بھارت اور فرانس کے تعلقات پچھلے کچھ برسوں میں مسلسل مضبوط ہوئے ہیں۔ دفاع، خلائی، جوہری توانائی، تجارت، ٹیکنالوجی، بحری سلامتی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے متعدد شعبوں میں دونوں ممالک نے قریبی تعاون کو فروغ دیا ہے۔ 13 سے 19 جون 2026 کے درمیان وزیرِاعظم نریندر مودی کے فرانس کے دورے کو اسی اسٹریٹجک شراکت داری کے ایک اہم مرحلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ دورہ صرف سفارتی رسمی کارروائی نہیں بلکہ بھارت اور فرانس کے درمیان طویل المدتی تعاون کو مزید گہرا کرنے کا موقع ہے۔ بھارت اور فرانس کے تعلقات آزادی کے بعد سے ہی مثبت رہے ہیں۔ سال 1998 میں دونوں ممالک نے اسٹریٹجک شراکت داری قائم کی تھی۔ تب سے دفاعی تعاون، دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششیں، ہند-بحرالکاہل خطے میں استحکام اور عالمی فورمز پر ہم آہنگی مسلسل بڑھتی رہی ہے۔ فرانس ان چند ممالک میں شامل ہے جنہوں نے بھارت کے دفاعی جدید کاری، خلائی پروگرام اور جوہری توانائی کی ترقی میں اہم تعاون فراہم کیا ہے۔ دونوں ممالک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات، کثیر قطبی عالمی نظام اور گلوبل ساؤتھ کے خدشات جیسے امور پر بھی اکثر یکساں مؤقف رکھتے ہیں۔
ان کے دورے کے تین اہم حصے ہیں:
نیس (13-14 جون): وزیرِاعظم مودی فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون کے ساتھ دو طرفہ بات چیت کریں گے اور ‘انڈیا انوویٹس’ پروگرام کا مشترکہ طور پر افتتاح کریں گے۔
ایویان-لی-بین (16-17 جون): وہ G7 سربراہی اجلاس کے آؤٹ ریچ سیشنز میں شرکت کریں گے اور اے آئی کے استعمال، عالمی ترقی اور سپلائی چین پر گفتگو کریں گے۔
پیرس (18 جون): مودی یورپ کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی کانفرنس ‘ویواٹیک سمٹ’ سے خطاب کریں گے، جہاں بھارت سب سے بڑا قومی پویلین میزبانی کر رہا ہے۔ ان کے بھارتی کمیونٹی سے بھی خطاب کی توقع ہے۔
دورے کے اہم مقاصد
وزیرِاعظم مودی کے اس دورے کے کئی اہم مقاصد ہیں:
بھارت اور فرانس دفاع اور سلامتی کے شعبے میں پہلے ہی اہم شراکت دار ہیں۔ دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دفاعی پیداوار، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مشترکہ تحقیق سے متعلق امور پر بات چیت کا امکان ہے۔
بحرِ ہند اور بحرالکاہل کا خطہ آج عالمی حکمتِ عملی کا مرکز بن چکا ہے۔ بھارت اور فرانس دونوں اس خطے میں آزاد، محفوظ اور قواعد پر مبنی نظام کے حامی ہیں۔ بحری سلامتی، بحری مشقیں اور سمندری نگرانی جیسے موضوعات بات چیت کے مرکز میں رہ سکتے ہیں۔
فرانس یورپ میں بھارت کا ایک اہم اقتصادی شراکت دار ہے۔ دونوں ممالک سرمایہ کاری، مینوفیکچرنگ، سبز توانائی، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور اسٹارٹ اپ تعاون کو بڑھانے پر توجہ دے سکتے ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی آج ایک عالمی چیلنج ہے۔ بھارت اور فرانس پہلے ہی صاف توانائی اور ماحولیاتی تحفظ کے شعبے میں مل کر کام کر رہے ہیں۔ اس دورے میں شمسی توانائی، گرین ہائیڈروجن اور پائیدار ترقی سے متعلق نئے معاہدے سامنے آ سکتے ہیں۔
ممکنہ اہم ملاقاتیں
دورے کے دوران وزیرِاعظم مودی کی ملاقات فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون سمیت کئی اعلیٰ رہنماؤں، صنعتکاروں اور پالیسی ماہرین سے ہو سکتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
عدالت نے کہا کہ انتخابی ضابطوں کی ان خلاف ورزیوں کے لیے اجتماعی انتخابی ہرجانہ…
امت شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم کی 25 سالہ عوامی خدمت کا ذکر اس…
یونیورسٹی آف ممبئی کے شعبۂ قانون اور چیف جسٹس ایم سی چھاگلا میموریل ٹرسٹ کے…
پروفیسر شاہد صدیقی نے کہا کہ آج کے نوجوانوں کو اردو سے جوڑنے کے لیے…
مانسون کی سرگرمیاں برقرار، بعض علاقوں میں بارش اور گرج چمک کا امکان؛ دہلی میں…
ڈاکٹر شمس اقبال نے اردو صحافیوں سے زبان کے معیار پر بھی خصوصی توجہ دینے…