کانگریس نے اتر پردیش میں تنظیمی تبدیلی کرتے ہوئے آرادھنا مشرا ’مونا‘ کو ریاستی صدر اور سہارنپور کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود کو کارگزار صدر مقرر کیا ہے۔ اس فیصلے کو ایک طرف مسلم برادری میں اپنی سیاسی گرفت مضبوط کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تو دوسری طرف اسے سماج وادی پارٹی اور اکھلیش یادو کے لیے ایک اہم سیاسی پیغام بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ 2027 کے اسمبلی انتخابات سے پہلے کانگریس کے اس قدم نے اتر پردیش کی سیاست میں مسلم ووٹوں، سیٹوں کی تقسیم اور اپوزیشن کی یکجہتی کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سوال یہ ہے کہ عمران مسعود کو نئی ذمہ داری سونپنے سے 2027 میں کانگریس کی دعوے داری کتنی مضبوط ہوگی اور کیا اس سے انڈیا اتحاد کے اندر سیٹوں کی تقسیم پر اختلافات بڑھ سکتے ہیں؟
گاندھی جینتی پر ایک ’سیاسی خط‘
2 اکتوبر 2026 کو جب پورا ملک مہاتما گاندھی اور لال بہادر شاستری کو خراج عقیدت پیش کر رہا تھا، اسی دن دہلی میں کانگریس کے مرکزی دفتر سے اتر پردیش کی تنظیم میں تبدیلی کا اعلان کیا گیا۔ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے آرادھنا مشرا ’مونا‘ کو ریاستی کانگریس کی کمان سونپی، جبکہ سہارنپور کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود کو کارگزار صدر بنایا گیا۔
یہ تبدیلی بظاہر تنظیمی تقرری تھی، لیکن اس کے سیاسی مضمرات کہیں زیادہ وسیع ہیں۔ اس فیصلے کو محض مسلم برادری تک پہنچنے کی کوشش سمجھنا کافی نہیں ہوگا، کیونکہ اس کے ذریعے کانگریس اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی کے ساتھ اپنے تعلقات اور آئندہ انتخابات میں اپنی حیثیت پر بھی نظرثانی کرتی دکھائی دے رہی ہے۔
محض تنظیمی تبدیلی نہیں، سماجی توازن قائم کرنے کی کوشش
اگست 2023 سے ریاستی کانگریس کی قیادت کر رہے اجے رائے کی جگہ اب آرادھنا مشرا ’مونا‘ نے لی ہے۔ اجے رائے نے تنظیم میں جارحانہ انداز اپنایا تھا، لیکن کانگریس مغربی اتر پردیش اور دلت مسلم ووٹوں کے درمیان اپنی گرفت مضبوط نہیں کر پا رہی تھی۔ آرادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی روایتی رام پور خاص اسمبلی سیٹ سے مسلسل تین بار رکن اسمبلی منتخب ہو چکی ہیں۔ وہ اسمبلی میں کانگریس قانون ساز پارٹی کی سابق رہنما بھی رہی ہیں اور راجیہ سبھا میں پارٹی کے نائب رہنما پرمود تیواری کی سیاسی جانشین سمجھی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ، اسمبلی میں کانگریس قانون ساز پارٹی کی قیادت چودھری ویریندر سنگھ کو سونپ کر پارٹی نے مغربی اتر پردیش کے کسانوں اور دیگر پسماندہ طبقات، خصوصاً گجر برادری، کو بھی نمائندگی دینے کی کوشش کی ہے۔
کانگریس کا نیا تنظیمی ڈھانچہ
کانگریس کی نئی تقرریوں کو مختلف سماجی طبقات کے درمیان توازن قائم کرنے کی حکمت عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اعلیٰ ذات اور برہمن طبقہ: ریاستی صدر آرادھنا مشرا ’مونا‘۔
اقلیتی اور مسلم طبقہ: کارگزار صدر عمران مسعود۔
دلت طبقہ: آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے ریاستی انچارج راجندر پال گوتم۔
کسان اور دیگر پسماندہ طبقات: قانون ساز پارٹی کے رہنما چودھری ویریندر سنگھ۔
یہ حکمت عملی کانگریس کے اس روایتی سماجی اتحاد کی یاد دلاتی ہے جس کے سہارے پارٹی نے 1952 سے 1989 تک اتر پردیش کی سیاست میں نمایاں برتری حاصل کی تھی۔ اس اتحاد میں برہمن، دلت اور مسلمان اہم ستون تھے۔ تاہم، رام مندر تحریک اور منڈل کمیشن کے بعد ریاست کی سیاست میں بڑی تبدیلیاں آئیں۔ برہمن ووٹروں کا ایک حصہ بی جے پی کی طرف گیا، دلتوں میں کانشی رام اور مایاوتی کی بہوجن سماج پارٹی کو حمایت ملی، جبکہ مسلمانوں کی بڑی تعداد سماج وادی پارٹی کے قریب ہوگئی۔
پرانے سماجی اتحاد اور اکھلیش یادو کے ’پی ڈی اے‘ میں ٹکراؤ
کانگریس جس برہمن، دلت اور مسلم اتحاد کو دوبارہ مضبوط کرنا چاہتی ہے، اسی میدان میں اکھلیش یادو کا ’پی ڈی اے‘ یعنی پسماندہ طبقات، دلت اور اقلیتوں کا سیاسی اتحاد پہلے سے موجود ہے۔
سیاسی اعتبار سے کانگریس کی کوشش کو اپنے روایتی ووٹ بینک کی بحالی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، لیکن اس کے لیے اسے سماج وادی پارٹی کے موجودہ سیاسی اثر و رسوخ کا بھی سامنا کرنا ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ عمران مسعود کی تقرری کو کانگریس کی تنظیمی تبدیلی کے ساتھ ساتھ اتحادی سیاست میں اپنی جگہ مضبوط کرنے کی کوشش بھی سمجھا جا رہا ہے۔
مسلم ووٹوں تک براہِ راست پہنچنے کی کوشش
2011 کی مردم شماری اور موجودہ اندازوں کے مطابق اتر پردیش کی مجموعی آبادی میں مسلمانوں کا حصہ تقریباً 19 سے 20 فیصد ہے۔ مغربی اتر پردیش کے سہارنپور، مظفرنگر، مرادآباد، رام پور، بجنور، سنبھل، امروہہ اور بریلی جیسے اضلاع میں مسلم آبادی کا تناسب بعض علاقوں میں 30 سے 45 فیصد تک بتایا جاتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
مرکزی حکومت کی وزیر اعظم روزگار تخلیق پروگرام اسکیم سے چھتیس گڑھ کے نوجوانوں کو…
راہل گاندھی نے کہا کہ اب مرکزی حکومت کو برطرف کرنا ہوگا، کیونکہ انہیں انتخابی…
وزیر اعظم مودی نے آسام، مغربی بنگال اور پڈوچیری کے ضمنی انتخابات کے نتائج پر…
ای روپے کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگی قبول کرنے والے دکانداروں کو بینک چارجز سے بچنے…
مرکزی وزیر داخلہ نے یوم پیدائش پر فون کرکے دی مبارک باد دی، دونوں لیڈروں…
اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندے پی ہریش نے وزیر داخلہ امت شاہ کے…