گزشتہ ایک دہائی کے دوران بھارت میں جو ڈیجیٹل انقلاب آیا ہے وہ کسی کرشمے سے کم نہیں۔ یہ سفر محض کچھ تکنیکی اقدامات تک محدود نہ رہا بلکہ آج معیشت، حکومت، تعلیم، صحت، تجارت، زراعت اور دیہی علاقوں میں چھوٹے کاروباریوں تک، زندگی کے ہر پہلو کو بدل چکا ہے۔ یہ انقلاب اتفاقیہ نہیں، بلکہ حکومتِ ہند کی جرات مندانہ پالیسیوں، بین وزارتی ہم آہنگی اور شمولیت پر مبنی ترقی کے عزم کا نتیجہ ہے۔ جہاں مختلف وزارتوں نے زمینی سطح پر بڑے منصوبے نافذ کیے، وہیں نیتی آیوگ نے پالیسی میں ربط، فکری قیادت اور شہریوں کو مرکز میں رکھ کر اختراعی اقدامات کو فروغ دیا۔
اس تبدیلی کا ایک اہم موڑ ’’جَن دھن-آدھار-موبائل‘‘ (JAM) سہ رُکنی ماڈل کی صورت میں آیا۔ 55 کروڑ سے زائد بینک کھاتے کھولے گئے، جس کے نتیجے میں مالیاتی نظام سے محروم کروڑوں افراد کو براہِ راست سرکاری امداد ملنے لگی۔ اس نظام نے کرپشن پر کاری ضرب لگائی اور فِن ٹیک انقلاب کی بنیاد رکھی۔ وہیں UPI نے لین دین کے انداز کو مکمل طور پر بدل دیا۔ اب سبزی فروش سے لے کر آن لائن فری لانسر تک، ہر کوئی QR کوڈ کے ذریعے ادائیگی قبول کرتا ہے۔ آج ہر مہینے 17 ارب سے زائد UPI ٹرانزیکشنز ہو رہی ہیں، جو چھوٹے کاروباروں کی ریڑھ کی ہڈی بن چکے ہیں۔
اسی دوران وزارتِ الیکٹرانکس و آئی ٹی نے خاموشی سے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کا جال بچھایا۔ بھارت نیٹ کے ذریعے دو لاکھ سے زائد گاؤں میں براڈبینڈ پہنچایا گیا اور DigiLocker، e-Sign اور India Stack جیسے اقدامات نے کاغذ، دستخط اور نقدی سے پاک سروسز ممکن بنائیں۔ DigiYatra جیسے منصوبے نے ہوائی سفر کو چہرے کی شناخت کے ذریعے تیز، محفوظ اور بغیر کاغذ کے بنا دیا ہے۔ سرکاری خریداری کے نظام میں شفافیت لانے کے لیے GeM پلیٹ فارم بنایا گیا، جس پر 1.6 لاکھ سے زائد سرکاری خریدار اور 22 لاکھ سے زیادہ فروخت کنندگان منسلک ہیں، جن میں خواتین اور MSMEs کی بڑی تعداد شامل ہے۔
زراعت کے شعبے میں بھی انقلاب آیا ہے۔ PM-Kisan سے کسانوں کو براہ راست مالی امداد ملی، e-NAM سے منڈیوں میں بہتر دام ملنے لگے اور Soil Health Card نے کاشتکاری کو سائنسی بنیاد دی۔ دیہی علاقوں میں Common Service Centres نے بینکاری، صحت، تعلیم اور روزگار کی سہولیات مہیا کیں۔ کووڈ-19 کے دوران جب اسکول بند ہوئے تو DIKSHA اور SWAYAM جیسے پلیٹ فارمز نے ملک بھر کے طلبہ کو تعلیم سے جوڑے رکھا۔ Ayushman Bharat Digital Mission نے صحت کی سہولیات کو ڈیجیٹل شناخت کے ذریعے مربوط کر دیا۔
تجارت میں بھی ONDC کے ذریعے چھوٹے دکانداروں کو ای-کامرس میں شامل کر کے بڑے اداروں کے برابر لایا جا رہا ہے۔ نیتی آیوگ کی رہنمائی میں تمام وزارتیں، ریاستیں اور صنعتیں مل کر ڈیجیٹل عوامی خدمات کو ہم آہنگ اور قابلِ رسائی بنا رہی ہیں۔ بھارت کا ڈیجیٹل سفر محض تکنیکی ترقی نہیں بلکہ قومی تبدیلی کی کہانی ہے۔ وہ کہانی جو ابھی جاری ہے اور ہر دن ایک نیا باب رقم کر رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
نئی دہلی میں منعقدہ 11ویں سنت ایشور سمان میں خدمات انجام دینے والی شخصیات اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی ہندوستان کی بیٹیوں کو گولڈ میڈل جیتنے پر…
راجہ وڈنگ کے استعفے کے چند گھنٹے بعد کانگریس نے پرگٹ سنگھ کو پنجاب پردیش…
ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…
نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…
گاندھی جینتی پر دہلی سمیت کئی شہروں میں SIR اور مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف…