قومی

India 2047: Marching Towards a Self-Reliant Future: ہندوستان 2047: خود انحصار مستقبل کی طرف پیش قدمی

تحریراز:ایڈوکیٹ طاہر

جب ہم آزادی کے سو سال مکمل ہونے کے قریب ہیں، بھارت ایک عظیم تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب ہم ایک ایسی قوم کی تعمیر کی طرف بڑھ رہے ہیں جو نہ صرف خود انحصار ہو بلکہ عالمی سطح پر ایک رہنما کے طور پر ابھرے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں، بھارت نے اپنی معاشی، سماجی، اور تکنیکی صلاحیتوں کو تقویت دینے کے لیے ایک واضح روڈ میپ تیار کیا ہے۔ ویژن 2047 اس عظیم خواب کا عکاس ہے، جس کا مقصد بھارت کو ایک ترقی یافتہ، جامع، اور پائیدار قوم بنانا ہے۔

معاشی طاقت: ترقی یافتہ بھارت کا ستون

معاشی خود انحصاری ویژن 2047 کا بنیادی ستون ہے۔ بھارت، جو فی الحال دنیا کی پانچویں سب سے بڑی معیشت ہے، 2030 تک تیسری سب سے بڑی معیشت بننے کی راہ پر گامزن ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق، بھارت کی جی ڈی پی 2027 تک 5 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، اور 2047 تک یہ 30 ٹریلین ڈالر تک جا سکتی ہے۔ اس ترقی کو مینوفیکچرنگ، ڈیجیٹل معیشت، اور قابل تجدید توانائی جیسے شعبوں کی بدولت ممکن بنایا جا رہا ہے۔

آتما نربھر بھارت مہم نے مقامی پیداوار کو فروغ دیا ہے، جس سے درآمدات پر انحصار کم ہوا ہے۔ مثال کے طور پر، الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ پچھلی دہائی میں پانچ گنا بڑھ کر 11 لاکھ کروڑ روپے سے زائد ہو گئی ہے، جبکہ برآمدات 3.25 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہیں۔ پروڈکشن لنکڈ انسینٹو (پی ایل آئی) اسکیم نے عالمی کمپنیوں جیسے ایپل اور سیمسنگ کو بھارت میں مینوفیکچرنگ یونٹس قائم کرنے کی ترغیب دی ہے۔ اسی طرح، دفاعی شعبے میں خود انحصاری نے مقامی طور پر تیار کردہ ہتھیاروں اور آلات کی پیداوار کو بڑھایا ہے، جس سے بھارت اپنی دفاعی ضروریات کا 70 فیصد سے زیادہ خود پورا کر رہا ہے۔

تکنیکی انقلاب: ڈیجیٹل بھارت کی قیادت

بھارت کی تکنیکی ترقی اسے عالمی جدت کا مرکز بنا رہی ہے۔ ڈیجیٹل انڈیا پروگرام نے دیہی اور شہری علاقوں کو جوڑ کر ایک جامع ڈیجیٹل ایکو سسٹم بنایا ہے۔ یو پی آئی، جو دنیا کا سب سے بڑا ڈیجیٹل ادائیگیوں کا نظام ہے، ماہانہ 15 ارب سے زائد لین دین کو سنبھالتا ہے۔ بھارت کا اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم، جو دنیا کا تیسرا سب سے بڑا ہے، 100,000 سے زائد اسٹارٹ اپس اور 110 سے زائد یونی کارنز پر مشتمل ہے۔

مصنوعی ذہانت (اے آئی)، کوانٹم کمپیوٹنگ، اور 5G ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں بھارت کی سرمایہ کاری اسے مستقبل کی ٹیکنالوجیز میں رہنما بنا رہی ہے۔ نیشنل کوانٹم مشن اور نیشنل اے آئی اسٹریٹجی 2047 تک بھارت کو ان شعبوں میں عالمی رہنما بنانے کے لیے تیار کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ، بھارت کی خلائی تحقیق میں پیش رفت، جیسے چندریان اور گگنایان مشن، اس کی سائنسی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر اجاگر کر رہی ہے۔

پائیدار ترقی: سبز مستقبل کی بنیاد

ویژن 2047 میں پائیداری ایک اہم جزو ہے۔ بھارت نے 2070 تک نیٹ زیرو ایمیشنز کا ہدف مقرر کیا ہے، اور اس سمت میں تیزی سے پیش رفت کر رہا ہے۔ قابل تجدید توانائی کی صلاحیت 2024 تک 200 گیگاواٹ سے تجاوز کر گئی ہے، اور 2030 تک 500 گیگاواٹ تک پہنچنے کا ہدف ہے۔ نیشنل گرین ہائیڈروجن مشن بھارت کو صاف توانائی کا عالمی مرکز بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

