو افراطِ زر کو بھی شامل کرتی ہے — میں 8.8 فیصد کی نمو دیکھی گئی۔
مختلف شعبہ جات کی کارکردگی
زرعی اور متعلقہ شعبے نے اس سہ ماہی میں 3.7 فیصد کی حقیقی شرح نمو حاصل کی، جو گزشتہ سال کی اسی مدت میں 1.5 فیصد تھی۔ ثانوی شعبے میں مینوفیکچرنگ نے 7.7 فیصد اور تعمیراتی شعبے نے 7.6 فیصد کی شرح نمو درج کی۔ معدنیات و کان کنی میں -3.1 فیصد کی گراوٹ دیکھی گئی، جب کہ بجلی، گیس، پانی کی فراہمی اور دیگر خدمات میں محض 0.5 فیصد کی معتدل شرح نمو ریکارڈ کی گئی۔ خدماتی شعبہ (Tertiary Sector) نے سب سے زیادہ 9.3 فیصد کی نمو حاصل کی، جو گزشتہ سال کی اسی سہ ماہی میں 6.8 فیصد تھی۔
مستقبل کی پیش گوئیاں اور خدشات
فچ ریٹنگز کے مطابق اگرچہ ابتدائی سہ ماہی کی نمو حوصلہ افزا ہے، تاہم مالی سال کی دوسری ششماہی میں یہی رفتار برقرار رہنا مشکل ہے۔ ایجنسی نے 2026-27 کے لیے جی ڈی پی کی شرح نمو 6.3 فیصد اور 2027-28 کے لیے 6.2 فیصد ہونے کا تخمینہ دیا ہے۔ فچ نے کچھ خدشات کی نشاندہی بھی کی ہے، جن میں امریکہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی شامل ہے۔ اگرچہ امپورٹ ڈیوٹی میں کمی کے لیے مذاکرات جاری ہیں، لیکن اس قسم کی کشیدگی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کر سکتی ہے۔
جی ڈی پی میں موجودہ اضافہ مضبوط مقامی طلب، خدماتی شعبے کی ترقی اور صنعتی سرگرمیوں کی بحالی کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ اگر حکومت کی جانب سے کی جانے والی اقتصادی اصلاحات اور عالمی سرمایہ کاری کا اعتماد برقرار رہا تو آئندہ سالوں میں بھی بھارت کی معیشت مضبوطی کے ساتھ آگے بڑھ سکتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
’بھارت کلیکٹو فاؤنڈیشن‘ کی جانب سے دارالحکومت دہلی میں ایک خصوصی سیمینار منعقد کیا گیا۔…
یو جی سی نیٹ دسمبر 2026 کے لیے آن لائن درخواست جمع کرنے کی آخری…
جیوری ممبران، پروفیسرریشماں پروین، ڈاکٹرعشرت ناہید، ڈاکٹرپروین شجاعت، ڈاکٹر شبنم رضوی اور ڈاکٹر موسیٰ رضا…
1857 کی پہلی جنگِ آزادی کے شہیدوں کی یاد میں قائم ’آزادی کی پہلی لڑائی…
یکم نومبر کو دہلی کے رام لیلا میدان میں کانگریس کی ریلی، کاکروچ جنتا پارٹی…
تھراڈ اور رادھن پور میں قائم ہوں گے نئے پلانٹس، روزانہ 175 میٹرک ٹن گوبر…