نئی دہلی: ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے بیچ بھارت کے لیے ایک بڑی راحت کی خبر سامنے آئی ہے۔ تقریباً 45 ہزار ٹن ایل پی جی لے کر آنے والا سپر ٹینکر ’’سروشکتی‘‘ آبنائے ہرمز کو کامیابی کے ساتھ پار کر چکا ہے اور جلد بھارتی بندرگاہ پہنچنے کی امید ہے۔ اس پیش رفت کو توانائی سپلائی کے نقطہ نظر سے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، امریکہ کی جانب سے سخت نگرانی اور ایران کی پابندیوں کے باوجود اس ٹینکر کا ہرمز سے گزرنا ایک بڑی کامیابی ہے۔ یہ جہاز بھارتی کمپنیوں کو ایل پی جی فراہم کرے گا، جس سے ملک میں جاری گیس کی قلت میں کمی آنے کی توقع ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ٹینکر کو سخت سکیورٹی کے ساتھ بھارتی بندرگاہ تک پہنچایا جائے گا اور اس کا عملہ بھی مکمل طور پر بھارتی ہے۔
عالمی توانائی راستے پر دباؤ
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین توانائی راستوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں سے عالمی تیل اور گیس تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ موجودہ حالات میں ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع نے اس راستے کو انتہائی حساس بنا دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، اسلام آباد میں مذاکرات ناکام ہونے کے بعد امریکہ نے علاقے میں ناکہ بندی سخت کر دی، جس کے نتیجے میں کئی جہاز ہرمز کے آس پاس ہی رکے ہوئے ہیں۔ امریکہ نے جہاز رانی کمپنیوں کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ ہرمز سے گزرنے کے لیے ایران کو کسی قسم کی فیس یا ادائیگی کرتے ہیں تو انہیں پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ امریکی ادارہ او ایف اے سی (OFAC) نے واضح کیا ہے کہ ادائیگی کسی بھی شکل میں ہو، چاہے نقد ہو یا ڈیجیٹل، اس پر کارروائی ہو سکتی ہے۔ یہ وارننگ اس وقت سامنے آئی ہے جب ایران پر الزام ہے کہ وہ جہازوں کو متبادل راستے فراہم کرنے کے بدلے فیس وصول کر رہا ہے۔
ایران کا مقف اور بدلتی صورتحال
ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ہرمز کے راستے پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے اور بعض حالات میں جہازوں کی آمد و رفت کو محدود کر سکتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، ایران نے کچھ جہازوں کو اپنی ساحلی حدود کے قریب محفوظ راستے فراہم کیے ہیں، تاہم اس کے بدلے فیس لینے کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔ دوسری جانب، امریکہ نے 13 اپریل سے اپنی بحری ناکہ بندی سخت کرتے ہوئے ایرانی تیل کی نقل و حرکت کو محدود کرنے کی کوشش کی ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ موجودہ صورتحال میں ’’سروشکتی‘‘ ٹینکر کا بھارت کی جانب پیش قدمی نہ صرف ایک اہم لاجسٹک کامیابی ہے بلکہ یہ عالمی توانائی سپلائی کے غیر یقینی حالات کے درمیان ایک مثبت اشارہ بھی ہے۔ ماہرین کے مطابق، اگر اس طرح کی سپلائی جاری رہی تو بھارت کو ایندھن کے بحران سے کافی حد تک راحت مل سکتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بہار کے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا، ’’ملک…
سعودی عرب میں حوثی باغیوں کے مسلسل حملوں کے پیش نظر امریکہ نے اپنے سفارتی…
ڈبلیو ایچ او کے مطابق، خسرے کے وائرس سے متاثر ہونے کے عموماً 7 سے…
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور امریکی سفیر سرجیو گور نے ریلائنس انڈسٹریز کے جام…
وزیر اعظم نریندر مودی 25 اکتوبر 2026 کو اپنے پارلیمانی حلقے وارانسی کا دورہ کریں…
دہلی ہائی کورٹ 22 اکتوبر کو آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی صدر نیہا بورا…