شہری ترقی کے لیے، بھارت سمارٹ سٹیز مشن کے تحت 100 سے زائد شہروں کو جدید بنانے پر کام کر رہا ہے۔ واٹر مینجمنٹ اور ویسٹ ری سائیکلنگ جیسے اقدامات ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، ایگریکلچر سیکٹر میں ڈرون ٹیکنالوجی اور پریسجن فارمنگ کے استعمال سے پیداوار بڑھائی جا رہی ہے، جبکہ ماحولیاتی نقصان کو کم کیا جا رہا ہے۔

سماجی شمولیت: سب کے لیے ترقی

بھارت کا ویژن 2047 صرف معاشی یا تکنیکی ترقی تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک جامع معاشرے کی تعمیر پر زور دیتا ہے۔ غربت کے خاتمے کے لیے، بھارت نے 2014 سے اب تک 25 کروڑ سے زائد لوگوں کو غربت سے نکالا ہے۔ جن دھن یوجنا نے 50 کروڑ سے زائد بینک اکاؤنٹس کھول کر مالیاتی شمولیت کو فروغ دیا ہے۔صحت اور تعلیم کے شعبوں میں بھی نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ آیوشمان بھارت اسکیم 50 کروڑ سے زائد لوگوں کو مفت صحت سہولیات فراہم کر رہی ہے۔ نیشنل ایجوکیشن پالیسی (این ای پی) 2020 نے تعلیمی نظام کو جدید اور ملازمت پر مبنی بنانے پر زور دیا ہے۔ خواتین کی بااختیاری کے لیے، بھارت نے متعدد اسکیمیں شروع کی ہیں، جن کی بدولت خواتین کی لیبر فورس میں شرکت بڑھ کر 37 فیصد ہو گئی ہے۔

چیلنجز اور آگے کا راستہ

اگرچہ بھارت کی پیش رفت قابل ستائش ہے، لیکن چیلنجز اب بھی موجود ہیں۔ آبادی کا دباؤ، علاقائی عدم مساوات، اور عالمی معاشی اتار چڑھاؤ بھارت کے لیے رکاوٹیں پیدا کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، سائبر سیکیورٹی اور جغرافیائی سیاسی تناؤ جیسے مسائل بھی توجہ طلب ہیں۔ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے، بھارت کو اپنی گورننس کو مضبوط کرنا ہوگا، بیوروکریسی کو کم کرنا ہوگا، اور نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری کو فروغ دینا ہوگا۔ عالمی تعاون، خاص طور پر سارک اور کواڈ جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے، بھارت کی سفارتی اور معاشی پوزیشن کو مضبوط کرے گا۔

بھارت 2047 کا ویژن ایک ایسی قوم کا خواب ہے جو خود انحصار، تکنیکی طور پر جدید، اور سماجی طور پر جامع ہو۔ معاشی ترقی، تکنیکی جدت، پائیدار ترقی، اور سماجی شمولیت کے امتزاج سے، بھارت عالمی رہنما کے طور پر ابھرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ سفر آسان نہیں ہوگا، لیکن بھارت کی لچک، تنوع، اور عزم اسے اپنے مقاصد تک پہنچانے کے لیے کافی ہیں۔ جیسا کہ وزیر اعظم مودی نے کہا، “یہ بھارت کا امرت کال ہے، جہاں ہر شہری اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر قوم کی ترقی میں حصہ ڈال رہا ہے۔” 2047 تک، بھارت نہ صرف ایک ترقی یافتہ قوم ہوگا بلکہ دنیا کے لیے ایک رہنما اصول بھی بنے گا۔

بھارت ایکسپریس۔

Rahmatullah

Recent Posts

Navi Mumbai Airport: نوی ممبئی ایئرپورٹ سے اب سفر ہوگا انتہائی آسان، اڈانی گروپ نے شروع کیں ای-شیوائی بسیں

موسم سرما کے شیڈول سے قبل نوی ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے مناسب کرائے والی…

6 hours ago

British Airways Emergency: برٹش ایئرویز کی پرواز میں اچانک ایمرجنسی، 37 ہزار سے 9 ہزار فٹ تک نیچے آیا بوئنگ 777، لندن ڈائیورٹ

لندن ہیتھرو سے شکاگو جا رہی برٹش ایئرویز کی BA295 پرواز نے آئرلینڈ کے اوپر…

6 hours ago