نئی دہلی: بھارتی بحریہ کے ’’مشن بیسڈ ڈپلائمنٹ‘‘ کے تحت دنیا کے مختلف سمندری علاقوں میں جنگی جہاز تعینات کیے گئے ہیں۔ سال 2017 سے جاری اس مشن کے تحت بحریہ نے چھ اہم خطوں میں اپنی موجودگی برقرار رکھی ہے۔ اس مشن کے تحت خلیج عمان اور خلیج عدن کے قریب بھی دو بڑے آپریشن جاری ہیں، جن میں خلیج عمان کے قریب ’’آپریشن سنکلپ‘‘ اور خلیج عدن میں انسداد بحری قزاقی آپریشن شامل ہیں۔ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے باعث اس خطے میں تعینات بھارتی بحریہ کے جنگی جہاز بھارتی پرچم بردار تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کر رہے ہیں۔ ایل پی جی بردار جہاز شوالک اور نندا دیوی کے بعد تیسرا بھارتی پرچم بردار جہاز جگ لاڈکی بھی محفوظ طریقے سے بھارت کے لیے روانہ ہو چکا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق بھارتی بحریہ کا ایک جنگی جہاز رات سے ہی اسے سکیورٹی فراہم کرتے ہوئے محفوظ علاقے تک پہنچانے کے لیے اس کے ساتھ چل رہا ہے۔ اس سے پہلے بھی دونوں جہازوں کو بحریہ کے جنگی جہازوں نے اسی طرح سکیورٹی فراہم کی تھی۔
خلیج عدن میں تین جنگی جہاز سرگرم
ذرائع کے مطابق اس وقت خلیج عدن کے علاقے میں بھارتی بحریہ کے تین جنگی جہاز سرگرم عمل ہیں۔ جس دن سے آبنائے ہرمز میں سمندری ٹریفک متاثر ہوئی ہے، اسی وقت سے بھارتی بحریہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور اس کی نگرانی جاری ہے۔ خلیج عمان کے قریب بھارتی بحریہ کا گائیڈیڈ میزائل ڈسٹرائر آئی این ایس سورت بھی تعینات ہے۔ 2017 میں شروع کیے گئے ’’مشن بیسڈ ڈپلائمنٹ‘‘ کے تحت بھارتی بحریہ کے جنگی جہاز دنیا کے مختلف اہم سمندری راستوں پر تعینات رہتے ہیں۔ پہلی تعیناتی آبنائے ہرمز کے قریب بحیرۂ عرب میں ہے، جہاں سے خلیج فارس اور خلیج عمان کے راستے بھارت کی تقریباً 80 فیصد توانائی کی تجارت ہوتی ہے۔ دوسری تعیناتی خلیج عدن میں ہے، جہاں سے سوئز نہر، بحیرۂ احمر اور خلیج عدن کے راستے بھارت کی تقریباً 90 فیصد دیگر تجارت گزرتی ہے۔ یہ علاقہ بحری قزاقی کے لحاظ سے بھی انتہائی حساس سمجھا جاتا ہے اور یہاں صومالیہ اور جبوتی کے قزاق سرگرم رہتے ہیں۔ تیسری تعیناتی سیشلز کے قریب ہے، جہاں سے کیپ آف گڈہوپ کے راستے آنے جانے والے جہازوں کی حفاظت اور بحری قزاقی کی روک تھام کی جاتی ہے۔ چوتھی تعیناتی مالدیپ کے قریب ہے۔ پانچویں تعیناتی انڈمان و نکوبار جزائر کے علاقے میں ہے۔ جبکہ چھٹی تعیناتی خلیج بنگال میں میانمار اور بنگلہ دیش کی سمندری سرحد کے قریب ہے۔ ان تعیناتیوں کے دوران بھارتی جنگی جہاز دوست ممالک کی بحریہ کے ساتھ مشترکہ مشقیں بھی کرتے ہیں اور کسی بھی قسم کی بحری قزاقی، حادثے یا ہنگامی صورتحال کی صورت میں امدادی اور بچاؤ کارروائیاں انجام دیتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ہفتہ کy کے روز بھارت کی مردوں کی ہاکی ٹیم نے ککامی گاہارا کے گیفو…
اسپتال سے پہلی بار کیپٹن اسمت مچھار کی تصاویر بھی سامنے آئی ہیں۔ تصاویر میں…
یہ مقابلہ بھارتی سینئر مردوں کی فٹ بال ٹیم کے لیے تاریخی اہمیت رکھتا ہے،…
گزشتہ ماہ عمان کے مشرقی ساحل کے قریب تجارتی جہاز ایم وی کیپ ڈیو پر…
رپورٹ میں اولیو رڈلے کچھوؤں کے طویل سمندری سفر اور رویّوں سے متعلق کئی اہم…
مقامی لوگوں کو شبہ تھا کہ یہ نوجوان علاقے میں ہونے والی گائے چوری کی…