نئی دہلی: ہندوستان نے صاف توانائی کے شعبے میں ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے پی ایم سوریہ گھر مفت بجلی یوجنا کے تحت 40 لاکھ سے زائد گھروں کو روف ٹاپ سولر سسٹم سے جوڑ دیا ہے۔ مرکزی وزیر برائے پیٹرولیم و قدرتی گیس ہردیپ سنگھ پوری نے جمعہ کو اس کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے اسے توانائی میں خود کفالت اور ماحولیاتی پائیداری کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا۔
ہردیپ پوری نے کامیابی کو بتایا تاریخی
ہردیپ سنگھ پوری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں شروع کی گئی یہ اسکیم عام شہریوں کو بجلی کے اخراجات سے نجات دلانے کے ساتھ ساتھ ہندوستان میں صاف توانائی کے انقلاب کو بھی مضبوط بنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی ہندوستان کے عالمی سطح پر سولر توانائی کے ایک بڑے رہنما ملک کے طور پر ابھرنے کی واضح مثال ہے۔
सौर शक्ति का सुपरपावर बनता भारत
स्वच्छ ऊर्जा की दिशा में एक बड़ी उपलब्धि !भारत ने ‘पीएम सूर्य घर: मुफ्त बिजली योजना’ के तहत 40 लाख घरों को रूफटॉप सोलर से जोड़ते हुए इस क्षेत्र में एक ऐतिहासिक पड़ाव को पार किया है।
PM @narendramodi जी के मार्गदर्शन में यह पहल देश के आम नागरिकों… pic.twitter.com/cBUE0kOLfB
— Hardeep Singh Puri (@HardeepSPuri) May 29, 2026
پیوش گوئل نے بھی اسکیم کی تعریف کی
مرکزی وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے بھی اس پروگرام کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر کی چھتیں اب توانائی پیدا کرنے کے مراکز میں تبدیل ہو رہی ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ اسکیم خاندانوں کو بااختیار بنانے کے ساتھ ساتھ قابل تجدید توانائی کے ذریعے خود انحصاری کو فروغ دے رہی ہے۔
2024 میں شروع کی گئی تھی اسکیم
حکومت نے پی ایم سوریہ گھر مفت بجلی یوجنا کا آغاز 2024 میں ایک ڈیمانڈ پر مبنی اسکیم کے طور پر کیا تھا، جس کا مقصد گرڈ سے منسلک بجلی استعمال کرنے والے رہائشی صارفین کو روف ٹاپ سولر سہولت فراہم کرنا ہے۔ شہری اس اسکیم کے قومی پورٹل کے ذریعے روف ٹاپ سولر سسٹم کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔
حکومت نے ہزاروں کروڑ روپے کیے خرچ
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، مالی سال 2026 میں 5 مارچ تک حکومت نے اس اسکیم کے تحت 14,585.29 کروڑ روپے خرچ کیے، جبکہ مالی سال 2025 میں یہ رقم 7,822.92 کروڑ روپے تھی۔
ایک کروڑ گھروں میں سولر سسٹم لگانے کا ہدف
حکام کے مطابق اگر ایک کروڑ گھروں میں روف ٹاپ سولر سسٹم نصب کیے جائیں تو اس سے تقریباً 1,000 بلین یونٹ قابل تجدید بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اندازہ لگایا گیا ہے کہ ان سولر سسٹمز کی 25 سالہ مدت کے دوران تقریباً 720 ملین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی آئے گی۔
کئی ریاستیں عمل درآمد میں آگے
گجرات، مہاراشٹر، اتر پردیش، کیرلم اور راجستھان اس اسکیم کے نفاذ میں اس وقت ملک بھر میں سرفہرست ہیں۔ اس دوران، حکومت نیشنل گرین ہائیڈروجن مشن پر بھی تیزی سے کام کر رہی ہے تاکہ ہندوستان کو گرین ہائیڈروجن اور متعلقہ ٹیکنالوجیز کی عالمی پیداوار اور برآمد کے مرکز کے طور پر قائم کیا جا سکے۔
بھارت ایکسپریس۔
پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر کیپٹن…
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹس نے ٹریک اینڈ فیلڈ میں دو سلور اور…
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…
انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب میں ایرانی صدر نے امریکہ…
آئی بی سی کے ذریعے ممبئی کے ٹیک ٹین بی کے سی اور بھارت نگر…