قومی

India-New Zealand Free Trade Agreement: بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان ہوا تاریخی فری ٹریڈ معاہدہ، دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع میں اضافے کی توقع

نئی دہلی: بھارت اور نیوزی لینڈ نے پیر کے روز ایک تاریخی فری ٹریڈ ایگریمنٹ (FTA) پر دستخط کیے، جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو نئی بلندی ملے گی۔ اس معاہدے کے مطابق نیوزی لینڈ کو بھارت سے ہونے والی 100 فیصد برآمدات پر ٹیرف میں مکمل چھوٹ دی جائے گی، جبکہ نیوزی لینڈ سے بھارت آنے والی 95 فیصد اشیا پر یا تو ٹیرف ختم کر دیا گیا ہے یا اسے کم کر دیا گیا ہے۔ یہ معاہدہ بھارت کے وزیر تجارت پیوش گوئل اور نیوزی لینڈ کے ہم منصب ٹاؤڈ میک لے کی موجودگی میں طے پایا۔

ریکارڈ وقت میں مکمل ہونے والا معاہدہ

رپورٹ کے مطابق، 16 مارچ 2025 کو شروع ہونے والے اس معاہدے کو صرف نو ماہ کے ریکارڈ وقت میں مکمل کیا گیا، جس سے دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوا ہے۔ اس معاہدے کے تحت بھارت کو نیوزی لینڈ کی جانب سے تمام ٹیرف مصنوعات پر فوری طور پر 100 فیصد ڈیوٹی فری رسائی حاصل ہوگی۔ یہ رعایت خاص طور پر ان تقریباً 450 ٹیرف مصنوعات کے لیے اہم ہے جن پر اس سے قبل 10 فیصد تک ڈیوٹی عائد تھی، جن میں ٹیکسٹائل، ملبوسات، چمڑے کی مصنوعات، مٹی کے برتن، قالین، گاڑیاں اور ان کے پرزے شامل ہیں۔ معاہدے میں یہ بھی طے پایا ہے کہ نیوزی لینڈ آئندہ 15 برسوں میں بھارت میں 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون مزید مضبوط ہوگا۔

طلبہ اور پیشہ ور افراد کے لیے نئے مواقع

اس ایف ٹی اے میں طلبہ اور پیشہ ور افراد کی نقل و حرکت سے متعلق کئی اہم دفعات بھی شامل ہیں۔ پہلی بار نیوزی لینڈ نے کسی ملک کے ساتھ طلبہ کے لیے اسٹڈی اور ورک ویزا سے متعلق خصوصی معاہدہ کیا ہے۔ اس کے تحت بھارتی طلبہ تعلیم کے دوران ہفتے میں 20 گھنٹے کام کر سکیں گے اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد ورک ویزا حاصل کر سکیں گے۔ اسی طرح، ہنرمند بھارتی پیشہ ور افراد کے لیے بھی بہتر روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس معاہدے کے تحت 5,000 افراد کے کوٹے کے ساتھ عارضی ورک ویزا دیا جائے گا، جس کے تحت وہ تین سال تک وہاں کام کر سکیں گے۔ ’’ورکنگ ہالیڈے ویزا پروگرام‘‘ کے تحت ہر سال 1,000 نوجوان بھارتی شہری 12 ماہ کے لیے نیوزی لینڈ جا سکیں گے اور اس دوران متعدد بار داخلہ لے سکیں گے۔

زرعی اور ڈیری سیکٹر کو تحفظ

بھارت نے اس معاہدے کے دوران اپنے حساس زرعی اور ڈیری سیکٹر کا تحفظ بھی یقینی بنایا ہے۔ دودھ، کریم، مکھن، دہی، پنیر اور دیگر زرعی مصنوعات کو اس ایف ٹی اے سے باہر رکھا گیا ہے، تاکہ مقامی کسانوں اور صنعت کو نقصان نہ پہنچے۔ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور انسانی وسائل کے تبادلے کو نئی رفتار دینے کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Nitin Navin seeking his own identity in the shadow of Yogi: یوگی کے سائے میں اپنی سیاسی شناخت تلاش کرتے نتن نوین

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی صدر نتن نوین آج گورکھپور پہنچے، جہاں…

3 hours ago

Mumbai Airport Flights: ممبئی سے نوی ممبئی منتقل ہوں گی 14 بین الاقوامی پروازیں، غیر ملکی ایئرلائنز نے ’ڈیسٹنیشن بیسڈ‘ منصوبے کی حمایت کی

ممبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل-1 کی ازسرنو تعمیر کے پیش نظر 14 بین الاقوامی مقامات کے…

4 hours ago

PM Modi Critical Minerals Processing Scheme: اب بھارت میں ہی ہوگا لیتھیم اور نکل کی پروسیسنگ، مودی کابینہ نے 2,814 کروڑ روپے کی اسکیم کو دی منظوری

مرکزی حکومت نے ’اہم معدنیات کی پروسیسنگ کو فروغ دینے کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات…

5 hours ago

PM Modi Calls Sharad Pawar Health Update: اسپتال سے ڈسچارج ہوئے شرد پوار، وزیر اعظم مودی نے آرام کرنے کا دیا مشورہ

وزیر اعظم نریندر مودی نے این سی پی (ایس پی) کے سربراہ شرد پوار کو…

6 hours ago