قومی

India-UK Partnership Gets New Boost: بھارت-برطانیہ شراکت داری کو نئی مضبوطی: کریٹیکل منرلز سپلائی چین آبزرویٹری سینٹر کا افتتاح

بھارت اور برطانیہ (یو کے) کے درمیان کریٹیکل منرلز کے شعبے میں اسٹریٹجک شراکت داری نے ایک اور اہم سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ دونوں ممالک کے وزرائے اعظم نریندر مودی اور کیئر اسٹارمر کی جانب سے 2025 میں کریٹیکل منرلز سپلائی چین آبزرویٹری کے قیام کے اعلان کے بعد اب اس سمت میں ایک بڑا قدم اٹھایا گیا ہے۔ جمعرات کو مرکزی وزیرِ کوئلہ و کانکنی جی کشن ریڈی اور برطانیہ کی وزیر خارجہ ایویٹ کوپر نے مشترکہ طور پر بھارت-برطانیہ کریٹیکل منرلز گلوبل سپلائی چین آبزرویٹری (جی ایس سی او) سیٹلائٹ سینٹر کا افتتاح کیا۔ یہ معلومات ایک سرکاری بیان میں دی گئیں۔

ریٹیکل منرلز عالمی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بنتے جا رہے ہیں

اس موقع پر جی کشن ریڈی نے کہا کہ یہ آبزرویٹری دنیا بھر میں کریٹیکل منرلز کی محفوظ، پائیدار اور قابلِ اعتماد سپلائی چین کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ صاف توانائی، جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل تبدیلی کے تیزی سے فروغ کے ساتھ کریٹیکل منرلز عالمی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بنتے جا رہے ہیں۔ یہ آبزرویٹری دنیا کے سب سے بڑے ڈیجیٹل میٹریل فلو میپ کا ایک اہم مرکز بھی ہوگی۔

کریٹیکل منرلز کے شعبے میں خود کفالت کو اولین ترجیح

مرکزی وزیر نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت 2047 تک “وکست بھارت” کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے کریٹیکل منرلز کے شعبے میں خود کفالت کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔ اسی مقصد کے تحت 4 ارب ڈالر کے نیشنل کریٹیکل منرلز مشن کا آغاز کیا گیا ہے، جس کا مقصد معدنیات کی تلاش، کانکنی، پروسیسنگ، ری سائیکلنگ اور اختراعات کو فروغ دینا ہے۔سرکاری بیان کے مطابق حکومت کریٹیکل منرلز کی ری سائیکلنگ کو فروغ دینے کے لیے 18 کروڑ ڈالر کی خصوصی اسکیم بھی نافذ کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ ملک بھر میں 9 سینٹرز آف ایکسی لینس قائم کیے گئے ہیں۔ حکومت صنعتی فضلے سے قیمتی معدنیات کی بازیابی اور بیرونِ ملک معدنی اثاثوں کی ترقی جیسے اقدامات بھی کر رہی ہے تاکہ ملک کی معدنی سلامتی کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

شفاف ای نیلامی نظام کے ساتھ نجی اور جونیئر مائننگ کمپنیوں کو بھی نئے مواقع

جی کشن ریڈی نے کہا کہ معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے حکومت متعدد پالیسی اصلاحات نافذ کر رہی ہے۔ شفاف ای نیلامی نظام کے ساتھ نجی اور جونیئر مائننگ کمپنیوں کو بھی نئے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے برطانوی کمپنیوں، سرمایہ کاروں اور تکنیکی اداروں کو بھارت کے کریٹیکل منرلز سیکٹر میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ کانکنی اور منرل پروسیسنگ میں برطانیہ کی مہارت بھارت کے الیکٹرک گاڑیوں، دفاع، ایرو اسپیس اور سیمی کنڈکٹر جیسے اسٹریٹجک شعبوں کی ترقی کو مزید تیز کر سکتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

CM Hemant Soren Mother Passes Away: جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کی والدہ روپی سورین کا انتقال، سیاسی حلقوں میں سوگ کی لہر

روپی سورین کے انتقال کی خبر سامنے آتے ہی جھارکھنڈ کے سیاسی اور سماجی حلقوں…

33 minutes ago

Russia-Ukraine War: روس کا بڑا فضائی حملہ، کیف سمیت 12 علاقوں میں تباہی، 4 بچوں سمیت 19 افراد ہلاک

روس-یوکرین جنگ: روس نے بدھ کی صبح یوکرین کے دارالحکومت کیف سمیت کئی شہروں اور…

54 minutes ago

Relief For Small Traders: چھوٹے تاجروں کے لیے دیوالی سے پہلے خوشخبری! جی ایس ٹی رجسٹریشن سے ریفنڈ تک آسان ہو سکتے ہیں قواعد

جی ایس ٹی کونسل کی میٹنگ میں چھوٹے اور کم خطرے والے کاروباروں کے لیے…

1 hour ago

Modi 25 Years Public Life: پی ایم مودی کے 25 سالہ عوامی سفر کو وقف خدمت ہفتہ شروع، پٹیالہ میں 400 ضرورت مند خاندانوں کو راشن

وزیر اعظم نریندر مودی کے 25 سالہ عوامی سفر اور ان کی سالگرہ کے موقع…

2 hours ago