ہندوستان نے غربت میں کمی کے معاملے میں دنیا کے تیز رفتار ممالک میں اپنی جگہ بنائی ہے۔ عالمی بینک کی اکتوبر 2026 کی تازہ رپورٹ کے مطابق، 2011 سے 2023 کے درمیان ہندوستان میں تقریباً 49 کروڑ 60 لاکھ افراد غربت سے باہر آئے ہیں۔ اس دوران انتہائی غربت میں زندگی گزارنے والی آبادی کا تناسب 27.1 فیصد سے گھٹ کر محض 2.6 فیصد رہ گیا ہے۔ عالمی بینک نے اس پیش رفت کو دنیا میں غربت میں ہونے والی تیز ترین کمی میں سے ایک قرار دیا ہے۔عالمی بینک کی ’پاورٹی اینڈ ایکویٹی بریف‘ کے مطابق، ہندوستان میں نہ صرف انتہائی غربت میں کمی آئی ہے بلکہ کم متوسط آمدنی والے ممالک کے لیے مقرر کردہ یومیہ 4.20 امریکی ڈالر کی غربت کی حد سے نیچے زندگی گزارنے والی آبادی کا تناسب بھی نمایاں طور پر کم ہوا ہے۔ 2021 کی قوت خرید کی برابری (پی پی پی) کی بنیاد پر یہ تناسب 2011 میں 57.7 فیصد تھا، جو 2023 میں گھٹ کر 16.1 فیصد رہ گیا۔رپورٹ میں غربت میں کمی کی بنیادی وجوہات میں لوگوں کی کھپت اور اخراجات میں اضافہ، روزگار کے مواقع میں توسیع، خاص طور پر خواتین کی ملازمتوں میں اضافہ اور حکومت کی جانب سے سماجی بہبود کی اسکیموں کے تحت ملنے والی امداد کو شامل کیا گیا ہے۔ ان میں غذائی اجناس پر دی جانے والی سبسڈی بھی اہم ہے۔
آئندہ دو برسوں میں بھی غربت میں کمی کی امید
عالمی بینک کے اندازوں کے مطابق ہندوستان میں غربت کی شرح میں آئندہ برسوں میں بھی کمی جاری رہنے کا امکان ہے، تاہم اس کی رفتار پہلے کے مقابلے میں سست ہو سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یومیہ 4.20 ڈالر کی آمدنی کی حد کے تحت غربت کی شرح 2026 میں 14.2 فیصد سے گھٹ کر 2028 تک 12.1 فیصد ہو سکتی ہے۔تاہم عالمی بینک نے واضح کیا ہے کہ یہ اندازے مختلف معاشی حالات اور اعداد و شمار کی بنیاد پر تیار کیے گئے ہیں۔ روزگار کی صورت حال اور معیشت سے متعلق نئے اعداد و شمار سامنے آنے کے بعد ان میں تبدیلی ممکن ہے۔
کثیر جہتی غربت میں بھی نمایاں کمی
رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں صرف آمدنی کی بنیاد پر نہیں بلکہ تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات جیسے عوامل کی بنیاد پر بھی غربت میں نمایاں کمی درج کی گئی ہے۔آکسفورڈ پاورٹی اینڈ ہیومن ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو کے کثیر جہتی غربت اشاریے کے مطابق 2005-06 میں ہندوستان کی 53.8 فیصد آبادی کثیر جہتی غربت کا شکار تھی، جو 2019-21 میں کم ہو کر 16.4 فیصد رہ گئی۔ وہیں عالمی بینک کے اپنے کثیر جہتی غربت کے پیمانے کے مطابق 2022-23 میں یہ شرح 15.5 فیصد درج کی گئی۔اس کے باوجود رپورٹ میں علاقائی اور روزگار سے متعلق کئی چیلنجز کی نشاندہی کی گئی ہے۔ عالمی بینک کے مطابق ہندوستان کی غریب آبادی کا تقریباً 57 فیصد حصہ اتر پردیش سے مغربی بنگال تک پھیلے ہوئے ایک مسلسل جغرافیائی خطے میں رہتا ہے۔ ایسے میں ان ریاستوں میں بہتر اور پیداواری روزگار کے مواقع پیدا کرنا غربت میں مزید کمی کے لیے انتہائی اہم ہوگا۔
