قومی

Adani Group’s Vizhinjam International Seaport: ویژنجم انٹرنیشنل ڈیپ واٹر سی پورٹ فیز 2 کا آغاز، کیرالہ کی سمندری طاقت کو نئی رفتار

نئی دہلی:کیرالہ جمعہ کے روز اپنی سمندری اہمیت کو مضبوط بنانے کی سمت ایک بڑا قدم اٹھانے جا رہا ہے، جب اڈانی گروپ کے ویژنجم انٹرنیشنل ڈیپ واٹر سی پورٹ کے فیز دوم کی تعمیر کا باضابطہ آغاز کیا جائے گا۔ اس توسیعی مرحلے کا مقصد ویژنجم کو بھارت کا سب سے بڑا ٹرانس شپمنٹ حب بنانا ہے۔ تقریب میں کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پنارائی وجین 9,700 کروڑ روپے کے ترقیاتی منصوبے کا افتتاح کریں گے، جب کہ مرکزی وزیر برائے بندرگاہیں، جہاز رانی اورآبی گذرگاہیں سربانند سونووال بطورمہمان خصوصی شرکت کریں گے۔ ریاستی وزیر برائے بندرگاہیں وی این وساون نے کہا کہ فیز دوم ویزجنم بندرگاہ کی صلاحیت، بنیادی ڈھانچے اور عالمی مسابقت میں نمایاں اضافہ کرے گا۔
اڈانی گروپ کے منیجنگ ڈائریکٹر کرن اڈانی تقریباً شام 4:30 بجے اجتماع سے خطاب کریں گے، جس میں وہ منصوبے کی اب تک کی پیش رفت اور تجارت، روزگار کے مواقع اور علاقائی معاشی ترقی پر اس کے طویل مدتی اثرات کو اجاگر کریں گے۔ اس اہم موقع پر صنعت سے وابستہ اسٹیک ہولڈرز، پالیسی ساز اور لاجسٹکس کے ماہرین گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ اس منصوبے کو خطے کی اقتصادی سمت بدلنے والا سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

وزیر کے مطابق ویژنجم بندرگاہ نے ایک سال سے بھی کم عرصہ قبل تجارتی سرگرمیاں شروع کی ہیں اور اب فیز دوم کے تحت اس کی کنٹینر ہینڈلنگ صلاحیت میں پانچ گنا اضافہ کیا جائے گا۔ سالانہ گنجائش ایک ملین ٹی ای یوز سے بڑھ کر پانچ ملین ٹی ای یوز تک پہنچ جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ برتھ کی لمبائی 800 میٹر سے بڑھا کر 2,000 میٹر کر دی جائے گی، جب کہ بریک واٹر کو چار کلومیٹر تک توسیع دی جائے گی، جس سے بیک وقت متعدد الٹرا لارج کنٹینر جہازوں کو سنبھالنا ممکن ہوگا۔ویزیجنم بھارت کی سب سے بڑی اسٹریٹ برتھ بندرگاہ کے طور پر ابھرے گا، جہاں ایک ہی وقت میں چار مدر شپ لنگر انداز ہو سکیں گی۔ توسیعی منصوبے میں ریلوے یارڈ، ملٹی پرپز برتھ، لیکوئڈ ٹرمینل اور ٹینک فارم جیسی نئی سہولیات بھی شامل ہیں۔ لیکوئڈ ٹرمینل کے ذریعے بڑے بحری جہازوں کو ایندھن کی فراہمی ممکن ہوگی، جو طویل بین الاقوامی سفر کے دوران ایک اہم سہولت سمجھی جاتی ہے اور اس وقت دنیا کی چند ہی بندرگاہوں پر دستیاب ہے۔

وزیر وساون نے بتایا کہ فیز 2 کے لیے کسی اضافی اراضی کے حصول کی ضرورت نہیں ہوگی۔ تقریباً 55 ہیکٹیئر رقبہ سمندر سے زمین حاصل کر کے تیار کیا جائے گا، جب کہ کنٹینر یارڈ کی گنجائش 35 ہزار یونٹس سے بڑھا کر ایک لاکھ یونٹس کر دی جائے گی۔ بندرگاہ پر کرینوں کی مجموعی تعداد 100 تک پہنچ جائے گی، جن میں 30 جدید شپ ٹو شور کرینیں شامل ہوں گی۔ابتدائی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ ویژنجم بندرگاہ اب تک 710 جہازوں کے ذریعے 15 لاکھ سے زائد ٹی ای یوز سنبھال چکی ہے اور یورپ، امریکا، افریقہ اور ایشیا کی بندرگاہوں کے لیے براہ راست سروسز قائم ہو چکی ہیں۔ اگرچہ بندرگاہ کی مکمل ترقی کا ہدف ابتدا میں 2045 مقرر تھا، تاہم 2023 میں طے پانے والے ضمنی معاہدے کے بعد اب اسے 2028 تک مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔حکومت کا ماننا ہے کہ مشرق و مغرب کی بڑی شپنگ گزرگاہوں کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے ویزجنم بندرگاہ نہ صرف بین الاقوامی تجارت کو اپنی جانب متوجہ کرے گی بلکہ کیرالہ کے لیے بھاری ٹیکس آمدنی اور روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کرے گی۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

India-Switzerland Partnership: بھارت-سوئٹزرلینڈ شراکت داری کو نئی رفتار، مائیگریشن سے ٹیکنالوجی اور اسٹارٹ اپس تک 5 اہم معاہدے طے

سوئس صدر گائے پرمیلن کے دورۂ ہند کے دوران دونوں ممالک کے درمیان پانچ اہم…

24 minutes ago

Nobel Prize in Medicine 2026: کارل ڈائسروتھ، پیٹر ہیگیمن اور جارج ناگل مشترکہ طور پر طب کے نوبل اعزاز سے سرفراز

2026 کے نوبیل انعامات کے شیڈول کے مطابق پیر کو میڈیسن کے انعام کا اعلان…

1 hour ago

India Switzerland Talks: وزیراعظم مودی اور سوئس صدر گائے پارمیلن کی وفد کی سطح پر ملاقات، دوطرفہ تعاون پر تبادلۂ خیال

وزیراعظم نریندر مودی اور سوئٹزرلینڈ کے صدر گائے پارمیلن نے پیر کے روز نئی دہلی…

2 hours ago