قومی

INDIA bloc Meeting in Delhi Today: دہلی میں آج ’انڈیا‘ بلاک کا اہم اجلاس، مرکزی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف اپوزیشن کے اتحاد پر زور

نئی دہلی: پیر کے روز نئی دہلی میں منعقد ہونے والے ’انڈیا‘ بلاک کے اجلاس میں 23 سیاسی جماعتوں نے اپنی شرکت کی تصدیق کر دی ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ مختلف سیاسی نظریات رکھنے کے باوجود اپوزیشن اتحاد پوری طرح متحد ہے۔ ’انڈیا جن بندھن‘ کے نام سے بلائے گئے اس اجلاس میں اتحاد کی آئندہ سیاسی حکمتِ عملی پر تفصیلی تبادلۂ خیال متوقع ہے۔ اجلاس کے دوران آنے والے سیاسی چیلنجز اور مختلف قومی مسائل پر اپوزیشن جماعتوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی کے امکانات کا جائزہ لیا جائے گا۔

اپوزیشن اتحاد کے لیے اہم قدم

کانسٹی ٹیوشن کلب میں ہونے والے اس اجلاس کو اپوزیشن کی یکجہتی کی سمت ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب اتحاد میں شامل جماعتیں مرکزی حکومت کے خلاف اپنے تعاون اور باہمی تال میل کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

23 جماعتوں کی شرکت کی تصدیق

کانگریس کے جنرل سیکریٹری جے رام رمیش نے بتایا کہ 23 جماعتوں نے اجلاس میں شرکت کی تصدیق کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ اتحاد کی بعض حلیف جماعتیں اس اجلاس میں موجود نہیں ہوں گی، پھر بھی وہ مرکزی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف اتحاد کے موقف کی حمایت جاری رکھیں گی۔

جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک پیغام میں کہا کہ بعض جماعتوں نے اپنی مخصوص وجوہات کی بنا پر اس اجلاس میں شرکت نہ کر پانے کی اطلاع دی ہے، لیکن انہوں نے مرکزی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف اپنے سخت موقف کا اظہار کیا ہے۔

ترنمول کانگریس کی پہل پر اجلاس

ذرائع کے مطابق یہ اجلاس اتحادی جماعتوں کے درمیان مشاورت اور آل انڈیا ترنمول کانگریس کے کہنے پر طلب کیا گیا ہے۔ مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی کی اجلاس میں شرکت متوقع ہے۔

تنوع میں اتحاد کی طاقت

ترنمول کانگریس کے راجیہ سبھا رکن ڈیرک اوبرائن نے جے رام رمیش کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے اجتماعی کارروائی کے لیے اتحاد کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک مشترکہ مقصد اور واضح ارادے کے ساتھ یہ اجلاس منعقد کیا جا رہا ہے اور اتحاد میں شامل جماعتیں باہمی بھائی چارے کے جذبے کے ساتھ ایک دوسرے سے ملاقات کے لیے پُرجوش ہیں۔

حکومت کے خلاف مشترکہ موقف

اجلاس کے ایجنڈے پر روشنی ڈالتے ہوئے جے رام رمیش نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں حکومت کے متعدد اقدامات کی مخالفت کے معاملے میں متفق ہیں۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات جن سے لاکھوں شہریوں کے حقِ رائے دہی پر اثر پڑ رہا ہے، آئین پر مسلسل حملے ہو رہے ہیں، تحقیقاتی ایجنسیوں کے ذریعے اپوزیشن لیڈران کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، عوام کی روزی روٹی متاثر ہو رہی ہے، مہنگائی میں اضافہ گھریلو بجٹ پر دباؤ ڈال رہا ہے، نوجوانوں کی امیدوں کو نقصان پہنچ رہا ہے، سرمایہ کاری کا ماحول متاثر ہو رہا ہے اور خارجہ پالیسی کے ذریعے قومی مفادات پر سمجھوتہ کیا جا رہا ہے، ان تمام معاملات پر اپوزیشن جماعتوں کا موقف یکساں ہے۔

بہتر تال میل پر زور

توقع کی جا رہی ہے کہ اجلاس میں اتحادی جماعتوں کے درمیان رابطوں کو مزید مضبوط بنانے اور مستقبل کی سیاسی حکمتِ عملی مرتب کرنے کے لیے جامع گفتگو کی جائے گی۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Mirabai Chanu Silver: اب28 سال کا انتظار ختم! میرابائی چانو نے ایشین گیمز میں جیتا تاریخی سلور

ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…

6 hours ago

Pezeshkian Hits Back At Trump: ’ہم دہشت گرد نہیں، خود دہشت گردی کا شکار ہیں‘، یو این جی اے میں ایرانی صدر کا ٹرمپ پر جوابی حملہ

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…

7 hours ago

Gyanesh Kumar SIR Controversy: ’گیانیش کمار کو گرفتار کرو‘، ایس آئی آر تنازع کے درمیان سنجے راؤت کا بڑا مطالبہ

خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…

7 hours ago

CJP Noida School Visit: گریٹر نوئیڈا میں سی جے پی ترجمان سورَو داس کی مخالفت، اسکول کے معائنے پر گاؤں والوں نے روکا

گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…

8 hours ago

PM Modi Cabinet: ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کام آئے گا افسران کا تجربہ، پی ایم مودی کے نئے انتظامی فارمولوں نے کھینچی توجہ

وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…

8 hours ago