نئی دہلی: مرکزی حکومت کی قیادت میں چلنے والی مختلف اسکیموں، خصوصاً بڑے پیمانے پر الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ (LSEM) اور آئی ٹی ہارڈویئر کے لیے پروڈکشن لنکڈ انسینٹیو (PLI) پروگرام نے بھارت میں الیکٹرانکس اور موبائل فون کی پیداوار اور برآمدات میں بے مثال اضافہ کیا ہے۔ ان اقدامات سے ملک میں روزگار کے مواقع بھی نمایاں طور پر بڑھے ہیں۔ وزیر مملکت برائے الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی جتن پرساد نے جمعہ کے روز راجیہ سبھا میں تحریری جواب دیتے ہوئے بتایا کہ حکومتی پالیسیوں کے نتیجے میں گزشتہ 11 برسوں میں الیکٹرانک مینوفیکچرنگ 1.9 لاکھ کروڑ روپے (2014-15) سے بڑھ کر 2024-25 میں 11.32 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے۔
مینوفیکچرنگ یونٹس اور موبائل سیکٹر کی بڑھوتری
جتن پرساد کے مطابق 11 برسوں میں موبائل مینوفیکچرنگ یونٹس کی تعداد دو سے بڑھ کر اب 300 سے زیادہ ہو چکی ہے۔ پی ایل آئی کے نفاذ کے بعد 2020-21 میں موبائل مینوفیکچرنگ 2.2 لاکھ کروڑ روپے تھی جو اب بڑھ کر 5.5 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بھارت کی الیکٹرانکس برآمدات آٹھ گنا اضافہ کے ساتھ 38 ہزار کروڑ روپے سے بڑھ کر 2024-25 میں 3.26 لاکھ کروڑ روپے ہو گئی ہیں، جو ملک کا تیسرا سب سے بڑا برآمداتی شعبہ ہے۔ موبائل فون کی برآمدات بھی 22 ہزار کروڑ روپے سے بڑھ کر 2.2 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ ہو گئی ہیں۔
روزگار میں اضافہ اور صنعتی منظرنامہ
جتن پرساد نے انڈسٹری رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ الیکٹرانکس سیکٹر اب تقریباً 25 لاکھ افراد کو روزگار فراہم کر رہا ہے، جو ملکی مینوفیکچرنگ اور ڈجیٹل معیشت کے لیے اہم پیش رفت ہے۔
پی ایل آئی اور سیمی کنڈکٹر حکمت عملی
وزیر نے کہا کہ حکومت کی الیکٹرانکس اور سیمی کنڈکٹر پالیسی وزیر اعظم نریندر مودی کے ’آتم نربھر بھارت‘ اور ’میک ان انڈیا‘ وژن پر مبنی ہے۔ اس مقصد کے لیے حکومت نے ٹیکسیشن، کسٹمز، ایف ڈی آئی اور دیگر ضابطوں میں متعدد اصلاحات لائی ہیں۔ 2020 میں شروع کی گئی پی ایل آئی اسکیم نے اب تک 14,065 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کو راغب کیا ہے، جبکہ آئی ٹی ہارڈویئر مینوفیکچرنگ کے لیے علیحدہ پی ایل آئی اسکیم کے تحت 846 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری موصول ہو چکی ہے۔ گزشتہ تین برسوں میں حکومت نے 1.6 لاکھ کروڑ روپے کی مجموعی سرمایہ کاری کے ساتھ 10 سیمی کنڈکٹر یونٹس کو منظوری دی ہے، جن میں سلیکون فیب، میموری پیکجنگ، ایڈوانسڈ پیکجنگ اور دیگر یونٹس شامل ہیں، جو گھریلو آلات، آٹو موٹیو، ٹیلی کام، پاور، ایرواسپیس اور صنعتی الیکٹرانکس کی ضروریات پوری کریں گے۔
درآمدات و برآمدات کا موجودہ توازن
ڈائریکٹوریٹ جنرل آف کمرشل انٹیلی جنس اینڈ اسٹیٹسٹکس کے مطابق، مالی سال 2024-25 میں الیکٹرانک مصنوعات کی درآمدات 98.6 ارب ڈالر جبکہ برآمدات تقریباً 38.5 ارب ڈالر رہیں۔
عالمی اعتماد میں اضافہ
جتن پرساد نے کہا: ’’حکومت کے مربوط اقدامات کے نتیجے میں بھارت الیکٹرانکس اور سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کے لیے ایک قابل اعتماد عالمی شراکت دار کے طور پر ابھر رہا ہے۔‘‘ یہ اعداد و شمار اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ بھارت تیزی سے الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کے عالمی مرکز کے طور پر اپنی جگہ بنا رہا ہے اور مستقبل میں اس شعبے میں مزید سرمایہ کاری اور برآمدات کے امکانات روشن ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
روزی نے بتایا کہ اس وقت ان کے ساتھ دیگر خاتون صحافی بھی موجود تھیں۔…
نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق، عرضیوں میں چیف الیکشن کمشنر کی…
راجدھانی دہلی میں مہاکوی گوپال داس نیرج کی یاد میں ’کارواں گیتوں کا… نیرج‘ پروگرام…
دہلی کے ماولنکر ہال میں منعقد پینٹنگ نمائش ’ڈسکور دی پاور آف ایکسپریشن‘ میں بھارت…
بھارت ایکسپریس نیوز نیٹ ورک، مہاکوی گوپال داس نیرج فاؤنڈیشن ٹرسٹ اور سونوی ایونٹس ممبئی…
مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے 2029 کے آخر تک پورے بھارت کو…