بھارت اور انڈونیشیا نے علاقائی بحری بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے مقصد سے سبانگ بندرگاہ (Sabang Port) کی مربوط ترقی کے لیے ایک اہم اسٹریٹجک شراکت داری کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی اور انڈونیشیا کے صدر پرابوو سبیانتو کے درمیان دوطرفہ مذاکرات کے بعد جاری مشترکہ بیان میں دونوں ممالک نے بندرگاہ، ڈیجیٹل معیشت، خلائی تحقیق، سائنس و ٹیکنالوجی اور پرامن جوہری توانائی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا۔
سبانگ بندرگاہ کی مربوط ترقی پر اتفاق
بھارتی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ بیان کے مطابق صدر پرابوو سبیانتو نے سبانگ بندرگاہ کی مربوط ترقی میں بھارت کی شراکت داری کا خیرمقدم کیا۔ اس منصوبے میں کروز اور سمندری سیاحت کی سہولتیں، جہاز سازی اور جہازوں کی مرمت کی صنعت، نیز بحیرۂ انڈمان میں آف شور توانائی سرگرمیوں کے لیے ساحلی خدمات کی ترقی شامل ہوگی۔ دونوں رہنماؤں نے کہا کہ یہ منصوبہ ادارہ جاتی، طبعی اور ڈیجیٹل رابطوں کو فروغ دے گا، جس سے بھارت کے انڈمان و نکوبار جزائر اور انڈونیشیا کے جزیرہ سماٹرا کے درمیان لوگوں اور تجارتی اشیا کی آمدورفت میں آسانی ہوگی، جبکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ بھارت اور انڈونیشیا نے فضائی اور بحری رابطوں کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا۔ دونوں ممالک نے 2026 کے دوسرے نصف میں منعقد ہونے والے انڈمان-آچے رابطہ کاری مشترکہ ٹاسک فورس کے تیسرے اجلاس سے امید ظاہر کی کہ اس کے ذریعے طے شدہ منصوبوں پر تیزی سے عمل درآمد ممکن ہوگا۔
سائنس، خلائی تحقیق اور جوہری توانائی میں تعاون
دونوں ممالک نے انڈونیشیا اوپن نیٹ ورک (ION) کے آغاز کا خیرمقدم کیا، جو بھارت کے اوپن نیٹ ورک فار ڈیجیٹل کامرس (ONDC) کے ماڈل پر مبنی ہے اور انڈونیشیا کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو سہولت فراہم کرے گا۔ اس کے علاوہ بھارتی ریزرو بینک اور بینک انڈونیشیا کے درمیان سرحد پار کیو آر (QR) ادائیگی نظام پر بھی پیش رفت ہوئی ہے، جس سے طلبہ، سیاحوں اور چھوٹے کاروباروں کے لیے لین دین مزید آسان ہوگا۔ دونوں ممالک نے ٹیلی کمیونی کیشن ٹیکنالوجی اور خدمات کے شعبے میں بھی ایک نئی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے۔ مشترکہ بیان کے مطابق سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ دونوں ممالک نے خلائی تحقیق میں جاری شراکت داری کا جائزہ لیا اور پرامن مقاصد کے لیے خلا کے استعمال سے متعلق اپنے معاہدے میں توسیع کی۔ وزیراعظم مودی نے بھارت کے سیٹلائٹ پروگراموں اور گگن یان مشن کے لیے انڈونیشیا کی حمایت پر اظہارِ تشکر کیا، جبکہ صدر پرابوو نے انڈونیشیا کے مجوزہ اسپیس پورٹ منصوبے میں ممکنہ تعاون کا خیرمقدم کیا۔ دونوں ممالک نے طب، زراعت، آبی وسائل اور صنعتی استعمال کے لیے پرامن جوہری توانائی کے شعبے میں تحقیق، تحفظ اور تکنیکی تعاون کو بھی آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
اس حساب سے اگر تقریباً 5 سیکنڈ کی اے آئی ویڈیو تیار کی جائے تو…
تمل ناڈو حکومت نے پیروُنتھلایور کامراج ناشتہ اسکیم کے بہتر نفاذ کے لیے حکام کو…
ساحل کے والد نے صرف استاد کے خلاف ہی نہیں بلکہ فیکلٹی کے سینئر افسران…
اویسی نے حال ہی میں بھوپال میں منعقد اپنے پروگرام کا بھی ذکر کیا۔ وہاں…
واقعے کے بعد سرکاری طبی مرکز میں آگ سے بچاؤ کے انتظامات پر بھی سوال…
پریم سنگھ کے پاس اس وقت تقریباً 6.3 کلوگرام سونا ہے، جسے وہ روزانہ پہن…