نئی دہلی: دارالحکومت میں واقع انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں منعقدہ دو روزہ قومی نیشنل ہسٹری کانفرنس اختتام پذیر ہوگئی، جس میں ملک بھر سے آئے مؤرخین، دانشوروں، اساتذہ، سماجی کارکنوں اور طلبہ نے شرکت کی۔ اس کانفرنس کا بنیادی مقصد ہندوستانی تاریخ کے سائنسی اور تحقیقی مطالعے کو فروغ دینا اور اس میں مسلمانوں کے کردار کو اجاگر کرنا تھا۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ تاریخ کو تعصب سے پاک کر کے پیش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یہ کانفرنس انڈیا ہسٹری فورم کے زیر اہتمام منعقد کی گئی، جہاں مختلف موضوعات پر علمی نشستیں اور مکالمے ہوئے۔ مقررین نے موجودہ دور میں تاریخ کی غلط تشریحات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بعض حلقے ماضی کے واقعات کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہیں، جس سے سماج میں غلط فہمیاں اور نفرت کو فروغ مل رہا ہے۔
کانفرنس میں سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید، پروفیسر انیتا رامپال، پروفیسر این سُکمار، پروفیسر سلیم انجینئر، ڈاکٹر رام پنیانی، عبدالسلام پُتگے، ایس ایم عزیزالدین حسینی، ڈاکٹر اشتیاق حسین، شاہد صدیقی اور پروفیسر اجے گڈاورتی سمیت کئی ممتاز شخصیات نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ڈاکٹر رام پنیانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ گزشتہ تین سے چار دہائیوں کے دوران تاریخ کو مسخ کرنے کا رجحان بڑھا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قدیم اور وسطی ادوار کی بیشتر جنگیں مذہب کے نام پر نہیں بلکہ اقتدار، وسائل اور سیاسی مفادات کے لیے لڑی گئیں۔ ان کے مطابق ان جنگوں کو مذہبی رنگ دینا تاریخی حقائق کے منافی ہے۔
عبدالسلام پُتگے نے اس خیال کو مسترد کیا کہ ہندوستانی مسلمان بیرونی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان اسی سرزمین کے باشندے ہیں اور مختلف ادوار میں یہاں کے لوگوں نے اسلام قبول کیا۔ ان کے مطابق ڈی این اے تحقیق بھی اس بات کی تائید کرتی ہے کہ ہندوستانی سماج کی جڑیں مشترک ہیں اور مسلمانوں کو الگ یا بیرونی قرار دینا درست نہیں۔ سابق وزیر خارجہ سلمان خورشید نے کہا کہ نہ صرف ماضی میں بلکہ جدید ہندوستان کی تعمیر میں بھی مسلمانوں نے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس حقیقت کو بار بار اجاگر کرنا ضروری ہے تاکہ معاشرے میں پائی جانے والی غلط فہمیاں دور ہو سکیں اور ہم آہنگی کو فروغ ملے۔
پروفیسر ایس ایم عزیزالدین حسینی نے ہندوستانی تاریخ میں مسلمانوں کے تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی خدمات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں نے مذہبی علوم کے ساتھ ساتھ فلسفہ، ادب اور سائنسی میدانوں میں بھی اہم کارنامے انجام دیے، جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ڈاکٹر اشتیاق حسین نے قرونِ وسطیٰ کے ہندوستانی معاشرے کو سمجھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس دور میں مختلف زبانوں اور ثقافتوں کے درمیان وسیع تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں کئی اہم سنسکرت متون کا مقامی زبانوں میں ترجمہ کیا گیا اور علم کے فروغ میں اضافہ ہوا۔
پروفیسر انیتا رامپال نے نصابی کتب کے کردار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی مواد نئی نسل کی فکری تشکیل میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ہم آنے والی نسلوں کو کیسا تاریخ پڑھا رہے ہیں اور اس میں کس حد تک حقیقت اور تحقیق کو شامل کیا جا رہا ہے۔ پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ ہندوستان میں مختلف سماجی اصلاحی تحریکوں میں اسلامی تعلیمات نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تاریخ کے مطالعے میں مختلف پہلوؤں کو متوازن انداز میں پیش کرنا ضروری ہے۔ دو روزہ اس کانفرنس میں ملک کی مختلف جامعات سے آئے محققین نے اسلام اور مسلمانوں کے تاریخی کردار پر بیس سے زائد تحقیقی مقالے پیش کیے۔ اس کے علاوہ کتابی مباحثوں کے سیشن بھی منعقد کیے گئے، جہاں منتخب کتابوں پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ کانفرنس کے اختتام پر شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ دور میں تاریخ کو تعصب اور سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر سائنسی اور تحقیقی بنیادوں پر سمجھنا نہایت ضروری ہے، تاکہ معاشرے میں ہم آہنگی اور باہمی احترام کو فروغ دیا جا سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پنڈت دین دیال آڈیٹوریم میں منعقد ’وکست گجرات سے وکست بھارت‘ کے عنوان سے اس…
جنوری 2024 میں وزیر اعظم نریندر مودی کے لکشدیپ دورے کے بعد سیاحت کے ساتھ…
اکھیل وشو گایتری پریوار کے زیر اہتمام صوبائی شکشک گریما سمیلن میں ریاست بھر سے…
اندور میں اسٹیٹ پریس کلب کے زیرِ اہتمام منعقدہ تین روزہ اٹھارویں ’انڈین جرنلزم فیسٹیول‘…
دہلی کے جنتر منتر پر 3 اکتوبر کو چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف…
اڈانی گروپ کی اسکل ڈیولپمنٹ اور صلاحیت سازی کی اکائی اڈانی اسکلز اینڈ ایجوکیشن (ASE)…