نئی دہلی: بھارت میں خلائی شعبہ تیزی سے ترقی کی نئی منازل طے کر رہا ہے۔ مرکزی حکومت نے بدھ کے روز پارلیمنٹ کو بتایا کہ ملک میں اس وقت 400 سے زیادہ اسپیس اسٹارٹ اپس سرگرم عمل ہیں اور ان میں ہونے والی مجموعی سرمایہ کاری 500 ملین امریکی ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ حکومت کے مطابق یہ پیش رفت بھارت کو عالمی خلائی صنعت میں ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر ابھار رہی ہے۔ سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم کے وزیرِ مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے لوک سبھا میں تحریری جواب دیتے ہوئے کہا کہ نجی شعبے کی دو کمپنیوں نے نومبر 2022 اور مئی 2024 میں اپنے راکٹ کو سب آربیٹل سطح تک کامیابی کے ساتھ لانچ اور ٹیسٹ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارت میں نجی خلائی صنعت تیزی سے مضبوط ہو رہی ہے اور پیچیدہ تکنیکی اہداف حاصل کر رہی ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ کے مطابق اب تک 25 پے لوڈز کو پی ایس ایل وی آربیٹل ایکسپیریمنٹل ماڈیول، یعنی پی او ای ایم، کے ذریعے خلا میں بھیجا جا چکا ہے یا بھیجے جانے کے مرحلے میں ہیں۔ پی او ای ایم ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو نجی کمپنیوں اور تحقیقی اداروں کو اپنے آلات اور ٹیکنالوجی کو خلا میں آزمانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ چھ بھارتی غیر سرکاری اداروں نے مل کر 18 سیٹلائٹس خلا میں لانچ کیے ہیں۔
وزیر مملکت نے بتایا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت زمین کی نگرانی کرنے والے سیٹلائٹس کا ایک نیا مجموعہ تیار کیا جا رہا ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف نئے سائنسی تجربات کو فروغ ملے گا بلکہ عالمی سطح پر بھارتی خلائی کمپنیوں پر اعتماد بھی بڑھے گا۔ انہوں نے کہا کہ کم از کم 25 کمپنیاں پہلے ہی پی او ای ایم جیسے پلیٹ فارم استعمال کرتے ہوئے اپنے سیٹلائٹس اور آلات کی جانچ کر رہی ہیں۔
مرکزی حکومت کے مطابق کئی ریاستی حکومتیں بھی خلائی شعبے کو مستقبل کا اہم میدان مان رہی ہیں اور سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے نئی پالیسیاں اور مراعاتی اسکیمیں متعارف کرا رہی ہیں۔ اسٹارٹ اپ انڈیا اسکیم کے آغاز کے بعد خلائی اسٹارٹ اپس کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ یہ اسکیم 16 جنوری 2016 کو وزیر اعظم نریندر مودی نے شروع کی تھی، جس کا مقصد اختراع، کاروبار اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا تھا۔ 2014 کے بعد بھارت میں پکسِل، دھرووا اسپیس، اسکائی روٹ ایرو اسپیس، اگنیکل کاسموس اور بیلاٹرکس ایرو اسپیس جیسے بڑے خلائی اسٹارٹ اپس ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ بنگلورو کی کمپنی پکسِل نے فائر فلائی نام سے اپنے پہلے تجارتی سیٹلائٹس لانچ کیے ہیں، جبکہ گیلیکسی آئی کا مشن درشتی جلد لانچ ہونے والا ہے، جو دنیا کا پہلا ملٹی سینسر ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹ ہوگا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
محکمۂ موسمیات کے مطابق اب مانسون کمزور پڑ رہا ہے، جس کے باعث بارش میں…
سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس بھوشن رام کرشن گوائی نے کہا کہ محض سیاسی…
مرکزی وزیر اور راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) کے صدر جینت چودھری نے جمعہ…
پرتگال 24 ستمبر کو گھریلو میدان پر ویلز کے خلاف نیشنز لیگ مہم کا آغاز…
ہرارے اسپورٹس کلب میں کھیلے گئے مقابلے میں آسٹریلیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 50…
جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے زمین سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں کارروائی روکنے کی درخواست…