روس میں ہندوستان کے سفیر ونئے کمار نے کہا ہے کہ ہندوستان اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے تیل وہیں سے خریدے گا جہاں سے بہترین معاشی سودا ملے گا۔ روس کے سرکاری خبر رساں ادارے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں، جو اتوار کو شائع ہوا، کمار نے واضح کیا کہ نئی دہلی کی سب سے بڑی ترجیح اپنے ایک ارب چالیس کروڑ عوام کی توانائی کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ ان کے اس بیان کا پس منظر امریکہ کی جانب سے ہندوستان کی طرف سے کم قیمت پر روسی خام تیل کی خریداری پر تنقید ہے، جسے ہندوستان نے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
کمار نے زور دیا کہ تجارت “تجارتی بنیادوں” پر ہوتی ہے اور ہندوستانی کمپنیاں اسی جگہ سے تیل خریدتی رہیں گی جہاں سے بہترین سودا ملے گا۔ انہوں نے کہا، “ہم نے واضح کر دیا ہے کہ ہمارا مقصد ایک ارب چالیس کروڑ ہندوستانیوں کی توانائی کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ ہندوستان کا روس اور دیگر ممالک کے ساتھ تعاون عالمی تیل کی منڈی میں استحکام لانے میں مددگار رہا ہے۔” ان کا یہ بیان امریکی انتظامیہ کے اس فیصلے کے تناظر میں آیا ہے جس میں ہندوستانی اشیا پر پچاس فیصد تک ٹیکس عائد کیے گئے، جن میں سے پچیس فیصد اضافی ٹیکس ہندوستان کی روسی تیل کی خریداری کی سزا کے طور پر ہے۔ امریکہ نے الزام لگایا کہ ہندوستان کی یہ خریداری ماسکو کی یوکرین جنگ کی مالی مدد کر رہی ہے، جسے ہندوستان نے سختی سے رد کیا۔
کمار نے واشنگٹن کے اس فیصلے کو “غیر منصفانہ، غیر معقول اور ناجائز” قرار دیا اور کہا کہ ہندوستانی حکومت اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور روس کے درمیان تجارت باہمی مفادات اور منڈی کے عوامل پر مبنی ہے، جس کا بنیادی مقصد ایک ارب چالیس کروڑ عوام کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ امریکہ اور یورپی ممالک سمیت دیگر ممالک بھی روس کے ساتھ تجارت کر رہے ہیں۔ ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بھی ہفتہ کو امریکی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا، “یہ مضحکہ خیز ہے کہ ایک کاروبار دوست امریکی انتظامیہ دوسروں پر کاروبار کرنے کا الزام لگا رہی ہے۔ اگر آپ کو ہندوستان سے تیل یا صاف شدہ مصنوعات خریدنے میں مسئلہ ہے تو نہ خریدیں۔ کوئی آپ پر زبردستی نہیں کر رہا۔”
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا اختتامی سیشن بھی بہت خاص رہا۔ اس خاص…
سوّرا بھاسکر نے 2019 کے ایودھیا فیصلے کو ’غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے مسلم دوستوں…
سرکاری محکموں میں خالی منظور شدہ عہدوں کو ایک سال کے اندر پُر کرنے کا…
17 ستمبر سے 17 اکتوبر تک ’سیوا سنکلپ ابھیان‘، وارانسی سے وڈ نگر اور وڈ…
بھارت ایکسپریس اردو کے ’بزمِ صحافت‘ میں مرکزی وزیر کرین رجیجو نے اردو کو گنگا…
شاہنواز حسین نے کہا، اردو کو بھلائے جانے کے دور میں اپیندر رائے اسے آگے…