نئی دہلی : دارالحکومت دہلی کے شالیمار باغ علاقے میں میکس اسپتال روڈ کی توسیع کے تحت دیر رات انتظامیہ نے تجاوزات ہٹانے کی بڑی کارروائی کی۔ اس دوران مدینہ مسجد اور اس کے آس پاس بنے کئی مکانات سمیت سڑک پر موجود مبینہ غیر قانونی قبضے ہٹا دیے گئے۔ کارروائی کے دوران موقع پر بھاری پولیس فورس تعینات رہی۔مدینہ مسجد کے خلاف کارروائی کی خبر پھیلتے ہی علاقے میں کشیدگی کا ماحول بن گیا۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر اے آئی ایم آئی ایم کے دہلی ریاستی صدر شعیب جمائی رات تقریباً 11:30 بجے شالیمار باغ پہنچے۔ انہوں نے مقامی لوگوں سے ملاقات کی اور کارروائی کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت کی۔
مسجد سے قرآن نکالنے تک کی مہلت نہیں دی گئی: امام
شعیب جمائی نے کہا کہ شالیمار گاؤں میں مسجد سے متعلق معاملہ عدالت میں زیر سماعت تھا، اس کے باوجود رات کے اندھیرے میں علاقے کی تمام لائٹس بند کرکے بلڈوزر سے کارروائی کی گئی۔انہوں نے کہا کہ مسجد کے امام اور مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں مسجد کے اندر سے قرآن پاک اور دیگرمذہبی کتابیں نکالنے تک کا وقت نہیں دیا گیا۔ شعیب جمائی نے اس کارروائی پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ دارالحکومت میں لوگوں کو اطلاع دیے بغیر رات کے اندھیرے میں اس طرح کی کارروائی قابل مذمت ہے۔شعیب جمائی نے دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ جب اسی علاقے میں ہندو خاندانوں کے گھروں پر بلڈوزر کارروائی ہوئی تھی، تب بھی انہوں نے آوازاٹھائی تھی اوراب مسجد کے خلاف کارروائی پر بھی احتجاج کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیراعلیٰ کے اپنے علاقے میں ان کی ہدایت پر بلڈوزر چلایا گیا۔
#WATCH | Delhi | A demolition drive was conducted by civic authorities on Max Hospital Road in Shalimar Bagh late last night. pic.twitter.com/XfpoHcQtEL
— ANI (@ANI) September 23, 2026
امام نے انتظامیہ کے دعوے پر اٹھائے سوال
مدینہ مسجد کے امام ظریف الرحمن نے انتظامیہ کی جانب سے مسجد کو غیر قانونی قرار دیے جانے پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ شالیمار میں تقریباً ہر گھر جنرل پاور آف اٹارنی (جی پی اے) کی بنیاد پر بنا ہوا ہے اور پورا علاقہ اسی دستاویز کے سہارے آباد ہوا ہے، لیکن صرف مسجد کو غیر قانونی قرار دیا جا رہا ہے۔امام نے اسے امتیازی رویہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے وکیل کے ذریعے عدالت میں اپنا موقف پیش کیا اور تمام ضروری دستاویزات جمع کرائے تھے۔
दिल्ली शालीमार बाग़ की मस्जिद का ये अभी का वीडियो है
मस्जिद के ऊपर के दो माले तोड़ दिए गए है
आस पास के मकान भी जमीदोज़ कर दिए गए है.. pic.twitter.com/rAL67omss3
— 𓂆 ᵐᵗᵠ (@55MTQ_) September 23, 2026
نوٹس کے ایک دن بعد میونسپل کارپوریشن کی کارروائی
Delhi: A late-night demolition drive was conducted on Max Hospital Road in Shalimar Bagh as part of a reported road-widening project, targeting remaining encroachments, including Madina Masjid and nearby houses,
President Madina Masjid, Movin Khan says, “… On the lawyer’s… pic.twitter.com/k6I6udo772
— IANS (@ians_india) September 23, 2026
امام ظریف الرحمن کے مطابق عدالت میں معاملہ پیش کیے جانے کے بعد عدالت نے میونسپل کارپوریشن کو نوٹس بھیجا تھا۔ میونسپل کارپوریشن نے انہیں سماعت کے لیے بلایا، جہاں مسجد سے متعلق تمام دستاویزات اور اپنا موقف پیش کیا گیا۔ان کے مطابق سماعت کے اگلے ہی دن میونسپل کارپوریشن نے نوٹس جاری کرتے ہوئے مسجد کو 15 دن کے اندر خود ہٹانے یا بلدیاتی کارروائی کے لیے تیار رہنے کو کہا۔ اس کے بعد وہ دوبارہ عدالت گئے، جہاں انہیں صرف گراؤنڈ فلور کے لیے حکمِ امتناع ملا، جب کہ اوپری منزلوں کے لیے کوئی راحت نہیں ملی۔
شالیمار باغ میں بھاری سکیورٹی، سوربھ بھاردواج بھی پہنچے
کارروائی کے دوران امن و امان برقرار رکھنے اور کسی بھی ممکنہ احتجاج یا کشیدگی سے نمٹنے کے لیے پورے شالیمار باغ علاقے میں بھاری سکیورٹی تعینات کی گئی۔ دہلی پولیس کے ساتھ نیم فوجی دستوں کی کئی ٹکڑیاں بھی حساس علاقوں میں تعینات رہیں۔بلڈوزر کارروائی کے بعد دہلی کی سیاست بھی گرم ہوگئی۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر عام آدمی پارٹی کے سینئر لیڈر اور رکن اسمبلی سوربھ بھاردواج دیر رات موقع پر پہنچے۔ انہوں نے متاثرہ لوگوں سے ملاقات کی اور انتظامیہ کی اچانک کارروائی کی مخالفت کرتے ہوئے اسے آمریت قرار دیا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت اور ایران کے درمیان مقابلے کے پہلے ہاف میں زبردست کشمکش دیکھنے کو ملی۔…
وزیر اعظم نے کہا کہ اس اسکیم نے علاج کے اخراجات میں ریکارڈ بچت کو…
امت شاہ نے ’’ویژن ڈاکیومنٹ 2026-2029‘‘ کو منشیات کے خطرے کے خلاف جنگ میں شامل…
25 ستمبر سے موسم میں معمولی تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ…
سورو داس نے کہا کہ اگر دہلی پولیس کے پاس ان کے، احتجاج یا سپریم…
پی این بی نے یوزر کو بھیجے گئے ٹیکسٹ پیغام میں آنے والی ہڑتال کے…