نئی دہلی: امریکہ نے ایران-اسرائیل جنگ کے درمیان بھارت کو روس سے تیل خریدنے کے لیے 30 دن کی خصوصی چھوٹ دی ہے، جس پر ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی کانگریس نے سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ کانگریس نے اس فیصلے کو بھارت کی خودمختاری اور آزادی پر ”کرارا طمانچہ“ قرار دیا ہے اور سوال اٹھایا ہے کہ امریکہ کس حیثیت سے بھارت کو یہ اجازت دے رہا ہے۔
کانگریس کا ردعمل
کانگریس کی لیڈر سپریا شرینیٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا، ”امریکی فنانس منسٹر نے میڈیا کو بتایا کہ بھارت کو 30 دن کے لیے روس سے تیل خریدنے کی اجازت دی گئی ہے۔ یہ ہماری آزادی اور خودمختاری پر ”کرارا طمانچہ“ ہے۔ امریکہ کون ہوتا ہے ہمیں اجازت دینے والا؟“ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے لیڈر، خاص طور پر راہل گاندھی، مستقل طور پر حکومت کو توانائی کی سلامتی کے بارے میں آگاہ کرتے رہے ہیں۔
سابق وزیر جے رام رمیش نے کہا کہ یہ امریکہ کا نیا کھیل ہے کہ بھارت کو بتائے کہ روس سے تیل کب اور کیسے لینا ہے۔ انہوں نے اسے امریکی بلیک میلنگ قرار دیا۔
کانگریس کے سینئر لیڈر پرینک کھڑگے نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا، ”یو ایس ٹریژری سیکریٹری کون ہوتے ہیں جو بھارت کو روسی تیل خریدنے کی اجازت دیں؟ بھارتی حکومت اس بدمزگی کو کیوں برداشت کر رہی ہے اور امریکی حکم کے آگے کیوں جھک رہی ہے؟ کیا وجہ ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی مسلسل نرم رویہ اختیار کر رہے ہیں؟ ہماری خارجہ پالیسی اس طرح مذاق بن رہی ہے۔ حکومت کو کچھ ہمت دکھانی چاہیے“۔
کانگریس کے دیگر لیڈر، جیسے عمران پرتاپ گڑھی، نے بھی کہا کہ یہ صورتحال بھارت کی خودمختاری کے لیے باعث تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی اجازت پر منحصر ہو کر تیل خریدنا مکمل طور پر حکومت کی خودمختاری کو محدود کرتا ہے اور یہ ”سرنڈر کی پوزیشن“ ہے۔
امریکہ کا موقف
امریکی ٹریژری سیکریٹری اسکاٹ بیسینٹ نے جمعہ، 6 مارچ کو اعلان کیا کہ یہ قدم صدر ٹرمپ کے توانائی ایجنڈے کے تحت عارضی طور پر اٹھایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت امریکہ کا اہم شراکت دار ہے اور عالمی مارکیٹ میں تیل کی سپلائی کو مستحکم رکھنے کے لیے یہ چھوٹ دی گئی ہے۔ بیسینٹ نے ایکس پر لکھا، ”ایران عالمی توانائی مارکیٹ کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس دباؤ کو کم کرنے کے لیے ہم بھارت کو یہ 30 دن کی چھوٹ دے رہے ہیں“۔
عالمی تناظر اور بھارت کی توانائی
ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کی وجہ سے عالمی تیل مارکیٹ میں عدم استحکام پیدا ہو گیا ہے۔ بھارت اپنی زیادہ تر تیل کی ضروریات درآمدی ذرائع سے پورا کرتا ہے، اور کسی بھی قسم کی رکاوٹ ملک میں توانائی کے بحران کا سبب بن سکتی تھی۔ امریکہ کی 30 دن کی چھوٹ بھارت کو وقتی طور پر روس سے تیل خریدنے کی سہولت فراہم کرتی ہے تاکہ توانائی کی قلت نہ ہو اور مارکیٹ میں استحکام قائم رہے۔ کانگریس کا موقف واضح ہے کہ یہ اقدام بھارت کی خودمختاری پر برا اثر ڈال سکتا ہے اور اسے امریکہ کے دباؤ کے تحت فیصلے کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ حکومت کو اپنی خارجہ پالیسی میں خود مختاری اور قومی مفاد کو مقدم رکھنا چاہیے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر (IICC) میں منعقدہ ’ہندی میری جان‘ پروگرام میں بھارت ایکسپریس کے…
وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر گینڈوں کے تحفظ سے متعلق…
بھارتی خواتین ٹیم کی اس تاریخی اور ریکارڈ ساز جیت پر مرکزی وزیر داخلہ امت…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ٹیم کو مبارکباد دیتے…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سچیکا تاریال کو مبارکباد…
ایران کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ فوجی دباؤ کم کرنے اور ایرانی بندرگاہوں کی…