روزگار میں اضافہ، لیکن نوجوانوں کی بے روزگاری تشویش کا سبب
عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق 2017 سے 2023 کے درمیان ہندوستان میں تقریباً 13 کروڑ 40 لاکھ افراد کا اضافہ روزگار سے وابستہ آبادی میں ہوا۔ یہ اضافہ اسی عرصے میں کام کرنے کی عمر والی آبادی میں ہونے والے اضافے سے تقریباً دوگنا ہے۔ اس میں دیہی علاقوں کی خواتین کا بڑی تعداد میں اجرت پر کام کرنے کے لیے آگے آنا اہم وجہ رہا۔ روزگار کے شعبے میں بہتری کے باوجود نوجوانوں کی بے روزگاری میں اضافہ درج کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی سے مالی سال 2027 کی پہلی سہ ماہی کے درمیان نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 14.6 فیصد سے بڑھ کر 15.9 فیصد ہو گئی۔ اس کا زیادہ اثر دیہی علاقوں کی نوجوان خواتین پر دیکھا گیا۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حقیقی آمدنی میں مجموعی طور پر کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا ہے اور روزگار کے زیادہ تر نئے مواقع نسبتاً کم پیداواری صلاحیت والے شعبوں میں پیدا ہوئے ہیں۔عالمی بینک نے یہ وضاحت بھی کی ہے کہ غربت کے اندازے گھریلو کھپت کے سروے پر مبنی ہیں۔ اس لیے حالیہ برسوں میں درج ہونے والی بہتری کا کچھ حصہ اعداد و شمار کی پیمائش کے طریقوں میں بہتری کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے، اگرچہ حقیقی طور پر لوگوں کے معیار زندگی میں بھی بہتری آئی ہے۔
عدم مساوات میں بھی پانچ برسوں کی سب سے بڑی کمی
رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں آمدنی کی عدم مساوات میں بھی گزشتہ 5 برسوں کے دوران سب سے زیادہ کمی درج کی گئی ہے۔ 2026 میں ہندوستان کا جینی انڈیکس 23.5 رہا، جو آمدنی کی تقسیم میں نسبتاً کم عدم مساوات کی نشاندہی کرتا ہے۔اس پیمانے پر ہندوستان کی صورت حال چین اور امریکہ جیسے ممالک کے مقابلے میں بہتر بتائی گئی ہے۔ رپورٹ میں چین کا جینی انڈیکس 36 اور امریکہ کا 42 درج کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ یومیہ 400 روپے سے کم آمدنی پر گزارہ کرنے والی ہندوستانی آبادی کا تناسب بھی 57.7 فیصد سے گھٹ کر 16.1 فیصد رہ گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مہنگائی کے دباؤ کے باوجود لوگوں کی قوت خرید اور کھپت میں اضافہ غربت میں کمی کی اہم وجوہات میں شامل ہے۔
راشد خان صرف ٹی 20 انٹرنیشنل ہی نہیں بلکہ مجموعی ٹی 20 کرکٹ میں بھی…
زمبابوے کے خلاف 50 گیندوں پر 116 رنز کی دھواں دار اننگز کھیلی، چھٹے یا…
محکمہ موسمیات نے سیتامڑھی اور مدھوبنی میں انتہائی شدید بارش اور آسمانی بجلی گرنے کا…
بہار کی سیاست اور جے ڈی یو کے اندرونی اختلافات میں تیزی آگئی ہے۔ اننت…
یومِ تاسیس کے موقع پر ایک طرف جامعہ انتظامیہ نے تقریب منعقد کی، تو دوسری…
ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت اپنے بیانات میں ایمان مزاری اور ہادی علی…