سابق یورپی مرکزی بینک (ECB) کے صدر ژاں کلود تریشے (Jean-Claude Trichet) نے کہا ہے کہ بھارت میں اتنی معاشی لچک موجود ہے کہ وہ امریکی محصولات (US tariffs) کے جھٹکوں کو برداشت کر سکتا ہے، تاہم اگر ملک کو مسلسل 8 فیصد سالانہ شرح نمو حاصل کرنی ہے اور 2047 تک ترقی یافتہ معیشت بننے کے اپنے ہدف تک پہنچنا ہے تو اسے جرأت مندانہ ساختی اصلاحات (structural reforms) جاری رکھنی ہوں گی۔ تریشے نے یہ بات CNBC-TV18 کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہی۔
بھارت کے پاس انسانی سرمایہ سب سے بڑی طاقت
تریشے نے عالمی معاشی عدم استحکام کے باوجود بھارت کی استقامت، مضبوط انسانی وسائل اور سائنس و ٹیکنالوجی کے معیار کو سراہا۔ انہوں نے کہا: ’’بھارت کے سامنے بہت بڑے چیلنجز ہیں جیسا کہ خود مرکزی بینک کے گورنر اور وزیر خزانہ نے بھی تسلیم کیا ہے۔ ملک کو کروڑوں روزگار پیدا کرنے ہیں۔ یہ چیلنج واقعی بہت بڑے ہیں۔‘‘ انہوں نے زور دیا کہ بھارت کو اپنی آبادی کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور اصلاحاتی رفتار کو برقرار رکھنے پر توجہ دینی چاہیے۔
بھارتی انجینئروں اور پیشہ وروں کا معیار غیر معمولی ہے
تریشے نے کہا کہ بھارت دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشتوں میں سے ایک بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ تخمینوں کے مطابق مالی سال 2026 میں بھارت کی شرح نمو کو 6.8 فیصد تک بڑھا دیا گیا ہے، حالانکہ دنیا بھر میں افراط زر، محصولات اور جغرافیائی تنازعات جیسے چیلنجز موجود ہیں۔ انہوں نے بھارتی ماہرین، انجینئروں اور سائنس دانوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا: ’’بھارتی انجینئروں اور پروفیشنلز کا معیار قابل تعریف ہے، یورپی کمپنیاں بھارتی ٹیلنٹ سے بہت خوش ہیں۔ بھارت کی ریاضی اور سائنسی روایت طویل اور مضبوط ہے۔‘‘
2047 کا ہدف: امید کے ساتھ احتیاط بھی ضروری
بھارت کے 2047 تک ترقی یافتہ ملک بننے کے خواب کے بارے میں تریشے نے کہا: ’’یہ ایک نہایت بلند ہدف ہے، اس کے لیے انتہائی جرأت مندانہ اصلاحات کی ضرورت ہے۔ بھارت کو خود پر مطمئن نہیں ہونا چاہیے۔‘‘ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ بھارت کی سمت کو لے کر’’معتدل حد تک پُرامید‘‘ ہیں۔
عالمی معیشت میں غیر یقینی صورت حال پر تبصرہ
تریشے نے کہا کہ امریکی محصولات کی پالیسیاں عالمی ترقی کے لیے منفی ثابت ہو رہی ہیں اور دنیا بھر کے مرکزی بینکوں بشمول بھارت کے افراط زر کے دباؤ سے نبرد آزما ہیں۔ انہوں نے بھارتی ریزرو بینک (RBI) کی لچک دار افراط زر کے ہدف کی پالیسی کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کو اصلاحات اور پالیسی کے تسلسل کو برقرار رکھنا ہوگا تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد قائم رہے۔ یہ انٹرویو ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت تیزی سے ترقی پذیر معیشت کے طور پر عالمی توجہ کا مرکز ہے، لیکن روزگار، سرمایہ کاری اور پالیسی استحکام کے محاذ پر اب بھی بڑے فیصلوں کی ضرورت باقی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ہندوستان کی آزادی کے وقت تاریخی سینگول کی تیاری میں اہم کردار ادا کرنے والے…
ایمانوئل میکرون نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے ملک میں پرتشدد مظاہروں کے دوران…
دہلی پولیس نے سورَو داس اورآشوتوش رانکا کو13 اکتوبرکوحراست میں لیا تھا۔ دونوں پرالزام ہے…
دہلی-این سی آر میں بڑھتی آلودگی کے درمیان اے کیو آئی 244 سے تجاوز کر…
سابق وزیر اعلیٰ دگ وجے سنگھ ان دنوں اپنی پیدل یاترا کو لے کر سرخیوں…
سماجوادی پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کے دفتر میں وزیر اعلیٰ…