ہندوستان کی زرعی اور پروسیسڈ فوڈ کی مصنوعات کی برآمدات سال بہ سال 13 فیصد سے زیادہ بڑھ کر 22.67 بلین ڈالر تک پہنچ گئیں۔ اس میں سب سے اہم حصہ چاول کی برآمدات میں 21 فیصد کے تیز اضافے کا ہے۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف کمرشل انٹیلی جنس اور شماریات کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق چاول کی برآمدات بشمول باسمتی اور نان باسمتی اقسام، پچھلے سال 9.32 بلین ڈالر کے مقابلے میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 11 بلین ڈالر سے زائد ہو گئی ہے۔
حکومت نے ستمبر 2024 میں چاول کی برآمدات پر پابندیوں میں نرمی کرنا شروع کر دی تھی۔اس نے چاول کی کھیپوں پر کم از کم برآمدی قیمت سمیت تمام برآمدی پابندیاں ہٹا دی ہیں۔ برآمد کنندگان کا کہنا ہے کہ مضبوط عالمی مانگ کی وجہ سے مالی سال 25 میں چاول کی برآمدات میں 15 فیصد کا اضافہ ریکارڈ 12 بلین ڈالر سے تجاوز کر سکتا ہے۔ مالی سال 24 میں ہندوستان نے 10.41 بلین ڈالر کے چاول برآمد کیے تھے، جو کہ اس سے پہلے برس کے مقابلے میں 6.5 تھے۔ اس کی وجہ گھریلو رسد کو بہتر بنانے کے لیے لگائی گئی پابندیاں تھیں، جن کی وجہ سے برآمدات میں رکاوٹ آئی تھی۔
تجارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ چاول کی عالمی تجارت میں ہندوستان کا غلبہ خاص طور پر افریقہ اور جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کو ترسیل میں اضافے کے ساتھ بحال ہونے کا امکان ہے۔ ہندوستان ابھی تقریباً ایک دہائی سے چاول کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ہے۔ پنجاب میں باسمی چاول کے ایک بڑے برآمد کنندہ جوسن گرینز کے ایم ڈی رنجیت سنگھ نے بتایا کہ ’’پریمیم باسمتی چاول کے لیے رواں مالی سال میں 5 ملین ٹن کے برآمدی ہدف کے ساتھ، ہندوستان نے اپنے قریبی حریف پاکستان کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، جو سالانہ 10 لاکھ ٹن سے بھی کم برآمد کرتا ہے۔ برآمد کنندگان کا کہنا ہے کہ ایران کو ترسیل کے لیے ادائیگیوں کے تصفیہ سے متعلق مسائل کے باوجود باسمتی چاول کی عالمی مانگ مسلسل بڑھ رہی ہے۔
دریں اثنا بھینس کے گوشت، ڈیری اور پولٹری مصنوعات کی برآمدات مالی سال 24 کے4.11 بلین ڈالر کے مقابلے میں مالی سال 25 کے اپریل تا فروری میں 12 فیصد کے قریب بڑھ کر 4.61 بلین ڈالر تک پہنچ گئیں۔ عہدیداروں نے کہا کہ پچھلی دہائی میں ہندوستانی گوشت کے معیار اور غذائیت کی وجہ سے پوری دنیا میں اس کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔ وہیں FY25 کے پہلے 11 مہینوں میں تازہ پھلوں اور سبزیوں کی کھیپ 5 فیصد سے زیادہ بڑھ کر 3.39 بلین ڈالر اور اناج کی تیاری 9 فیصد سے زیادہ بڑھ کر 2.82 بلین ڈالر ہو گئی ہے۔
ایگریکلچرل اینڈ پروسیسڈ فوڈ پروڈکٹس ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی (اے پی ای ڈی اے) نے مالی سال 25 کے لیے 26.56 بلین ڈالر کا برآمدی ہدف مقرر کیا ہے۔ APEDA باسکٹ کے تحت مصنوعات کی برآمدات کا حصہ زرعی پیداوار کی کل ترسیل میں تقریباً 51% ہے۔ وہیں باقی زرعی مصنوعات کی برآمدات میں سمندری، تمباکو، کافی اور چائے بھی شامل ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
نئی دہلی میں منعقدہ 11ویں سنت ایشور سمان میں خدمات انجام دینے والی شخصیات اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی ہندوستان کی بیٹیوں کو گولڈ میڈل جیتنے پر…
راجہ وڈنگ کے استعفے کے چند گھنٹے بعد کانگریس نے پرگٹ سنگھ کو پنجاب پردیش…
ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…
نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…
گاندھی جینتی پر دہلی سمیت کئی شہروں میں SIR اور مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف…